دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مَشِیَّت اور اس کے اَحْکام کی کوئی حَد نہیں۔ 

سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم اور جبریل کا خوف

ایک مَشْہُور حدیثِ پاک میں ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرت سَیِّدُنا جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام دونوں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خوف سے رو رہے تھے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں وَحِی فرمائی:آپ دونوں کیوں روتے ہیں حالانکہ میں نے آپ دونوں کو اَمان عَطا فرمائی ہے؟ عَرْض کی: اے پروردگار! تیری خُفْیَہ تدبیر سے کون بے خوف ہو سکتا ہے؟[1]

خوف کا سَبَب

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی  فرماتے ہیں)اگر ان دونوں ہستیوں کو یہ معلوم نہ ہوتا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حکْم کی کوئی حَد نہ ہونے کی وجہ سے اس کی خُفْیَہ تدبیر کی  بھی کوئی اِنتِہا نہیں تو وہ کبھی یہ عَرْض نہ کرتے:اے پروردگار! تیری خُفْیَہ تدبیر سے کون بے خوف ہو سکتا ہے؟حالانکہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں یہ اِرشَاد فرمایا  کہ میں نے تم دونوں کو اَمان عَطا فرمائی ہے،تو اس فرمان سے اس کی خُفْیَہ تدبیر بھی خَتْم ہو گئی تھی اور دونوں ہستیوں کو بھی اس خُفْیَہ تدبیر کے خاتِمے کا یقین ہو چکا تھا مگر وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اُس خُفْیَہ تدبیر سے خوف زدہ تھے جو اُن سے پوشیدہ تھی اور اُنہیں یقین تھا کہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے غیب سے آگاہ نہیں کیونکہ وہ عَلَّامُ الْغُیوب ہے اس کے عِلْم کی کوئی اِنتِہا ہے نہ غیب کی کوئی حَد۔ لہٰذا اس نے اپنی بے پایاں عِنَایَت اور نِگاہِ کَرَم کی بنا پر ان دونوں ہستیوں کے خِلاف کوئی فیصلہ نہیں فرمایا، کیونکہ یہ دیگر صِفاتِ باری تعالیٰ سے بھی آگاہ ہیں ۔ اس لیے کہ صِفات کے جاننے اور اَمان عَطا فرمانے کے قول کے باوُجُود خُفْیَہ تدبیر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پوشیدہ اَوصَاف کی بنا پر خَتْم نہیں ہوتی۔گویا ان دونوں ہستیوں کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمان میں نے تم دونوں کو اپنی خُفْیَہ تدبیر سے اَمان عَطا فرمائی؛سے یہ خَدْشَہ لاحِق تھا کہیں یہ مَخْصُوص اَوصَاف پر مبنی فرمان ہی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خُفْیَہ تدبیر نہ ہو اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اس میں کوئی ایسی حِکْمَت پوشیدہ ہو جسے صِرف وُہی جانتا ہے،تاکہ وہ انہیں آزمائے اور دیکھے کہ یہ دونوں بَنْدَگی بجا لاتے ہوئے کیسے اَعمال سر اَنْجَام دیتے ہیں۔ کیونکہ اِبْتِلا بھی اَوصَافِ باری تعالیٰ میں سے ہے اس اِعْتِبَار سے کہ اس کے اَسمائے حسنیٰ میں سے ایک اِسْم اَلْـمُبْتَلِی (یعنی ابتلا میں ڈالنے والا)بھی ہے۔ چنانچہ اِسْم کے مُتَحَقِّق ہونے کی وجہ سے وَصْف کے مُقْتَـضَا کو تَرْک کیا جا سکتا ہے نہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا اپنے بندوں میں جاری دَسْتُور تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے خلیل حضرت سَیِّدُنا ابرہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا اس وَقْت اِمْتِحَان لیا تھا جب انہیں مَنْجَنِـیْق کے ذریعے پھینکا گیا تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے یہی اِرشَاد فرمایا:حَسْبِیَ اللهُ رَبِّی۔یعنی مجھےمیرا پروردگار ہی کافی ہے۔ پھر جب حضرت سَیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے بھی آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی خِدْمَتِ عالیشان میں حاضِر ہو کر عَرْض کی: اَ لَـكَ حَاجَةٌ؟ کیا آپ کو (مَدَد کی) ضَرورت ہے؟ تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے قول ” حَسْبِیَ اللهُ “پر عَمَل کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:نہیں۔ پس اس طرح آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عَمَلی طور پر اپنے قول کو ثابِت کر دِکھایا۔ چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کے قول ” حَسْبِیَ اللهُ “کے جواب میں اِرشَاد فرمایا:

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ(۳۷) (پ ۲۷، النجم:۳۷)                      ترجمۂ کنز الایمان:اور ابراہیم کے جواحکام پورے بجا لایا۔

اس لیے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اَحْکام کے تحت داخِل ہے نہ اس پر اس فیصلے کو نافِذکرنا لازِم ہے جو وہ بندوں کے خِلاف فرماتا ہے، اس کے صِدق کو آزمایا جاسکتا ہے نہ یہ جائز ہے کہ اسے صِدق کی ضِد (یعنی کِذب) سے مُتَّصِف کیا جائےخواہ وہ خود ہی اپنے حکْم کو تبدیل کر دے کیونکہ کلام بھی اسی کا ہے اور اِخْتِیار بھی اسے ہی حاصِل ہے کہ وہ جیسے چاہے اسے بَدَل دے، وہ اپنے دونوں کلاموں میں صادِق ، دونوں حکْموں میں عادِل اور دونوں حالوں میں حاکِم ہے، کیونکہ وُہی حکْم نافِذ کرنے والا ہے مگر کوئی حکْم اس پر لازِم نہیں۔ اس لیے کہ اس کی ذات ان عُلُوم وعُقُول سے مَاوَرَا ہے جو اَمْر و نَہی جیسی حُدُود کی آماجگاہ ہیں، نیز اس کی ذات ان نِشانات و مَعْقُولات سے بھی بالا تر ہے جو مُتَوسِّط اَحْکام و اَقْدَار کی حَیْثِیَّت رکھتے ہیں۔

 (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) ہم نے جو کچھ ذِکْر کیا ہے ان سب باتوں کے مُشاہَدے میں عُلُومِ توحید کا دَقِیق عِلْم اور اَحْوَالِ توحید کا مَقامِ رفیع مُضْمَر ہے۔

سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا خوف

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے مَحْبُوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مِثل حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے وَصْف (یعنی خوف) کا تذکرہ کچھ یوں فرمایا:(فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى(۶۷) (پ ۱۶، طٰه:۶۷) ترجمۂ کنز الایمان:تو اپنے جی میں موسیٰ نے خوف پایا۔ )حالانكہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں (فِرعَون کے پاس بھیجتے وَقْت)اِرشَاد فرمایا تھا:(لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى(۴۶) (پ ۱۶، طٰه:۴۶) ترجمۂ کنز الایمان:ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سنتا اور دیکھتا۔)مگر (جادُوگروں سے مُقابَلے کے وَقْت) حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اس بات سے بے خوف نہیں تھے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے عِلْمِ غَیب میں کوئی بات مَـخْفِی رکھی ہو اور اسے اپنی ذات کے ساتھ خاص رکھتے ہوئے ظاہِر نہ فرمایا ہو، اس لیے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خُفْیَہ تدبیر اور باطِنی اَوصَاف سے بخوبی آگاہ تھے اور یہ بات بھی خوب جانتے تھے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں حکْم دینے کی قُدْرَت عَطا نہیں فرمائی (یعنی وہ حاکِم نہیں) بلکہ مَحْکُوم و مجبور ہیں، چنانچہ انہیں دوسری بار خوف لاحِق ہوا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے دوسرے فرمان سے انہیں دوسری بار اَمان عَطا کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:(لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى(۶۸) (پ ۱۶، طٰه:۶۸) ترجمۂ کنز الایمان: ڈر نہیں بے شک تو ہی غالِب ہے۔)تب جاکر حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو اطمینان حاصِل ہوا جبکہ (جادُوگروں سے مُقَابَلے کے وَقْت)آپ پہلے فرمان کی بنا پر مطمئن نہ تھے۔ کیونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام دَرْج ذیل باتیں بخوبی جانتے تھے:

٭اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا عِلْم وسیع ہے، وہ عَلّامُ الْغُیوب ہے جس کے غَیب کی کوئی اِنتِہا نہیں۔

٭اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمان حکْم کا دَرَجہ رکھتا ہے اور حاکِم پر اَحْکام جارِی نہیں ہوتے جیسا کہ اس پر اَحْکام نہیں لوٹتے بلکہ اَحْکام تو حاکِم سے صادِر ہوکر ہمیشہ مَحْکُوم پر نافِذ ہوتے ہیں۔

٭اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قُدْرَت عظیم ہے اس پر وہ باتیں لازِم نہیں جو اس کے حکْم کی پابند مَخلوق پر لازِم ہیں ،

 



[1]………معجم ا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن