دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

ہے۔[1]

توحید کے اَجزا نہیں

کسی عالِم کا قول ہے کہ جسے توحید کی دولت عَطا فرمائی جاتی ہے،اسے کامِل توحید ملتی ہے اور جسے عَطا نہیں کی جاتی، اسے کامِل توحید نہیں دی جاتی کیونکہ توحید کے اَجزا نہیں۔

سیِّدُنا سُفیان ثَوری کا خوفِ خدا

حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی موت کا وَقْت قریب آیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے رونا اور گھبرانا شروع کردیا۔ عَرْض کی گئی:اے ابو عبداللہ!اُمِّید کا دامَن تھامے رکھئے!کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی عَفْو و مہربانی آپ کے گناہوں سے بڑی ہے۔اِرشَاد فرمایا: کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں اپنے گناہوں پر رو رہا ہوں؟(ایسا نہیں بلکہ)اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ میری موت اِیمان پر ہوگی تو مجھے اس بات کی بھی کوئی پَروا نہیں کہ میں پہاڑوں کے برابر گناہ لےکر بارگاہِ خداوندی  میں حاضِر ہوں۔ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے زمین سے ایک دانہ اٹھا کر اِرشَاد فرمایا:میرے گناہ تو اس سے بھی ہلکے ہیں، پھر بھی میں آخری وَقْت میں سَلْبِ توحید سے ڈرتا ہوں۔

آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا شُمار بہت زیادہ خوف رکھنے والوں میں ہوتا ہے۔آپ کی حَالَت یہ ہو گئی تھی کہ خوف کی وجہ سے پیشاب کی جگہ خون آتا اور آپ اکثر خوف کی زِیادَتی کی وجہ سے بیمار ہو جاتے۔ ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا پیشاب کسی کتابی طبیب کو دکھایا گیا تو وہ کہنے لگا: یہ تو کسی راہِب کا پیشاب ہے۔

آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سَیِّدُنا حمّاد بن سلمہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے ہاں تشریف لاتے تو پوچھتے: اے ابو سلمہ! کیا آپ کو اُمِّید ہے کہ مجھ جیسے شخص کو مُعافی مل جائے گی یا مجھ جیسے شخص کی بخشش ہو جائے گی؟ حضرت سَیِّدُنا حَمّاد رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے:ہاں ! واقعی مجھے اُمِّید ہے۔

کسی عالِم کا قول ہے کہ اگر مجھے اپنے سَعَادَت پر خاتِمے کا یقین ہوجائے تو میں اپنی زِنْدَگی بھر کی تمام اَشیا راہِ خُدا میں دے دینا پسند کروں گا۔

ایک صادِق کی وصیت

مجھے کسی مسلمان بھائی نے ایک صادِق کا واقعہ بیان کیا کہ وہ خوفِ خُدا رکھنے والے تھے، انہوں نے ایک مسلمان بھائی کو وصِیَّت کرتے ہوئے فرمایا:جب میری موت کا وَقْت قریب آئے تو میرے سرہانے بیٹھ جانا، اگر تم دیکھو کہ میرا خاتِمہ اِیمان پر ہوا ہے تو میری مِلْکِیَّت میں مَوجُود تمام سامان جَمْع کرکے اس کے عِوَض بادام اور شکَّر خرید کر شہر کے بچوں میں تقسیم کر دینا اور کہنا کہ یہ قَید سے چھوٹنے والے ایک شخص کی آزادی کی خوشی میں ہے،اگر میری موت اِیمان پر نہ ہو تو لوگوں کو اس بات کی خَبَر کر دینا تاکہ وہ دھوکے کا شِکار  ہوکر میرے جَنازے میں شریک نہ ہو ں اور جسے آنا ہو وہ سوچ سمجھ کر آئے تاکہ مَرنے کے بعد میں رِیاکاری کا شِکار ہوکر مسلمانوں کو دھوکا دینے کا باعِث نہ بن جاؤں۔اس شخص نے عَرْض کی:مجھے اس بات کا عِلْم کیسے ہوگا کہ آپ کا خاتِمہ اِیمان پر ہوا یا نہیں؟ انہوں نے ایک ایسی عَلامَت بیان فرمائی جو کسی کسی مَرنے والے شخص میں ہی ظاہِر ہوتی ہے۔ (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) مگر ہم اس عَلامَت کو یہاں ذِکْر کرنا پسند نہیں کرتے۔ [2]  

بَہَرحَال اس شخص کا کہنا ہے کہ میں اس بُزرگ کے اِرشَادکے مُطابِق ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا تاکہ ان کی بیان کردہ عَلامَت دیکھ سکوں۔ میں نے ان کے بہترین خاتِمہ اور توحید پر موت کی واضِح عَلامَت دیکھی اور پھر ان کی رُوح قَفَسِ عُنْصُری سے پَرواز کر گئی۔ فرماتے ہیں: میں نے حَسْبِِ وَصیَّت شکَّر اور بادام خرید کر تقسیم کیے اور اس بات کا ذِکْر صِرف خاص عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کے سامنے ہی کیا۔

خاتمہ کے وقت بندے کی کیفیت

بندہ جب زِنْدَگی میں کوئی بُرا عَمَل کرتا ہے تو زِنْدَگی سے جُدائی کے وَقْت وہ بُرا عَمَل یاد دِلایا جاتا ہے اور بندہ عمر کی ان آخری سانسوں میں اپنے اس بُرے عَمَل کے مُشاہَدے میں مَصروف ہو جاتا ہے، اگر دِل کو وہ عَمَل اچھّا لگے یا نَفْس اس کی طرف مائل ہو جائے تو بندہ اسی میں مَصروف ہو جاتا ہے اور جب وہ اسی مُشاہَدے میں مَصروف ہو جائے تو یہی اس کا آخِرِی عَمَل شُمار کر لیا جاتا ہے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو اور یہی اس کا خاتِمہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح بندے کا نیک عَمَل بھی موت کی گھڑیوں میں اس کے پاس آتا ہے اور وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے، اب اگر بندے کا دِل اس میں لگ گیا یا اس نے اسے پسند کیا اور اسی مُشاہَدے میں مَصروف ہو گیا تو اسی عَمَل کو اس کا آخِرِی عَمَل سمجھ لیا جائے گا اور یوں اس کا خاتِمہ اچھّا ہو گا۔

موت اور زندگی سے آزمائش

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ (پ ۲۹، الملك:۲)

ترجمۂ کنز الایمان:جس نے موت اور زِنْدَگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو۔

ایک عارِف مذکورہ آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں اِرشَاد فرماتے ہیں:زِنْدَگی میں تمہاری آزمائش اس طرح ہوتی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہارے دِلوں میں گناہوں کے خَیالات پیدا فرماتا ہے تاکہ مَعْلُوم ہو سکے تمہارے دِل بَدَلْتے ہیں یا نہیں۔جبکہ موت کے وَقْت تمہیں اس طرح آزماتا ہے کہ تم (آخِرِی لمحات میں)توحید پر ثابِت قَدَم رہتے ہو یا نہیں۔ جس کی رُوح توحید پر جِسْم سے جُدا ہو اور تمام آزمائشوں سے نکل کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضِر ہو وُہی مومِن ہے اور یہی عُمدہ اِنْعَام ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًاؕ- (پ ۹، الانفال:۱۷)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھّا اِنْعَام عطا فرمائے۔

 



[1]………الزهد لابن مبارك ، باب فضل ذكر اللہ ،  ص۵۴۱ ،  حديث:  ۱۵۴۷

شرح اصول عقائد اهل السنة  ، سیاق ماوردمن الاٰیات فی کتاب الله فی ان اسم الايمان اسم مدح الخ ، ۲/ ۸۶۳ ، حديث:  ۱۸۷۱

[2]………حضرت سَیِّدُنا علامہ سید محمد بن محمد حسینی زبیدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں :   وہ عَلامَت یہ تھی کہ اپنی انگلی میری ہتھیلی میں  رکھ دینا ، اگر موت کے وَقْت میں  اسے مَضْبُوطِی سے دباؤ ں  تو سمجھ لینا کہ میری موت اِیمان پر واقِع ہوئی ہے اور اگر میں  تمہاری انگلی چھوڑدوں  تو جا ن لیناکہ میری موت اِیمان پرنہیں  ہوئی۔اس شخص نے ایسا ہی کیا۔

(اتحاف السادة المتقین ، ۱۱/  ۴۴۹ )

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن