30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتا ہے اور خاتِمے کے وَقْت اَجسام ان کا ساتھ دیتے ہیں۔
مَرْوِی ہے کہ اَرحام پر مُقَرَّر فرشتہ نُطفے کو ہاتھ میں پکڑ کر عَرْض کرتا ہے:اے میرے رب! یہ مَرد ہے یا عورت؟ یہ سیدھی راہ پر ہے یا ٹیڑھی پر؟ اس کا رِزْق وعَمَل کیسا ہے؟ اس کا عِلْم اور اس کی موت کا وَقْت کیا ہے؟اس کی باتیں اور اس کا خُلْق کیسا ہے؟[1] راوی فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس فرشتے سے جو چاہتا ہے اِرشَاد فرماتا ہے اور وہ فرشتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان کی پَیروی کرتا ہے، پھر اللہ جیسی چاہتا ہے بندے کی شَکْل فرشتے کے ہاتھ پر بنا دیتا ہے۔ جب صُورَت مُکَمَّل ہوتی ہے تو فرشتہ عَرْض کرتا ہے: اے میرے رب! اس میں خوش بخت رُوح ڈالوں یا بدبخت؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو چاہتا ہے اِرشَاد فرماتا ہے اور فرشتہ اپنے رب کے فرمان کے مُطابِق رُوْح ڈال دیتا ہے۔ (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یوں رُوح اسی حَالَت میں جِسْم سے جُدا ہوتی ہے جیسی اس میں ڈالی گئی تھی۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۸۸) فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ ﳔ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ(۸۹)وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ(۹۰) فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ(۹۱) (پ ۲۷، الواقعة:۸۸ تا ۹۱)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر وه مرنے والا اگر مقرّبوں سے ہے تو راحَت ہے اور پھول اور چَین کے باغ اور اگر دہنی طرف والوں سے ہو تو اے محبوب تم پر سلام ہے دہنی طرف والوں سے۔
یعنی ان لوگوں کو سلام ہو جو شِرک سے بچنے کے باعِث ہر قِسْم کی ہَلاکَت سے مَحْفُوظ ہیں۔ اس کے بعد اِرشَاد فرمایا:
وَ اَمَّاۤاِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَ (۹۲)فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ(۹۳) وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْم (۹۴)اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ(۹۵) (پ ۲۷، الواقعة:۹۲ تا ۹۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہو تو اس کی مہمانی کھولتا پانی اور بھڑکتی آگ میں دھنسانا یہ بے شک اعلیٰ دَرَجَہ کی یقینی بات ہے۔
ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
اَلْحَآقَّةُۙ(۱) مَا الْحَآقَّةُۚ(۲) (پ ۲۹، الحاقة:۱، ۲) ترجمۂ کنز الایمان:وه حَق ہونے والی کیسی وہ حَق ہونے والی۔
یعنی حَق ہونے والی بات اسی شخص کے ساتھ پوری ہو گی جس پر تمام باتیں واضِح ہوچکی ہوں گی اور ان تمام صورتوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قُدْرَتِ کامِلہ و حِکْمَتِ بالِغہ کارفرما ہو گی۔
خوف کے مُتَعَلّق قرآنِ کریم میں مَوجُود چند فرامینِ مُبارَکہ ذیل میں پیشِ خِدْمَت ہیں:
كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ(۲۹) فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُؕ-(پ ۸، الاعراف:۲۹، ۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جیسے اس نے تمہارا آغاز کیا ویسے ہی پلٹو گے ایک فِرقے کو راہ دِکھائی اور ایک فِرقے کی گمراہی ثابِت ہوئی۔
كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ-وَعْدًا عَلَیْنَاؕ- (پ ۱۷، الانبیآء:۱۰۴)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم نے جیسے پہلے اُسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کر دیں گے یہ وعدہ ہے ہمارے ذِمّہ۔
وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ (پ ۲۱، السجدة:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہِدَایَت عَطا فرماتے مگر میری بات قرار پا چكی۔
فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْاؕ-وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۴۷) (پ ۲۱، الروم:۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا اور ہمارے ذِمَّۂ کَرَم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا۔
اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱)(پ ۱۷، الانبیآء:۱۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنّم سے دُور رکھے گئے ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ(۹۶) (پ ۱۱، یونس:۹۶)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جن پر تیرے رب کی بات ٹھیک پڑ چکی ہے اِیمان نہ لائیں گے۔
وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ ﳲ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا٘-وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا٘-وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ(۱۷۹)(پ ۹، الاعراف:۱۷۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک ہم نے جہنّم کے لیے پیدا کئے بہت جن اور آدمی وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وُہی غَـفْلَت میں پڑے ہیں۔
وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ(۱۰۵)(پ ۱۷، الانبیآء:۱۰۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک ہم نے زَبُور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارِث میرے نیک بندے ہوں گے۔
ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُۚ-فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ(۷۴)(پ ۲۴، الزمر:۷۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچّا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارِث کیا کہ ہم جنّت میں رہیں جہاں چاہیں تو کیا ہی اچھّا ثواب کامیوں کا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع