دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

عوام و خواص کو کس سے ڈرنا چاہئے؟

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہمارے عالِم (یعنی حضرت سَیِّدُنَا ابو محمد سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی ) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان  (وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ(۴۱) (پ ۱، البقرة: ۴۱) ترجمۂ کنز الایمان:اور مجھی سے ڈرو۔)كی تفسیر میں فرماتے ہیں:یہاں ڈرنے کا حکْم عام ہے یعنی ان چیزوں میں مجھ سے ڈرو جن سے میں نے تمہیں مَنْع کیا ہے۔ جبکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان (وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ(۴۰) (پ ۱، البقرة: ۴۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور خاص میرا ہی ڈر رکھو۔ )كی تفسیر میں فرماتے ہیں:یہاں تقدیر میں لکھے فیصلے سے ڈرنا مُراد ہے اور یہ حکْم خواص کے لیے ہے۔

خوفِ مومنین کے دو۲ مقام

ایک عارِف نے خوفِ مومنین کے دو۲ مَقام بیا ن کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا: ٭ اَبرار یعنی نیک لوگوں کے قُلوب خاتِمہ بِالْخَیر کے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں اور وہ بَس یہی کہتے ہیں: اے کاش! ہمیں معلوم ہوتا کہ ہمارا خاتِمہ کیسا ہو گا؟ ٭جبکہ مُقرّبین کے قُلُوب اس خوف میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ان کی تقدیر میں معلوم نہیں کیا لکھا ہے؟اور وہ کہتے ہیں:کاش! ہمیں معلوم ہو جاتا،ہماری تقدیر میں کیا لکھا ہے؟

یہ دونوں مَقام دو۲ مُشاہَدوں کی پیدا وار ہیں۔ ان میں سے ایک دوسرے سے اَعلیٰ اور اَہَم ہے، جس کی وجہ وہ دو۲ حال ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے سے زیادہ کامِل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے: مُقرّبین کے گناہ گویا کہ نیک لوگوں کی نیکیاں ہوں۔ مُراد یہ ہے کہ نیک لوگ جن باتوں میں رَغْبَت رکھتے ہیں وہ اگرچہ باعِثِ فضیلت ہیں مگر مُقرّبین ان سے کوئی سروکار نہیں رکھتے کیونکہ (بسا اَوقات)وہ ان کے لیے حِجاب کا باعِث (بن جاتی)ہیں۔

جس کی تقدیر میں برا خاتمہ لکھ دیا گیا ہو

جس پر عَذاب مُتَحَقِّق ہو جائے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی تقدیر میں بُرا خاتِمہ لکھ دے تو کوئی شے اسے فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہ ایسے کاموں میں مگن رہتا ہے جن پر کوئی اَجَر ملے گا نہ ان کا کوئی بہتر اَنْجَام ہو گا۔

اس کے اَعمال میں غورو فِکْر سے معلوم ہو گا کہ اس کے اَعمال بُعد و دُوری میں مزید اِضافے کا باعِث بنتے ہیں، کیونکہ بُرا خاتِمہ کبھی درمیانی عمر میں ہی (شروع)ہوجاتا ہے اور اَنْجَام کا اِنتِظار نہیں کیا جاتا،اس لیے کہ بندہ اس عمر میں کسی ایسی مَعْصِیَّت  کو اپنا لیتا ہے جو اس کے بُرے خاتِمے کا سَبَب بنتی ہے۔ کیونکہ یہ دونوں باتیں تقدیر میں ایسے ہی لکھی ہوئی تھیں۔ اس صُورَت میں (بندے کی نیک زِنْدَگی کا)یہ خاتِمہ اس کے بُرے خاتِمے کا آغاز بن جاتا ہے جبکہ ان دونوں خاتِموں کا وَقْت ایک ہی ہے۔ جب اَجَل (موت)آتی ہے اور اَعمال خَتْم ہونے کا وَقْت ہوتا ہے تو دُوریاں اپنی اِنتِہا کو پہنچ جاتی ہیں اور بندہ مقامِ بُعْد میں جا ٹھہرتا ہے۔ چنانچہ،

مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کسی بِدْعَتی کا کوئی عَمَل قبول نہیں فرماتا۔[1] اس لیے کہ اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بتائے ہوئے طریقوں کو قبول نہ کیا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بھی اس کے اَعمال کو قبول نہ فرمایا۔ لہٰذا یہ جس قَدْر  اپنے عَمَل میں کوشِش کرتا جائے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رَحْمَت سے اسی قَدْر دُور ہوتا جائے گا جیساکہ کسی حکیم کے اَشعار ہیں:

مَنْ غَصَّ دَاوٰی بِشُرْبِ الْمَآءِ غَصَّتَهُ                                                 فَکَیْفَ یَصْنَعُ مَنْ قَدْ غَصَّ بِالْمَآءِ؟

بَلْ کَیْفَ یَصْنَعُ مَنْ اَقْصَاہُ مَالِکُهُ؟                                                فَـلَیْسَ یَـنْـفَـعُـهُ طِبُّ الْاَطِبَّآءِ

یعنی جسے کھانے سے اُچھّو لگے تو وہ پانی پی کر اپنے اُچھّو کا عِلاج کر لیتا ہے لیکن جسے اُچھّو ہی پانی سےلگے وہ کیا کرے ؟

بلکہ جسے اس کے آقا  ومالِک نے خود سے دور کر دیا ہو وہ کیا کرے؟ کہ اسے تو کسی طبیب کی طِب بھی فائدہ نہ دے گی۔

سَلَف صالحین اور خوفِ الٰہی

حضرت سَیِّدُنا اِمام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے خوف و حزْن کا سَبَب یہی مُشاہَدہ تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بے نیاز ہےاور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اسی بے نیازی کے سَبَب انہیں اس کے وَصْفِ جَبْرِیَّت کا خَدْشَہ تھا،نیز انہیں یہ بھی خَدْشَہ تھا کہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ انہیں ان کے ساتھیوں کے لیے عِبْرَت و نصیحت کا باعِث نہ بنا دے۔ چنانچہ مَنْقُول ہے کہ وہ 40 سال تک نہیں ہنسے،آپ انہیں کہیں بیٹھا ہوا دیکھتے تو یہی سمجھتے گویا کوئی قیدی ہیں جن کی گردن مارنے کے لیے لایا گیا ہے۔ جب کلام کرتے تو گویا آخِرَت کا آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہے ہوں، جب خاموش ہوتے تو گویا ان کی آنکھوں کے درمیان آگ بھڑک رہی ہو۔ اس شِدّتِ غَم پر جب ان سے کسی نے کچھ کہا تو فرمایا:میں اس بات سے بے خوف نہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو میرا کسی ناپسندیدہ کام میں مبتلا ہونا معلوم ہو اور وہ مجھ سے ناراض ہو کر فرمائے:جا! میں تجھے نہیں بخشوں گا۔ اس صُورَت میں تو میرے تمام اَعمال ضائع ہو جائیں گے۔

خوف کا سَبَب گناہوں کی کثرت نہیں

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ جب حضرت سَیِّدُنَا اِمام حَسَن  بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کا یہ حال ہے تو)  ہم ان سے زِیادَہ اس بات کے سزاوار ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے  ڈریں۔ مگر خوف کا سَبَب گناہوں کی کَثْرَت نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہم ان سے زیادہ خوف والے ہوتے، بلکہ یہ تو قلب کی صَفائی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حَد دَرَجہ عَظَمت ہے۔ چنانچہ مَنْقُول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عَلا بن عَدَوِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی بَہُت بڑے عابِد تھے،جب آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کو جنّت کی خوش خبری دی گئی تو آپ نے سات۷ دن تک گھر کا دروازہ بند کر لیا، کھانے کا ذائقہ تک نہ چکھا اور بس روتے رہتے اور فرماتے جاتے کہ میں تو میں ہی ہوں۔ یہ ایک طویل قِصّہ ہے بَہَرحَال حضرت سَیِّدُنا اِمام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں ان کے شِدّتِ خوف اور کَثْرَتِ بُکا (یعنی بَہُت زیادہ رونے)پر سختی سے مَنْع کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:اے میرے بھائی! اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّتم جنتی ہی ہو، اب کیا اپنے نَفْس کو ہلاک کر دو گے؟

اَلْغَرَضْ آپ اس شخص کے مُتَعَلِّق کیا کہیں گے جس کے شِدّتِ خوف پر حضرت سَیِّدُنا اِمام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی بھی انہیں مَلَامَت فرمائیں(جبکہ ان کے اپنے خوف کا عالم کیا ہے یہ



[1]………ابن ماجه ،  كتاب السنة ، باب اجتناب البدع والجدل ، ۱/ ۳۸ ، حدیث:  ۴۹ ، ۵۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن