30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آنکھ کے آنسو بہتر ہیں یا دل کی سختی؟
انسان کو دل کی سختی میں آنکھ کے آنسو عَطا کیے جانے سے بہتر ہے کہ اسے آنکھوں کی خشکی میں دل کی نرمی مِل جائے۔اَہْلِ قُلُوب کے نزدیک رِقَّتِ قلبی ہی دل کا خُشوع ، خوف اور اس کی عاجِزی و اِنکساری ہے۔ جس کے دل میں اس کی دولت مَوجُود ہو اسے آنکھ کے آنسوؤں کا نہ بہنا نُقْصَان دہ نہیں۔ البتہ! اگر آنسو بہانے کی سَعَادَت بھی مِل جائے تو یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خاص فَضْل ہے۔ لیکن جس شخص کو آنکھ کے آنسو تو عَطا ہوئے مگر دل کا خُشوع اور اس کی عاجِزی و اِنکساری نہ مِلی تو وہ شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خُفْیَہ تدبیر کا شِکار ہے۔ یہی حقیقی محرومی اور عَدَمِ نَفْع ہے۔
آنکھ کے یہ آنسو صِرف عَقْلی عِلْم میں ہوتے ہیں اور مُشاہَدۂ یقین سے حاصِل ہونے والے عِلْمِ توحید میں کسی قِسْم کی کوئی آہ و بُکا نہیں ہوتی۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے رونے والوں کے اَوصَاف بیان کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩(۱۰۹) (پ ۱۵، بنی اسرآئیل:۱۰۹)
ترجمۂ کنز الایمان:روتے ہوئے اور یہ قرآن ان کے دل کا جھکنا بڑھاتا ہے۔
جب رونا ہمارے فخر و تکبُّر کو زیادہ کرے تو ہمیں جان لینا چاہئے کہ دل میں خُشوع مَوجُود نہیں ، بلکہ یہ رونا مصنوعی ہے اور مَـخْفِی آفاتِ نَفْس کو پسند کرنا ہے۔
سب سے اعلیٰ خوف یہ ہے کہ بندے کی تقدیر میں اَزَل سے کیا لکھا گیا ہے اور اس کا خاتِمہ کیسا ہو گا؟ جیسا کہ ایک عارِف فرماتے ہیں کہ میرا آہ و بُکا کرنا اور غَم کرنا اپنے گناہوں اور خواہشات پر نہیں کیونکہ یہ تو میرے اَخلاق و اَوصَاف ہیں جو میرے عِلاوہ کسی کے لائق نہیں۔ بلکہ میرا غم اور حَسْرَت تو اس بات پر ہے کہ جب قِسْمَت کا فیصلہ ہو رہا تھا اور بندوں میں نعمتیں بَٹ رہی تھیں تو میری قِسْمَت اور نصیب کیسا تھا؟
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہم نے جو کچھ ذِکْر کیا ہے یہ ان تمام عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کا خوف ہے جو اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے وارِث ہیں، ان کا شُمار اَبدالوں، مُتَّقِیْن کے اِماموں اور اَہْلِ قوّت میں ہوتا ہے۔
حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے عَرْض کی گئی:کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی کو مِثْقَال بھر خوف بھی عَطا کرتا ہے۔ فرمایا: ہاں! بعض مومنین کو پہاڑ کے برابر خوف عَطا کرتا ہے۔ عَرْض کی گئی: پھر ان کی حَالَت کیسی ہوتی ہے؟ کیا وہ کھاتے پیتے، سوتے اور نِکاح کرتے ہیں؟ اِرشَاد فرمایا: ہاں! وہ یہ سب کام کرتے ہیں اور مُشاہَدہ بھی کبھی ان سے جُدا نہیں ہوتا بلکہ وہ اَبَدی ٹھکانے کے سائے تَلے ہوتے ہیں۔ عَرْض کی گئی: ان کا خوف کہاں ہوتا ہے؟ اِرشَاد فرمایا:حِکْمَت کی لَطَافَت سے قُدْرَت کا حِجاب اسے اٹھا لیتا ہے اور دل کو بَشَری صِفات کے باعِث تَصَرُّفات میں حِجاب تَلے چھپا دیتا ہے۔ اس وَقْت یہ بندہ رسولوں کی مِثْل ہو جاتا ہے۔
بات اسی طرح ہے جیسے حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی نے اِرشَاد فرمایا ہے۔ اس لیے کہ تَصَرُّفات کے ذریعے مُشاہَدۂ توحید اور حِکْمَت اسے اَحْکام کی بجاآوری پر قائم رکھتے ہیں، اس طرح دل میں نُورِ اِیمان اس قَدْر بڑھ جاتا ہے کہ اگر ظاہِر ہو جائے تو جِسْم اور اس سے مُتَّصِل تمام چیزوں کو جلا کر خَاکِسْتَر کر دےمگر یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فَضْل و کَرَم سے حِجاب میں ہوتا ہے اور یہ تَصَرُّفات و اَحکام کے وُقوع کی وجہ سے عِلْم کے پردے سے ڈھکا ہوتا ہے، البتہ! تقدیر و صِفات کے مَعانی و مَفاہیم اپنی اپنی غایات میں جاری رہتے ہیں، کیونکہ اَنوار پر اِسْموں (یعنی ناموں)کا ، اِسْموں (یعنی ناموں)پر اَفعال (یعنی کاموں)کا اور اَفعال (یعنی کاموں) پر حَرکات کا حِجاب طارِی ہوتا ہے۔ لہٰذا قُدْرَت کے ذریعے حَرَکت اس طرح ظاہِر ہوتی ہے کہ اس کے بغیر اس کا وُجُود ہی غائِب ہو جاتاجس طرح کہ نُورِ اِیمان سے پیدا ہونے والی حِکْمَت کے ذریعے تَصَرُّفات ظاہِر ہوتے ہیں مگر یہ اَنْوَارِ اِیمان تَصَرُّفات کے پردے میں چھپے ہوتے ہیں۔
ایک عارِف فرماتے ہیں: اگر مخلوق کے سامنے مومِن کے اس چہرے سے پردہ ہٹ جائے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں ہے تو لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو چھوڑ کر اس کی عِبَادَت کرنے لگیں اور اگر اس کے دل کا نُور دنیا پر ظاہِر ہوجائے تو زمین پر کوئی شے باقی نہ رہے۔
پاک ہے وہ ذات ! جس نے مَخلوق کے فائدے کے لیے اپنے حِلْم اور رَحْمَت کے باعِث اپنی قُدْرَت اور اس کے مَعانی و مَفاہیم کو اپنی حِکْمَت اور اس کے اَسباب کے پردے میں چھپا رکھا ہے۔ حضرت سَیِّدُنا اُبَیّ بن کعب رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سورہ نُور کی 35ویں آیتِ مُبارَکہ کو یوں پڑھتے تھے:(مَثَلُ نُوْرِ الْمُؤْمِنِ ) اگر بندے کا نور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نور سے نہ ہوتا تو یہاں حَرْف کو اس کے اُلَٹ معنیٰ سے بدلنا جائز نہ ہوتا۔
خوف کے متعلق سیدنا سہل کے اقوال
حضرت سَیِّدُنا سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:
٭… خوف مُمانَعَت کے برعکس ہے، خَشِیَّت وَرَع کا نام ہے اور اِشفاق (ڈرنا، بچ کر رہنا) زُہْد کو کہتے ہیں۔
٭… خوف کا جاہِل کے پاس آنا اسے عِلْم کی،عالِم کے پاس آنا اسے زُہْد کی اور عامِل (یعنی عابِد) کے پاس آنا اسے اِخلاص کی دَعْوَت دیتا ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)خوف تمام لوگوں کے لیے بہتر ہے کیونکہ یہ عام لوگوں کو حَرام کاموں سے بچاتا ہے اور خاص لوگوں کو وَرَع و زُہْد کی طرف لے جاتا ہے۔
٭… اِخلاص فَرْض ہے جو خوف کے بغیر حاصِل نہیں ہوتا اور خوف زُہْد کے بغیر حاصِل نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ جو خوف رکھتا ہے وُہی سب کچھ چھوڑتا ہے۔اس طرح خوف ہی بندے کی پہلی عِبَادَت بنتا ہے جس سے اِخلاص پیدا ہوتا ہے۔
٭…جو یہ پسند کرے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف اس کے دل میں ہو تو وہ حَلال کے عِلاوہ کچھ نہ کھائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع