30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیپ دیا ہے توآپ نے محفل میں اس بُزرگ سے اپنا رُخ پھیر لیا۔ وہ بزرگ بھی آپ کی ناراضی بھانپ گئے اور عَرْض گزار ہوئے:اے ابو عبداللہ! کیا آپ کو میرے مُتَعَلّق یہ معلوم ہوا ہے کہ میں کسی بِدْعَت کا مُرْتکِب ہوا ہوں؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں! آپ نے اپنی دیوار کو باہَر کی جانِب سے مٹی سے لیپا ہے۔ عَرْض کی: کیا یہ جائز نہیں؟ فرمایا: ہاں!یہ جائز نہیں۔ کیونکہ آپ نے مسلمانوں کی گزرگاہ سے ایک اُنگلی کے برابر راستے پر قبضہ کر لیا ہے۔ عَرْض کی: اب اس کو کیسے دُرُسْت کروں؟ فرمایا: جو مٹی آپ نے لیپی ہے اسے کھرچ ڈالیں یا پھر دیوار توڑیں اور ایک انگلی کی مقدار پیچھے کر کے اسے باہَر سے لیپ دیں۔ چنانچہ انہوں نے دیوار توڑ کر ایک انگلی کی مقدار اسے پیچھے کر کے باہَر سے لیپا تو حضرت سَیِّدُناامام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل نے بھی پہلے کی طرح دوبارہ ان کی جانِب توجّہ فرمانا شروع کر دی۔
٭… مردہ جانور کو راستے پر پھینکنا
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین اس بات کو بھی ناپسند کرتے کہ جب ان کا کوئی پالتو جانور، بلی وغیرہ مر جائے تو اسے راستے میں کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جائے۔ کیونکہ مُردہ جانور کی بُو کی وجہ سے عام مسلمانوں کو اَذِیَّت پہنچتی ہے۔ چنانچہ قاضی شُرَیح رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ وغیرہ کے ہاں کسی پالتو جانور کی موت ہوتی تو وہ اسے دَفْن کرتے تھے۔[1]
٭… پرنالوں کا رخ گھر سے باہر رکھنا
اسی طرح بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین یہ بھی اَچھّا نہیں سمجھتے تھے کہ پرنالوں کا رُخ گھر سے باہَر رکھا جائے اور پانی راستے پر گرے (جس سے عام مسلمانوں کو تکلیف پہنچے)۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سَیِّدُناامام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دیگر متقین اپنے پرنالوں کا رُخ ہمیشہ گھر کے اندر رکھتے تھے۔
٭… دوہرا جھوٹ
حضرت سَیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ بسا اوقات ایک شخص دو۲مرتبہ جھوٹ بولتا ہے اور اسے پتہ بھی نہیں چلتا۔ مثلاً وہ کہتا ہے: کوئی شے نہیں سوائے اس (قلیل) شے کے کہ جسے ”شے“ بھی نہیں کہہ سکتے۔ مُراد یہ ہے کہ جب لوگ کسی قلیل شے کے مُتَعَلّق یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ کثیر نہیں ہے تو کہتے ہیں کہ ’’کچھ نہیں‘‘یا ’’کوئی شے نہیں‘‘ پس آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ لوگوں کی اتنی بات کو بھی اتنا بڑا جانتے کہ ان کے ایسے قول کو دو۲بار جھوٹ بولنا شُمار کرتے۔[2]
٭… بدعتی کو دیکھنا
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فَارُوق اَعْظَم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سَیِّدُنا عوانہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے اِرشَاد فرمایا: میں آپ کے اندھے پن پر افسوس کیا کرتا تھا مگر اب میں رَشْک کرتا ہوں۔عَرْض کی:وہ کیسے؟ فرمایا:آپ اپنی آنکھوں سے مدینہ طیبہ میں اَبُو الصُّغْریٰ نامی بدعتی شخص کو نہیں دیکھ سکتے۔
اسی طرح حضرت سَیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے عَرْض کی گئی:کیا آپ چاہتے ہیں کہ کاش! آپ بینا ہو جائیں؟فرمایا: نہیں!(میری ایسی کوئی خواہش نہیں) اب میں اپنی آنکھوں سے کس کو دیکھوں گا؟ ہاں! اگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا زمانہ ہوتا تو میں یقیناً انہیں دیکھنے کا آرزو مند ہوتا۔
حضرت سَیِّدُنا فضل بن مہران عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں کہ میں نے اِمام یحییٰ بن مُعِین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِینسے عَرْض کی: میرا بھائی قصّے بیان کرنے والے لوگوں کے ہاں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: اسے مَنْع کرو۔ میں نے عَرْض کی: وہ میری بات نہیں مانتا۔فرمانے لگے: اسے نصیحت کرو۔میں نے عَرْض کی: اگر وہ میری بات نہ مانے تو کیا اس سے الگ ہو جاؤں؟فرمایا: ہاں! (اس سے الگ ہو جاؤ)۔ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں حضرت سَیِّدُنااِمام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل کی خِدْمَت میں حاضِر ہوا اور آپ سے بھی یہی عَرْض کی تو آپ نے فرمایا: اس سے کہو قرآنِ کریم پڑھا کرے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذِکْر کیا کرے اور حدیثِ پاک کا عِلْم حاصِل کرے۔ میں نے عَرْض کی: اگر وہ ایسا نہ کرے تو؟ اِرشَاد فرمایا: اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو یقیناً وہ ایسا ہی کرے گا کیونکہ اس قِسْم کی محفل بِدْعَت ہے۔ جب میں نے یہ عَرْض کی کہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو کیا اس سے الگ ہو جاؤں تو آپ مسکرا دیئے مگر خاموش رہے۔
ایک شخص نے حضرت سَیِّدُنا بِشْر بِن حارِث عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَارِثْ سے عِلْمِ قُلُوب کاکوئی مسئلہ پوچھا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے کچھ دیر تَوَقّف فرمانے کے بعد جواب دیا۔ پھر اس نے مُعامَلات کے مُتَعَلّق ایک دوسرا مسئلہ پوچھا تو آپ خاموش ہو گئے اور اسے غور سے دیکھ کر پوچھا: تم کن لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو؟عَرْض کی: منصور بن عَمّار اور ابنِ سماک کے ساتھ۔ فرمانے لگے: کیا تمہیں حَیا نہیں آتی کہ عِلْمِ قُلوب کے مُتَعَلّق سوال کرتے ہواور قصّے بیان کرنے والوں کے پاس اٹھتے بیٹھتے ہو؟ راوی فرماتے ہیں:یہ فرما کر آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اس شخص سے اپنا چہرہ پھیر لیا۔ یہاں تک کہ ہم نے عَرْض کی: اے اَبُو نَصر! اس میں کوئی حَرج نہیں۔ یہ اہل سنّت سے تَعَلُّق رکھتا ہے۔
٭… مَسَاجِد کے ساتھ متصل حجروں میں نماز پڑھنا
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین مَسَاجِد کے ساتھ مُتَّصِل حجروں میں نماز پڑھنے کو بھی اچھا خیال نہ کرتے اور سمجھتے کہ یہ سب سے پہلی بِدْعَت ہے جو مَسَاجِد میں شروع ہوئی۔
٭… مَسَاجِد کی زیب و زِینت
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین مَسَاجِد کی زیب و زِینت، سَمْتِ قبلہ کی آرائش و زیبائش اور قرآنِ کریم کے مُنَقَّش و مُزَیَّن غِلاف کو بھی بِدعَت شُمار کرتے تھے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نشان ہے: جب تم اپنی مَسَاجِد کو آراستہ وپیراستہ اور قرآنِ کریم کو مُزَیَّن کرنے لگو گے تو برباد ہو جاؤ گے۔[3]
٭… مَسَاجِد کی کَثْرَت
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین ایک ہی مَحلّہ میں مَسَاجِد کی کَثْرَت کو بھی اچھّا نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ مروی ہے کہ جب حضرت سَیِّدُنا اَنَس بِن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بَصرہ تشریف لائے تو ہر دو۲قدم پر آپ نے ایک مَسْجِد دیکھ کر اِرشَاد فرمایا:یہ کیسی بِدْعَت ہے؟جب مَسَاجِد کی کَثْرَت ہو گی تو یقیناً نمازیوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔ میں اس بات کا گواہ ہوں کہ (دورِ نبوی میں)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع