30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسی آتی ہے جس میں یہ نِفاق سے اس قَدْر بھر جاتا ہے کہ اس میں سُوئی کے ناکے برابر اِیمان نہیں رہتا۔
بعض صحابۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانفرمایا کرتے کہ تم لوگ بعض ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نِگاہوں میں بال سے بھی باریک ہیں جبکہ ہم سرکارِ دو۲ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مُبَارَک دَور میں انہیں کبیرہ گناہ شُمار کرتے تھے۔[1]ایک رِوایَت میں ہے کہ ہم انہیں ہَلاکَت میں مبتلا کرنے والے اَعمال شُمار کرتے تھے۔ [2]
اگر مجھے نِفاق سے بری ہونا معلوم ہو جائے تو
حضرت سیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:اگر مجھے یہ مَعْلُوم ہوجائے کہ میں نِفاق سے بَری ہوں تو یہ بات مجھے ان تمام چیزوں کے مِلنے سے زیادہ پسند ہو گی جن پر سُورَج طُلُوع ہوتا ہے۔
مَنْقُول ہے کہ مومنین کے تین۳ گروہوں کے عِلاوہ نِفاق سے کوئی بھی خالی نہیں یعنی صِدِّیْقِین،شُہَدَا اور صَالِـحِین۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس بات سے تعریف ذِکْر فرمائی ہے کہ اس نے انہیں اپنی کامِل نِعْمَت عَطا فرمائی اور انہیں ان کے کامِل اِیمان اور حقیقی یقین کی وجہ سے مَقاماتِ اَنبیائے کِرام کے برابر دَرَجات پر فائز فرمایا۔ مَنْقُول ہے کہ جو نِفاق سے بے خوف ہو وہ مُنافِق ہے۔
سَلَف صَالِـحِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین میں سے کسی کا فرمان ہے:نِفاق کی عَلامات یہ ہیں:
٭۔۔۔۔بندہ لوگوں سے وہ بات ناپسند کرے جو خود کرتا ہے۔
٭۔۔۔۔ظُلْم میں سے کسی چیز کو پسند کرے۔ ٭۔۔۔۔حَق میں سے کسی بات کو ناپسند کرے۔
٭۔۔۔۔یہ بات بھی نِفاق میں سے ہے کہ جب کسی شخص کی ایسی بات پر تعریف کی جائے جو ا س میں نہیں تو وہ اس تعریف کو پسند کرے۔
نِفاق کی علامتیں بے شُمار ہیں، ایک قول کے مُطابِق یہ عَلامات 70 ہیں۔ جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَرْوِی حدیثِ پاک میں چار۴ علامات مذکور ہیں جو کہ باقی علامتوں کی اَصْل ہیں اور باقی سب عَلامتیں انہی کی شاخیں ہیں۔ چنانچہ،
فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے:چار۴ باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ خالِص مُنافِق ہے اگرچہ نَماز پڑھے،روزہ رکھے اور خود کو مسلمان سمجھے اور جس میں ان میں سے ایک خَصْلَت پائی جائے تو اس میں نِفاق کا ایک شعبہ مَوجُود ہے یہاں تک کہ اسے چھوڑدے:
(1 …) اِذَا حَدَّثَ كَذِبَ۔جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
(2 …) اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ۔وَعْدَہ کرے تو پورا نہ کرے۔
(3 …) اِذَا ائْتُمِنَ خَانَ ۔ اَمانت دی جائے تو خِیانَت کرے۔
(4 …) اِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ۔جھگڑا کرے تو گالی دے۔[3]
ایک رِوایَت میں یہ اَلفاظ بھی ہیں:اِذَا عَاهَدَ غَدَرَ۔ جب مُعاہَدہ کرے تو اسے توڑ دے۔[4]
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یوں یہ علامات پانچ۵ ہو جاتی ہیں۔
ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابن عُمَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خِدْمَت میں عَرْض کی:ہم حاکموں کے پاس جاتے ہیں اور جو وہ کہتے ہیں اس کی تصدیق کرتے ہیں (یعنی ہاں میں ہاں مِلاتے ہیں خواہ بات غَلَط ہی ہو)۔ مگر جب ان کے پاس سے آتے ہیں تو ان کے خِلاف باتیں کرنے لگتے ہیں(تو ہمارا ایسا کرنا کیسا ہے؟)۔اِرشَاد فرمایا:سرکارِ دو۲ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دَورِ مُبارَک میں ہم اس بات کو نِفاق شُمار کرتے تھے۔[5]
حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عُمَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ایک شخص کو حَجّاج بِن یُوسُف کی مَذمَّت کرتے سنا تو اس سے فرمایا:اگر حَجّاج اس وَقْت یہاں مَوجُود ہوتا تو کیا پھر بھی تم اس کے خِلاف باتیں کرتے؟ عَرْض کی:نہیں۔اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُبارَک دور میں ہم اس بات کو نِفا ق سمجھتے تھے۔[6]
اس سے بھی زیادہ سَخْت رِوایَت یہ ہے کہ کچھ لوگ حضرت سَیِّدُنا حُذَیْفَہ بِن یَمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے دروازے پر بیٹھے آپ کا اِنتِظار کر رہے تھے، اس دوران وہ آپ کے بارے میں کچھ گفتگو کرنے لگے۔جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ باہَر تشریف لائے تو وہ حَیا سے خاموش ہوگئے۔ اِرشَاد فرمایا:تم لوگ جو بات کررہے تھے اسے جاری رکھو،مگر وہ خاموش ہی رہے۔تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشَاد فرمایا: سرکارِ دو۲ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حَیاتِ مُبارَکہ میں ہم اس بات کو نِفاق شُمار کرتے تھے۔
[1]………مسند احمد ، مسند انس بن مالك ، ۴/ ۵۶۸ ، حدیث: ۱۴۰۴۱ ، بتغیر قلیل
[2]………بخارى ، كتاب الرقاق ، باب ما يتقى من محقرات الذنوب ، ۴/ ۲۴۴ ، حدیث: ۶۴۹۲
[3]………مسلم ، كتاب الايمان ، باب بيان خصال المنافق ، ص۵۰ ، حديث: ۵۸ ، ۵۹
[4]………مسلم ، كتاب الايمان ، باب بيان خصال المنافق ، ص۵۰ ، حديث: ۵۸
[5]………بخارى ، كتاب الاحكام ، باب ما يكره من ثناء السلطان واذا خرج قال غير ذلك ، ۴/ ۴۶۶ ، حدیث: ۷۱۷۸ ، بتغیر
سنن کبرٰی للنسائی ، کتاب السیر ، باب بطانة الامام ، ۵$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع