30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)عُلُوم کے مَعانی و مَفاہیم خائفین پر جس خوف کو لازِم ٹھہراتے ہیں اس کا سَبَب خائفین کے مُتعلّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا مَـخْفِی عِلْم ہوتا ہے۔ لہٰذا خائفین ان عُلُوم کے مَعانی و مَفاہیم کی وجہ سے اپنے اَعمال کے مَحاسِن کی طرف نہیں دیکھتے کیونکہ انہیں اپنے رب کی حقیقی مَعْرِفَت حاصِل ہوتی ہے اور یہ خوف ہی ان کے اپنے اَعمال سے آگاہ ہونے کی بنا پر اَجَر و ثواب کا سَبَب ہے۔جب وہ لوگ عِلْم پر مُحاسَبے سے مَحْفُوظ ہو گئے اور دُرُسْت عِلْم انہوں نے حاصِل کر لیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانِب سے بطورِ نِعْمَت ان کے مُتعلّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَـخْفِی عِلْم کا خوف ظاہِر ہوتا ہے جو ان کا ایک مَقام ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا (پ ۶، المآئدة:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:دو۲ مَرد کہ اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے اللہ نے انہیں نوازا۔
ایک قول کے مُطابِق انہیں خوف عَطا فرمایا۔
دوسرا مَقام اَصحابِ یمین کا ہے جو پہلے دَرَجہ کے لوگوں سے کم تر ہیں:
٭…جرائم اور گناہوں کا خوف ٭…وَعِید و سزا کا خوف
٭…حکْم کی بجاآوری میں کوتاہی کا خوف ٭…حَد سے تجاوُز کر جانے کا خوف
٭…مزید نعمتوں کے سَلْب کا خوف ٭…بیداری پر غَفْلَت کا حِجاب طارِی ہونے کا خوف
٭…عِبادات میں خوب کوشِش کے بعد سستی کے باعِث بارگاہِ خداوندی سے دُوری کا خوف
٭…عَزْم کے قَوِی ہونے کے بعد اس کے کمزور ہو جانے کا خوف
٭…توبہ کے ٹوٹنے کے بعد اپنے عہد سے پھر جانے کا خوف
٭…جس سَبَب سے توبہ کی تھی اس کی آزمائش میں مبتلا ہونے کا خوف
٭…اِستقامَت کے بعد بے راہ رَوِی کا شِکار ہو جانے کا خوف
٭…شَہْوَت کی عادَت پڑ جانے کا خوف
٭…زِیادَتی کے بعد کمی کا خوف ، یعنی راہِ حَق سے پَلَٹ کر نَفْس اور دنیا کی طرف لَوٹ جانے کا خوف
٭…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا اس کے سَابِقہ گناہوں پر دوسروں کو آگاہ کر دینے کا خوف
٭…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس کے بُرے اَعمال دیکھ کر اِعْرَاض فرمانے اور ناراض ہوجانے کا خوف۔
عارِفین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین ان سب باتوں کو خوفِ باری تعالیٰ کا سَبَب جانتے ہیں، ان میں سے بعض بعض سے اعلیٰ اور بعض بعض سے شدید ہیں۔
مَنْقُول ہے کہ عَرْش ایک موتی ہے جس کی چمک سےپوری کائنات روشن ہے، بندہ دنیا میں جس بھی حال میں ہو عَرْش میں اس کی ایک صُورَت بن جاتی ہے جو روزِ قِیامَت مُحاسَبہ کے وَقْت ظاہِر ہو گی۔ چنانچہ دنیا میں اپنے نَفْس کی حَالَت کا مُشاہَدہ کر کے بندے کو اپنا فعل یاد آئے گا تو اس پر اس قَدْر حَیا و رُعْب طارِی ہو گا جس کا بیان مُمکِن نہیں۔
ایک قول میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب بندے کو مَعْرِفَت کی دولت عَطا فرماتا ہے، پھر بندہ اس کے مُطابِق عَمَل نہیں کرتا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے سے اپنی مَعْرِفَت سَلْب کرنے کے بجائے اسے باقی رہنے دیتا ہے تاکہ اسی حِساب سے اس کا مُحاسَبہ کیا جائے، البتہ! بندے سے مَعْرِفَت کی بَرَکَت ضَرور اُٹھا لیتا ہے اور اس پر اپنے مزید اِنْعَامَات کی بارِش خَتْم فرما دیتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بندے کی مَذمَّت بیان فرماتا ہے جسے اس نے کسی آزمائش میں مبتلا کرنے کے بعد کسی نِعْمَت سے نوازا اور وہ نیک عَمَل بھی کرنے لگا ہو مگر پھر اپنے عَمَل پر فخر کرنے لگے، اپنے سابِقہ اَعمال کو بھول جائے اور جرائم میں دوبارہ مبتلا ہو جانے سے نہ ڈرے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَىٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْؕ-اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ(۱۰) (پ ۱۲، ھود: ۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر ہم اسے نِعْمَت کا مَزہ دیں اس مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی تو ضَرور کہے گا کہ بُرائیاں مجھ سے دُور ہوئیں بے شک وہ خوش ہونے والا بڑائی مارنے والا ہے۔
ڈرنے والی باتوں میں سے ایک نِفاق کا خوف بھی ہے، سَلَف صَالِـحِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین یعنی صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام نِفاق سے ڈرا کرتے تھے۔
حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ بن یَمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:بے شک سرکارِ دو۲ جہاں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حَیاتِ ظاہِری میں ایک شخص کوئی بات کرتا تو اس کے سَبَب اسے مُنَافِق سمجھا جاتا یہاں تک کہ اسے موت آجاتی جبکہ آج میں تم میں سے بعض لوگوں سے وُہی بات دن میں10مرتبہ سنتا ہوں۔[1]
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے:دل پر ایک سَاعَت ایسی آتی ہے جس میں وہ اِیمان سے اس قَدْر بھر جاتا ہے کہ اس میں سُوئی کے ناکے برابر بھی نِفاق نہیں رہتا اور ایک سَاعَت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع