دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

ترجمۂ کنز الایمان:جو نِکالتا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہِر کرتے ہو۔

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہم نے جو عُلُوم ذِکْر کیے ہیں وہ حقیقی خوف کا باعِث ہیں اور یہی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے راز  اور مَلکُوت یعنی عَالَمِ اَرْوَاح  کی مَـخْفِی باتیں ہیں۔ بندے پر موت کے وَقْت کئی قسم کی علامات ظاہِر ہوتی ہیں مگر عارِف اپنے مُشاہَدے کی وجہ سے ان تمام علامات کو پہچان لیتا ہے اور یوں اس پر کسی کے بُرے خاتِمے کی عَلامات مَـخْفِی نہیں رہتیں۔بلکہ اَہْلِ مُکاشَفہ پر زندوں کی تمام عَلامات ظاہِر ہوتی ہیں جن کے ذریعے وہ ان کے بُرے خاتِمے سے خوب آگاہ ہوتے ہیں۔

مُکاشَفہ اور اس کی انواع

یہ عِلْم خاص ہے جو صِرف انہی لوگوں کو حاصِل ہوتا ہے جو ذاتِ باری تعالیٰ کے حقیقی مُشاہَدے کے مُکاشَفے کی دولت سے مالا مال ہوں۔ یہ عَلَّامُ الْغُیوب کا ایک خاص راز ہے جس پر صِرف اہلِ قُلُوب ہی آگاہ ہیں کیونکہ کَشْف کی کئی اَنْوَاع ہیں ۔ بعض کَشْف آخِرَت کے مَفاہیم سے مُتَعَلِّق ہوتے ہیں اور  بعض دنیا کے باطِن سے۔ جبکہ بعض کَشْف ایسے ہیں جن سے ظاہِری اَحْکام کی بدولت مَـخْفِی اَشیا کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔

کَشْف اَصْل میں مَلکُوت کا سِرّ(راز) اور جَبْروت کے مُکاشَفے کا مَفہوم ہے۔ چنانچہ سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تقدیر کے  مُتعلِّق فرمانِ عالیشان ہے: یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا راز ہے اسے ظاہِر مَت کرو۔[1]   مگر یہ حکْم اس شخص کے لیے ہے جس پر تقدیر کی حقیقت مُنْکَشِف ہو۔ جبکہ ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:تقدیر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا پردہ ہے اسے مَت اُٹھاؤ۔ مُراد یہ ہے کہ تقدیر کے مُتعلِّق سوال مَت کرو اور یہ حکْم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دَرْج ذیل فرمانِ عالیشان کے تحت داخِل ہے:

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ- (پ ۱۵، بنی اسرآئیل:۳۶)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے عِلْم نہیں۔

آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)مذکورہ آیتِ مُبارَکہ سے مُراد یہ ہے کہ اس عِلْم کے پیچھے مَت پڑو جس کا تمہیں مُکَلَّف نہیں بنایا گیا اور اس شے کے مُتَعَلِّق بھی کوئی سوال مَت کرو جس کا عِلْم تمہیں دیا گیا ہے نہ وہ تمہارے سُپُرد کی گئی ہے۔ اس لیے کہ اگر یہ عِلْم حاصِل بھی ہو جائے تو کوئی فائدہ نہ دے گا بلکہ صِرف اَحْکام و اَسباب کا عِلْم ہی فائدہ دے گا۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جس طرح عام مومنین سے خِطاب فرمایا، اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام سے بھی اسی طرح اِرشَاد فرمایا۔ جیسا کہ مَنْقُول ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے عَذاب کے وَقْت حضرت سَیِّدُنا نُوح عَلَیْہِ السَّلَام کے گھر والوں کی نجات کا وعدہ فرمایا تھا، لہٰذا (عَذاب آیا اور آپ کا بیٹا بھی اس کا شِکار ہونے لگا تو) آپ عَلَیْہِ السَّلَام  نے عَرْض کی:

اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ  (پ ۱۲، ھود:۴۵)

ترجمۂ کنز الایمان:میرا بیٹا بھی تو میرا گھر والا ہے اور بے شک تیرا وعدہ سچا ہے۔

جواب اِرشَاد ہوا:

اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَۚ-اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ ﲦ فَلَا تَسْــٴَـلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ- (پ ۱۲، ھود:۴۶)

ترجمۂ کنز الایمان:وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بے شک اس کے کام بڑے نالائق ہیں تو مجھ سے وہ بات نہ مانگ جس کا تجھے عِلْم نہیں۔

یعنی تیری دُعا اور تیرا مجھ سے وہ شے مانگنا جس کا میں نے تجھے عِلْم دیا ہے نہ تیرے سُپُردکی ہے،اَچھّا نہیں۔ لہٰذا حضرت سَیِّدُنا نوح  عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے رب سے مَغْفِرَت  طَلَب کی اور  اس کی رَحْمَت کے خواستگار ہوئے۔

برا خاتمہ کسے کہتے ہیں؟

موت کے وَقْت آخری ساعتوں میں بندے کی آنکھوں سے تمام حِجاب اٹھا دئیے جاتے ہیں اور وہ بَہُت  سی ایسی چیزوں کو دیکھتا ہے جنہیں اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو چھوڑ کر اپنا معبود بنایا یا اس کا ان چیزوں کو شریک ٹھہرایا تھا۔ یہ سب دھوکا و فریب ہوں گی۔ اس وَقْت اگر بندے کا دل ان میں سے کسی چیز کے ساتھ لگ جائے یا ان میں سے کسی چیز کو اس کے لیے آراستہ کر دیا جائے یا اس کا دل آخری لمحات میں کسی چیز کی طرف مائل ہو جائے تو اس کا خاتِمہ اسی چیز پر ہو جاتا ہے اور یوں اس کی رُوح شک یا شِرک پر اس کے جِسْم سے جُدا ہوتی ہے جسے بُرا خاتِمہ کہتے ہیں۔

برا خاتمہ کیوں ہوتا ہے؟

بُرا خاتِمہ تخلیقِ اَرْوَاح کے وَقْت اَزَل میں ہی بندے کے نصیب میں لکھ دیا  گیا تھا اگرچہ معبودانِ باطلہ مخلوق اور زمانوں کے اِظْہَار سے قبل اَزَل و اَبَد میں اَشْبَاح (خَیالی تَصَوُّرَات)کی شکل  میں مَعدوم تھے، اس وَقْت اَرواح نے ان کا مُشاہَدہ فریب کی شکل میں کیا تھا،مگر جب دل میں ان جھوٹے خداؤں کے خَیالی نُقُوش واضِح ہونے لگے تو بعض اَرواح ان کے پیچھے پڑ گئیں حالانکہ ابھی اَجسام کی تخلیق ہوئی تھی نہ ان کی شکلوں کے خاکے ظُہُور میں آکر مَـخْفِی ہوئے تھے اور نہ عَقْلوں نے ان کا مُشاہَدہ کیا تھا۔ البتہ! (انہوں نے مُـخْتَلِف  صِفاتِ باری تعالیٰ کا فیضان یوں پایا کہ)اَوَّلِیَّت کے حکْم و مُشاہَدے سے ان کا ظُہُور ہوا اور قَیُّومِیَّت کے معنیٰ و مَفہوم سے انہیں وُجُود مِلا، ذاتِ باری تعالیٰ کے اَلْـجَامِعُ ہونے کی بنا پر یہ جَمْع ہوئے مگر پھر دنیا میں (یہ جھوٹے معبود اور ارواح) ایک دوسرے سے جُدا ہو گئے اور جب دنیا سے جُدائی یعنی موت کا وَقْت قریب آتا ہے تو یہ جھوٹے خدا دوبارہ ظاہِر ہوتےہیں اور اَزَل میں ان جھوٹے خداؤں کا مُشاہَدہ کرنے والی اَرْوَاح جب ان آخری لمحات میں اس بات کا اِعْتِرَاف کر لیتی ہیں کہ جو انہوں نے اِبْتِدَا میں کہی تھی تو اسی وَقْت رُوح جِسْم سے جُدا ہو جاتی ہے۔یہی وہ اَزَلی خبر ہے جس کا اِدراک اَرواح کو



[1]………الكامل فی ضعفاء الرجال ،  ۸/ ۳۹۷ ، الرقم:  ۲۰۱۸:  الھیثم بن جماز بصری

حلية الاولياء ،  عمران القصير ، ۶/ ۱۹۶ ، حدیث:  ۸۲۷۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن