30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) ایسا سرورِ دو۲ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا عثمان بن مَظْعُون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے جَنازہ میں فرمایا تھا جو مُہاجِرین اوّلین میں سے تھے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی شَہادَت پر وہ قول اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہانے کہا تھا۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہافرمایا کرتیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَسَم! عثمان کے بعد میں کبھی کسی کی پاک دَامَنی کی گواہی نہ دوں گی۔[1]
اس سے بھی عجیب رِوایَت یہ ہے کہ (امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے شہزادے) حضرت سَیِّدُنا محمد بن حنفیہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے جب یہ اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عِلاوہ کسی کو بھی گناہوں سے پاک قرار نہیں دے سکتا۔یہاں تک کہ میں اپنے والِد ماجِد جنہوں نے مجھے پیدا کیا انہیں بھی گناہوں سے منزّہ (یعنی پاک)نہیں سمجھتا۔[2] تو شِیعانِ علی نے ان سے اس کے مُتَعَلِّق بات کی (اور دباؤ ڈالا)تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے فضائل و مَنَاقِب بیان کرنے لگے۔
یہی وہ مَفاہیم ہیں جو خائفین کے دِلوں کو جَلاتے رہتے ہیں،ہو سکتا ہے کہ یہی وہ بُعد ہو جس کی یاد نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بڑھاپا طارِی کر دیا تھا جیسا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:مجھے سورہ ھُود اور اس جیسی دیگر سورتیں یعنی سورہ واقعہ، اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ اور عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ نے بوڑھا کر دیا ہے۔[3]
اس لیے کہ سورہ ھُود میں ہے:
اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠(۶۸) (پ ۱۲، ھود:۶۸) ترجمۂ کنز الایمان:ارے لعنت ہو ثمود پر۔
اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠(۶۰) (پ ۱۲، ھود:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان: ارے دور ہوں عاد ہود کی قوم۔
اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠(۹۵) (پ ۱۲، ھود:۹۵)
ترجمۂ کنز الایمان:ارے دور ہوں مدین جیسے دور ہوئے ثمود۔
سورہ واقِعہ میں ہے:(لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ(۲) (پ ۲۷، الواقعة:۲) ترجمۂ کنز الایمان:اس وَقْت اس كے ہونے میں کسی کو اِنکار کی گنجائش نہ ہو گی۔ ) یعنی اس شخص کے لیے اَزَلی حکْم واقِع ہوا جس پر اس کی تقدیر غالِب آ گئی اور وہ بات سچ ہوگئی جو اس کے لیے سچ ہونی ہی تھی۔ چنانچہ مزید اِرشَاد فرمایا:
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ(۳) (پ ۲۷، الواقعة:۳) ترجمۂ کنز الایمان:کسی کو پَسْت کرنے والی کسی کو بُلَندی دینے والی۔
مُراد یہ ہے کہ آخِرَت اس قوم کو پَسْت کر دے گی جو دنیا میں بُلَند مرتبہ تھے کہ جب حقائق ظاہِر ہوں گے اور مخلوق کے اَنْجَام مُنْکَشِف ہوں گے۔
سورہ تکویر میں اَنْجَام کے خاتِموں کا تذکرہ ہے اور یہ اس شخص کے لیے قِیامَت کی عَلامَت ہے جو اس بات کا یقین رکھے جبکہ اس شخص کے لیے اس میں غَضَب کے مَعانی ظاہِر کئے جاتے ہیں جو اس کا مُشاہَدہ کرے۔ چنانچہ اِرشَاد ہوتا ہے:
وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْﭪ(۱۲)وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْﭪ(۱۳)عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ(۱۴) (پ ۳۰، التکویر:۱۲ تا ۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جب جہنّم کو بھڑکایا جائے اور جب جنّت پاس پائی جائے ہر جان کو معلوم ہو جائے گا جو حاضِر لائی۔
یہ ایک واضِح خِطاب ہے یعنی جہنّم کو بھڑکائے جانے اور جنّت کے قریب ہونے کے وَقْت نَفْس پر یہ واضِح ہو جائے گا کہ وہ ایسا کونسا شَر لے کر بارگاہِ خُداوندی میں حاضِر ہوا ہے جو جہنّم کے مُناسِب ہے اور اس نے ایسا کونسا خَیر کا فعل سر اَنْجَام دیا ہے جو جنّت کے لائق ہے، چنانچہ اس بنا پر اسے معلوم ہوجائے گا کہ وہ جنّتی و جہنمی لوگوں میں سے کن میں سے ہے؟ اور اس کا ٹھکانا جنّت و جہنّم میں سے کیاہو گا؟
(اس دن) کتنے ہی دِلوں کی حسرتیں ناتمام رہ جائیں گی جو جنّت کے قریب ہونے کے بعد دُور کر دئیے جائیں گے؟ کتنے ہی نُفُوس کی سانسیں اُکھْڑ جائیں گی جب انہیں جہنّم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر یقین ہو جائے گا کہ وہ ضَرور اس میں ڈالے جائیں گے؟ کتنی ہی آنکھیں ایسی ہوں گی جو قِیامَت کی ہولناکیاں دیکھ کر جھک جائیں گی؟ کتنی ہی عقلیں قِیامَت کے حالات کا مُشاہَدہ کرنے کے باعِث زائِل ہو جائیں گی؟
انبیا بھی برے خاتمہ سے ڈرتے تھے
حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: میں نے دیکھا گویا کہ میں جنّت میں ہوں جہاں میں نے 300انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی زِیَارَت کی اور میں نے ہر ایک سے یہی عَرْض کی:مَا اَخْوَفَ مَا کُنْتُمْ تَخَافُوْنَ فِی الدُّنْیَا؟ یعنی دنیا میں آپ سب سے زیادہ کس شے سے ڈرتے تھے تو سب نے یہی اِرشَاد فرمایا کہ وہ بُرے خاتِمے سے ڈرتے تھے۔
بُرا خاتِمہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک ایسی خُفْیَہ تدبیر ہے جس کے اَوصَاف بیان کیے جا سکتے ہیں نہ اسے سمجھا جاسکتا ہے اور نہ اس سے آگاہ ہوا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی کوئی اِنتِہا نہیں ، اس لیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع