دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

٭ خائِف کے لیے ہی رِجا دُرُسْت ہے۔

٭ خوف مُذکَّر ہے اور مَحبَّت مُؤنَّث، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اکثر صُوفی بُزرگ مَحبَّت کی دعوت دیتے ہیں۔

قول کی وضاحت

حضرت سَیِّدُنا سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے اس فرمان سے مُراد یہ بیان کرنا ہے کہ خوف کو رِجا پر  وُہی فضیلت حاصِل ہے جو مُذکَّر کو مُؤنَّث پر حاصِل ہے اور حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَاد فرمایا ہے۔ اس لیے کہ خوف عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کا حال ہے جبکہ رِجا عامِلین (یعنی عابِدین)کا وَصْف ہے، لہٰذا اسے وُہی فضیلت حاصِل ہے جو عِلْم کو عَمَل پر حاصِل ہے۔ جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ مکّی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:عالِم کی عابِد پر فضیلت ایسی ہے جو چاند کی تمام سِتاروں پر ہے۔ [1] ایک رِوایَت میں ہے کہ سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:عِلْم کی فضیلت مجھے عَمَل  کی فضیلت سے زیادہ مَحْبُوب ہے اور تمہارا بہترین دین وَرَع ہے۔ [2]

عُلَمائے كِرام كے نزدیک خوف كی حقیقت

عُلَمائے كِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام كے نزدیك خوف وه نہیں جو عام لوگوں کے تصوّر میں ہے، یعنی عام لوگ خوف کو رنج و غم، قَلَق و اِحتراق یا اِضْطِرَاب و پریشانی سمجھتے ہیں جبکہ عُلمائے کِرام کا خَیال اس کے برعکس ہے، کیونکہ یہ سب باتیں تو آہ و زاری کرنے والے کے لئے خطرات، اَحْوَال اور وِجدان کی حَیْثِیَّت رکھتی ہیں جن کا حقیقی عِلْم سے کوئی تعلّق نہیں، یہ ایسے ہی ہے جیسے اَحْوَالِ مَحبَّت میں بعض صُوفی عارِفین وِجدانی کیفیات میں ان کی طرح تڑپتے پھڑکتے ہیں۔ عُلَمائے کِرام کے نزدیک خوف دُرُسْت عِلْم اور سچّے مُشاہَدے کا نام ہے۔ چنانچہ جب کسی بندے کو عِلْم کی حقیقت اور یقین کی سچّائی مِل جائے تو اسے خائِف کہا جاتا ہے۔

اوصافِ سرکار

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مخلوق میں سب سے زیادہ خوف رکھنے والے تھے جس پر بَہُت سی باتیں دَلَالَت کرتی ہیں، ان میں سے چند دَرْج ذیل ہیں:

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عِلْم کی حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے۔ 

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام لوگوں سے زیادہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے مَحبَّت کرنے والے تھے۔

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قُرْبِ خُداوندی کی اِنتِہا پر فائز تھے۔

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حال دونوں مَقامات پر سکینہ و وَقار کا تھا۔

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام اَحْوَال میں برتری وثابِت قَدَمی حاصِل تھی۔

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَوصَافِ حَمیدہ میں قَلَق و اِضْطِرَاب تھا نہ رنج و پریشانی۔

٭ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام مخلوق کی عَقْل اور عِلْم سے کئی گنا بڑھ کر فَہم و عِلْم عَطا ہوا۔

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قَلْبِ اَطہر مخلوق کے لیے وُسْعَت رکھتا تھا۔

٭ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سینہ مُبارَک مَخلوق کی اِیذا پر صَبْر کے لیے کُشادہ تھا۔

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک اَعرابی سے اس کے مِزاج کے مُطابِق پیش آتے۔

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بچوں سے ان کے مِزاج کے مُطابِق پیش آتے۔

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عورتوں سے ان کے مِزاج کے مُطابِق سُلُوک فرماتے۔

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کو ان کے عِلْم کے مُطابِق قُرْبَت عَطا فرماتے۔

٭ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کی عَقْلوں کے مُطابِق ان سے مُخَاطِب ہوتے۔   

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وِجدان کا ظُہُور لوگوں کے وِجدان کی مِثل ہوتا:

٭ تاکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کو ان کے حصّے کے مُطابِق اُنس و مَحبَّت سے نوازیں اور ان کے فَہم و اِدراک کے مُطابِق ان کے حُقوق پورے فرمائیں۔

٭تاکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہَیْبَت ان کے دِلوں میں اس قَدْر عظیم نہ ہو جائے کہ وہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں سوال کرنے سے کَتْرَانے لگیں اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحبَّت ان کے دِلوں سے خَتْم ہونے لگے۔ 

٭ اس میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حِکْمَت کارفرما تھی جسے لوگ جانتے نہ تھے۔

٭ اس میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فطری رَحْمَت بھی شامِل تھی۔

٭ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بغیر کسی تَـکَلُّف و تَصَنُّع کے لوگوں کے وِجدانوں کے اِعْتِبَار سے ان کے لِباس اور رنگ کو خود پر طارِی کر لیا تھا۔

٭ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن