دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

بیان ہو چکا ہے)۔

صحابہ کرام اور خوفِ اِلٰہی

صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تو مذکورہ بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین سے بھی بُلَند مَقام پر فائز تھے،اس کے باوُجُود وہ تمنّا کیا کرتے کہ کاش وہ اِنسان بن کر پیدا نہ ہوتے،حالانکہ انہیں کئی بار جنّت کی یقینی خوش خبری بھی دی گئی (پھر بھی ان کے خوف کا یہی عالَم رہا)۔ چنانچہ،

٭ امیر المومنین حضرت سَیِّدُناابو بکر صِدِّیْق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے: اے پرندے! کاش!میں تیری مِثل ہوتا اور انسان بن کر پیدا ہی نہ ہوتا۔[1]

٭ امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے: میں چاہتا ہوں کہ کاش! میں ایک مینڈھا ہوتا اور میرے گھر والے مجھے کسی مہمان کی ضِیافَت کے لیے ذَبْح کر دیتے۔[2]

٭حضرت سَیِّدُنا ابو ذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے: میری خواہش ہے کہ کاش! میں ایک دَرَخْت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔[3]

٭حضرت سَیِّدُنا طَلْحَہ اور حضرت سَیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرمایا کرتے: ہماری خواہش ہے کہ ہمیں پیدا ہی نہ کیا جاتا۔

٭امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عُثْمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے: میری خواہش ہے کہ کاش! میں مَروں تو پھر کبھی اُٹھایا نہ جاؤں۔[4]

٭ حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہافرماتیں: میں چاہتی ہوں کہ کاش! میں اس طرح بھُلا دی جاؤں کہ کبھی میرا وُجُود ہی نہ رہے۔[5]

٭حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے: کاش! میں راکھ ہوتا۔ ان سے مَرْوِی ایک رِوایَت میں ہے: کاش! میں (کسی جانورکی)کوئی مینگنی ہوتا۔ کاش! میں کچھ نہ ہوتا۔[6]

تھے تو آبا وہ تمہارے ہی ، مگر تم کیا ہو ؟

اَلْغَرَضْ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی ایک کثیر تعداد کی یہی حَالَت تھی اور ایک ہم ہیں جو کبیرہ گناہوں کا اِرْتِکاب کرتے ہیں مگر باتیں کرتے ہیں اَعلیٰ دَرَجات اور سِدْرَةُ الْـمُنْتَھٰی کا قُرْب پانے کی ! ہم یکسر بھول چکے ہیں کہ ہمارے جَدِّ اَمجد حضرت سَیِّدُناآدَم عَلَیْہِ السَّلَام کو صِرف ایک لَغْزِش کی بنا پر جنّت میں داخِلے کے بعد نِکال دیا گیا اور ہماری حَالَت تو یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک جنّت دیکھی بھی نہیں، گویا ہم ٹھنڈے لوہے پر ضَربیں لگا رہے ہیں۔

جنتی کہنے پر سرکار کا صحابہ کی تربیت فرمانا

مَرْوِی ہے کہ اَہْلِ صُفَّہ میں سے ایک صحابی  شہید ہو گئے تو ان کی والِدہ ماجِدہ بولیں:تمہیں مُبارَک ہو! تم جنّت کی چڑیا ہو، تم نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے مَحبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہِجْرَت کی اور راہِ خُدا میں شہید کیے گئے۔ (جب) آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (نے اس عورت کی یہ بات سنی تو) اِرشَاد فرمایا:تمہیں کیا معلوم! ہو سکتا ہے اس نے فُضُول گفتگو کی ہو اور ایسی باتوں (یا کاموں) سے روکتا ہو جو نقصان دہ نہ ہوں۔[7] (لہٰذا کسی کے قطعی جنّتی ہونے کا یقین مَت رکھو بلکہ یہ مُعَامَلہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رَحْمَت پر چھوڑ دو۔)

اسی طرح ایک واقعے میں ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے کسی صحابی کے پاس تشریف لے گئے جو بیمار تھے، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی والِدہ ماجِدہ کو یہ کہتے سنا:تمہیں جنّت مُبارَک ہو۔ (یہ سن کر) آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر حکْم چلانے والی عورت کون ہے؟ اس بیمار صحابی نے عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ میری والِدہ ہیں۔ اِرشَاد فرمایا: تجھے کیا معلوم! ہو سکتا ہے  کہ فلاں لایعنی (بے معنیٰ، فُضُول)باتیں کرتا ہو اور غیر ضَروری چیزوں میں بھی بخل سے کام لیتا ہو۔[8]

کسی کے قطعی جنتی ہونے کا یقین رکھنا

مَرْوِی ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک نَومَولُود بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی۔[9] ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ دُعا مانگتے سنا گیا: اَللّٰهُمَّ قِهِ عَذَابَ الْـقَبْرِ وَعَذَابَ جَهَنَّم۔یعنی اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ !اسے عَذابِ قَبْر اور عَذابِ جہنّم سے بچا۔[10] ایک رِوایَت

 میں ہے کہ کسی عورت نے یہ کہا: تجھے مُبَارَک ہو! تم جنّت کی چڑیا ہو۔ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ناراض ہوتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:کیا تم جانتی ہو کہ ایسا ہی ہو گا؟ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم! میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا رسول ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہو گا؟[11]   کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جنّت کو پیدا فرمایا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور اسی طرح جہنّم کو پیدا فرمایا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا، اب ان میں کوئی زِیادَتی ہو گی نہ کوئی کمی۔[12]

 



[1]………الزهد لوكیع  ،  باب من قال :   یا لیتنی لم اخلق ، ص۳۹۸  ، حدیث:  ۱۶۵ ،  بدون:  وانی لم اخلق بشراً

مصنف ابن ابی شیبة ،  كتاب الزهد ،  كلام ابى بكر الصدیق ، ۸/ ۱۴۴ ، حدیث:  ۲بدون:  وانی لم اخلق بشراً

[2]………موسوعة ابن  ابى الدنيا ،  كتاب المتمنين ، ۲/ ۵۵۹ ، حدیث:  ۱۲۷

[3]………ترمذی ،  کتاب الزھد ، باب فی قول النبی:  لو تعلمون ما اعلم الخ ، ۴/ ۱۴۰ ، حدیث:  ۲۳۱۹

[4]………$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن