دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

قلبِ مومن کی شان

حضرت سَیِّدُنا زید بن اَسْلَم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَکرَم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان (فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠(۲۲)

 (پ ۳۰، البروج:۲۲) )کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس سے مُراد مومِن کا دِل ہے۔

اس کے عِلاوہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان (وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ(۴) (پ ۲۷، الطور:۴) )کی تفسیر میں کسی بُزرگ کا قول ہے کہ یہاں عارِف کا دل مُراد ہے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان  (فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ (پ ۱۸، النور:۳۶) ترجمۂ کنز الایمان: ان گھروں میں جنہیں بُلَند کرنے کا اللہ نے حکْم دیا ہے۔)کی تفسیر میں کسی عارِف کا قول ہے کہ یہاں مُقرَّبین کے وہ دل مُراد ہیں جو مَخلوق کے ذِکْر سے بالا تَر ہو کر اَوصافِ باری تعالیٰ تک رَسائی حاصِل کر لیتے ہیں۔چنانچہ ان کے مُتعلِّق مزید اِرشَاد ہوتا ہے (وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗۙ- (پ ۱۸، النور:۳۶) ترجمۂ کنز الایمان:اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے ۔)یعنی ذاتِ اَحَدِیَّت کا مُشاہَدہ کرنے کی وجہ سے ان قُلُوب میں خالِص توحید کا ذِکْر ہوتا ہے۔

حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی (سورہ نُور کی آیت نمبر ۳۵ کی عارِفانہ تفسیر کرتے ہوئے) فرماتے ہیں: بندے کا سینہ کرسی اور دل عَرْش ہے جس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنی شانِ عَظَمَت و جَلالَت کے مُطابِق جلوہ گر ہےجس کا مُشاہَدہ اس کے خاص لُطْف اور قُرْب کی بنا پر ہی کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ مومِن کے سینے کی اِبْتِدَا میں صمدیَّت، آخر میں رُوحانِیَت اور درمیان میں رَبُوبِیَّت کے اَوصَاف اپنی شان کے مُطابِق جلوہ گر ہیں، گویا سینہ صَمَدِی بھی ہے اور رُوحَانی و رَبَّانی بھی۔جبکہ دل کی اِبْتِدَا میں قُدْرَت، آخِر میں خیر و بھلائی اور درمیان میں لُطْف و کَرَم کے اَوصَافِ باری تعالیٰ جلوہ گر ہیں، گویا اس حَالَت میں یہ ایک طاق ہے، جس میں ایک چراغ ہے جو فانوس سے دیکھا جاسکتا ہے، گویا یہ ایک چمکتے موتی جیسا ستارہ ہوجس کی روشنی میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی باقی تمام نعمتوں کا مُشاہَدہ ہوتا ہے، اس وَقْت یہ جسمانی آئینہ ہوتا ہے جس میں دیکھا جائے تو ذاتِ باری تعالیٰ کی تجلیاں دکھائی دیتی ہیں اور بندہ ذاتِ حَق کو اپنے اس قَدْر قریب پاتا ہے جیسا کہ کسی صَاحِبِ یقین کا دل یقین کی آنکھ کے ساتھ مُشاہَدے کے آئینہ کے بغیر ذاتِ حَق کی تجلیاں دیکھتا ہے۔

برے خاتمہ کی علامات بتانا جائز نہیں

عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی شخص میں بُرے خاتِمہ کی علامات دیکھ کر انہیں ظاہِرکر دیں۔ کیونکہ اَہْلِ مُکاشَفَہ پر یہ تمام علامات خوب واضِح ہوتی ہیں اور عارِفین تو ان کی باریکیوں تک سے آگاہ ہوتے ہیں۔ کسی بھی بندے کے بُرے خاتِمہ کی یہ نِشانیاں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا راز ہیں  جو دِلوں کے خزانوں میں پوشیدہ ہیں، ان پر صِرف مخصوص اَفراد کو ہی آگاہی حاصِل ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان علامات کو اپنی رَحْمَت کی وُسْعَت ، اپنے حِلْم  اور فَضْل و کَرَم کی بنا پر مَـخْفِی رکھا ہے۔ یہ پردہ عنقریب دُور ہو جائے گا جس کے مُتَعَلّق اس کا فرمانِ عالیشان ہے:

یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىٕرُۙ(۹) فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ(۱۰)(پ ۳۰، الطارق:۹، ۱۰)      

ترجمۂ کنز الایمان:جس دن چھپی باتوں کی جانچ ہو گی تو آدمی کے پاس نہ کچھ زور ہو گا نہ کوئی مَدَدگار۔

بروزِ قیامت ذلت اور عزت کا حق دار کون؟

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے غَضَب اور عظیم سَلْطَنَت کے وَقْت جب ان مَـخْفِی باتوں کو ظاہِر کیا جائے گا تو اس دن بندے کو کوئی عَمَل فائدہ دے گا نہ کوئی عِلْم، بلکہ اس کے پاس کوئی قوّت بھی نہ ہو گی جس سے مَدَد حاصِل کر سکے۔ اس لیے کہ مَدَد عزّت شُمار ہوتی ہے اور وہ اس دن ذلیل ہو گا اور کوئی مَدَد گار نہ پائے گا کیونکہ اس دن  مَدَد کرنے والا ہی ذِلّت دینے والا اور قوّت عطا فرمانے والا ہی کمزور کرنے والا ہو گا۔ اس شخص کا حال کس قَدْر بُرا ہو گا جو خود اپنی مَدَد کر سکے گا نہ اپنے پروردگار عَزَّ  وَجَلَّسے کچھ مَدَد پائے گا۔

اگر وہ (دنیا میں)اپنے رب کی مُصَاحَبَت پا لیتا تو یقیناً وہ اس کی مَدَد بھی فرماتا اور اگر وہ اس کی مَدَد پر راضی ہو جاتا تو ضَرور اسے عزّت کا تاج پہناتا اور اگر وہ اسے اپنی وِلایَت کی دولت عطا فرما دیتا تو یقیناً شیطان اس سے دُور رہتا۔ چنانچہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا(۳)(پ ۲۶، الفتح:۳)             ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ تمہاری زَبَرْدَسْت مَدَد فرمائے۔

ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ(۴۳) (پ ۱۷، الانبیآء:۴۳)              

ترجمۂ کنز الایمان:وہ اپنی ہی جانوں کو نہیں بچا سکتے اور نہ ہماری طرف سے ان کی یاری ہو۔

معلوم ہوا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جسے اپنا دوست بنا لے اس کی مَدَد بھی فرماتا ہےاور اسے وُہی کافی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان بھی ہے:

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآىٕكُمْؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا ﱪ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا(۴۵) (پ ۵، النسآء:۴۵ )                    

ترجمۂ کنز الایمان:اوراللہخوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور اللہ کافی ہے والی اور اللہ کافی ہے مَدَد گار۔

 ایک مَقام پر اِرشَاد ہوتا ہے:

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۶)(پ ۱۸، الفرقان:۶)

ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اسے تو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی بات جانتا ہے بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

رب کی حکمت و رحمت

اس کی حِکْمَت یہ ہے کہ وہ اپنے بندے کی بخشش فرماتا ہے اور اس کی رَحْمَت یہ ہے کہ وہ اس کے گناہوں

 کو ڈھانپ دیتا ہے۔ چنانچہ ایک مَقام پر اِرشَاد ہوتا ہے:

یُخْرِ جُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ(۲۵) (پ ۱۹، النمل:۲۵)                  

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن