دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

اس سے بھی شدید رائے حضرت سیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کی ہے،آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اِرشَاد فرماتے ہیں:ظاہِر وباطِن،دل وزبان اوراندر وباہَر کا مُـخْتَلِف ہونا بھی نِفاق ہے۔[1]

اَلْغَرَضْ نِفاق کی باریکیاں اور پوشیدہ شِرک ضُعفِ یقین اور توحید کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں جو کہ مومنین کے خوف کا مُوجِب ہیں کیونکہ انہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضی اور اَعمال کی بربادی کا ڈر ہوتا ہے۔  جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ابن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:بندہ اس حال میں اپنے گھر سے نکلے گا  کہ اس کا دین اس کے ساتھ ہو گا مگر جب گھر لوٹے گا تو اس کے دین میں کچھ بھی اس کے ساتھ نہ ہو گا، وہ اس شخص سے ملے گا تو کہے گا:آپ تو ایسے ہیں، آپ تو ویسے ہیں اور اس شخص کو ملے گا تو کہے گا:آپ یہ ہیں، آپ وہ ہیں۔ شاید وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضی مول لے کر اس سلسلے میں کوئی شے باقی نہیں رہنے دیتا۔[2]

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) حضرت سَیِّدُنا عبداللہبن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی مُراد یہ ہے کہ وہ شخص دوسروں کے تَزْکِیَۂ نَفْس کی گواہی دیتا ہے حالانکہ کچھ جانتا نہیں اور مَذمَّت کے مُسْتَحِق لوگوں کی تعریف کرتا ہے،اس کے دل میں کچھ ہوتا ہے اور زبان پر کچھ، یہی بات اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضی کا باعِث ہے۔

سَلْبِ اِیمان سب سے بڑا خوف ہے

مذکورہ خوفوں سے بھی بڑا خوف سَلْبِ اِیمان کا خوف ہے کہ جو مومِن کے خزانے میں آپ کے پاس ہے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جیسے چاہتا ہے اسے ظاہِر فرماتا ہے اور جب چاہتا ہے لے لیتا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ یہ ھِبہ تھا جو آپ کو دیا گیا کہ اس کے کَرَم کی وجہ سے آپ کے پاس ہمیشہ رہتا یا مَحْض ایک اَمانَت تھا یا عارِضی طور پر عَطا ہوا تھا جسے وہ اپنے عَدْل و حِکْمَت کی بنا پر یقیناً واپَس لے لے گا اور حال یہ ہے کہ اس نے اس کی حقیقت آپ سے پوشیدہ رکھی ہے اور اس کے اَنْجَام کو اپنے ساتھ خاص کیا ہوا ہے۔

کسی عارِف کا قول ہے کہ بعض لوگوں کے خاتِمے کے وَقْت ہی ان کا قطعی فیصلہ کیا جاتا ہے اور ایک عارِف فرماتے ہیں کہ ہائے کس قَدْر خطرہ ہے! اسی طرح حضرت سیِّدُنا ابو دردا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حَلْفِیَّہ فرمایا کرتے تھے کہ جو بھی شخص موت کے وَقْت اپنا اِیمان سَلْب ہونے سےبے خو ف ہوتا ہے اس کا اِیمان سَلْب کرلیا جاتا ہے۔[3]

خاتمہ کی وجہ تسمیہ

کیا آپ اس وَقْت کے مُتَعَلِّق نہیں جانتے جس کے بارے میں حضرت سَیِّدُنا حُذَیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشَاد فرمایاتھا کہ دِل پر ایک سَاعَت ایسی آتی ہے کہ وہ نِفاق سے بھر جاتا ہے یہاں تک کہ اس میں سُوئی کے ناکے برابر اِیمان باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ اگر اس وَقْت موت آلے اور وُہی بندے کا آخری وَقْت ہو تو کیا بندے کی رُوح جِسْم سے نِفاق پر جُدا نہ ہو گی؟ یہی حال شِرک کے مَفاہیم اور شک کے اِشاروں کی وجہ سے دل کی حَالَت کے بدلنے کا بھی ہے کہ اگر اسی وَقْت موت کا سامنا ہو گیا تو بارگاہِ خداوندی میں حاضِری کا عالَم کیا ہو گا؟ اسی لیے اس لمحے کو خاتِمہ کہتے ہیں کیونکہ یہی بندے کا آخِرِی عَمَل اور زِنْدَگی کی آخِرِی گھڑی ہے۔ نیز کسی بھی شے کے خاتِم سے مُراد اس کا آخِرہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُتَعَلِّق اِرشَاد فرمایا:

وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ ۲۲، الاحزاب:۴۰)

ترجمۂ کنز الایمان:ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔

مُراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام میں سب سے آخِرِی نبی ہیں۔  

اِسْتِدْرَاج کا خوف

یہ بات بھی خوف میں سے ہے کہ اِسْتِدْرَاج کے طور پر ابتدائی مَعْرِفَت تو باقی رہے مگر عِلمِ اِیمان میں اِضافہ خَتْم ہو جائے۔ جیسا کہ کسی عالِم کا فرمان ہے:بے شک جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کسی بندے کو مَعْرِفَت کی دولت سے نوازتا ہے اور بندہ اس مَعْرِفَت کے مُطابِق عَمَل نہیں کرتا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس مَعْرِفَت کو سَلْب نہیں کرتا بلکہ اسے باقی رکھتا ہے تاکہ اسی حِساب سے بندے کے مُحَاسَبہ کے وَقْت اس پر حُجّت قائم ہو سکے، البتہ! مَعْرِفَت  میں اِضافہ خَتْم فرما دیتا ہے اور بندے کا دل سَخْت ہو جاتا ہے مگر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تَر رہتی ہیں۔ یہ ایسا نُقْصَان ہے جسے صِرف کامِل لوگ ہی پہچانتے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بندے سے ہر نَفْع مند شے روک لیتا ہے اور اسے صِرف وُہی شے عَطا فرماتا ہے جو اسے فریب میں ڈال دے اور وہ مَخلوق کی آزمائش میں مبتلا رہے۔ اس لیے کہ ظاہِری آنکھ کا تعلّق دنیا سے اور دل کی آنکھ کا تعلّق آخِرَت سے ہے۔

نِفاق کا رونا

حضرت سَیِّدُنا مالِک بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفَّار فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں یہ پڑھا ہے کہ جب بندے کا نِفاق کامِل ہو جاتا ہے تو وہ اپنی آنکھوں کا مالِک بن جاتا ہے، پھر جب چاہتا ہے رونے لگتا ہے۔

سَلَف صَالِـحِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین نِفاق کے رونے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ نِفاق کے رونے سے مُراد یہ ہے کہ بندے کے لیے رونے کے مُـخْتَلِف رنگ کھول دئیے جائیں مگر عاجِزی و اِنکساری اور خُشوع و خُضوع کا دروازہ اس پر بند کر دیا جائے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ(۱۶) (پ ۱۲، یوسف:۱۶)

ترجمۂ کنز الایمان:اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے آئے۔

نفاق کے خشوع سے مراد

سَلَف  صَالِـحِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین یہ بھی فرماتے تھے کہ نِفاق کے خُشوع سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ مانگا کرو۔ عَرْض کی گئی: اس سے کیا مُراد ہے؟ فرمایا:آنکھ تو آنسو بہائے مگر دل سَخْت ہو۔

 



[1]………مصنف ابن ابى شيبة ،  كتاب الزهد ،  باب ما قالوا فى البكاء من خشية اللہ ، ۸/ ۳۱۲ ، حدیث:  ۱۲۱

[2]………شعب الايمان  ،  باب فی حفظ اللسان ،  ۴/ ۲۲۷ ، حدیث:  ۴۸۷۳ ،  بدون :  ویلقی الآخر…الخ

علل ومعرفة الرجال لاحمد بن حنبل ،  الجزء الثالث ، ۲/ ۱۴۵ ، حدیث:  ۱۸۱۶ ،  بدون :  ویلقی الآخر…الخ

[3]………الزهد لابن مبارك ، باب فضل ذكر اللہ ،  ص۵۴۱ ،  حديث:  ۱۵۴۷

شرح اصول عقائد اهل السنة  ، سیاق ماوردمن الآیات فی کتاب اللہ فی ان اسم الايمان اسم مدح …الخ ، ۲/ ۸۶۳ ،  حديث:  ۱۸۷۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن