دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

انبیائے کرام واولیائے عظام کا دلوں کے بدلنے سے ڈرنا

حضرت سَیِّدُنا با یزید بُسطامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی فرمایا کرتے کہ جب میں مَسْجِد کی طرف چلتا ہوں (مجھے لگتا ہے) گویا میری کمر میں زُنّار[1] ہو  اور مجھے ہر لمحہ یہی خوف لاحِق رہتا ہے کہیں یہ مجھے گرجا گھر یا کسی آتَش کدہ میں نہ لے جائے یہاں تک کہ میں مَسْجِد میں داخِل ہو جاتا ہوں تو وہ زُنّار خود بخود مجھ سے دُور ہو جاتا ہے اور ایسا ہر روز پانچ۵ مرتبہ ہوتا ہے۔

یہ سب ا س لیے ہےکہ ان لوگوں کو یقینی طور پر یہ بات مَعْلُوم تھی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قُدْرَتِ کامِلہ میں دل بڑی تیزی سے بدلتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ ایک بار حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے اپنے حَوَارِیوں سے اِرشَاد فرمایا:اے حَوَارِیوں کے گروہ!تم گناہوں سے ڈرتے ہو اور ہم انبیائے کِرام کُفْر سے ڈرتے ہیں۔

کسی نبی کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے کہ وہ کئی سالوں تک بارگاہِ خُداوندی میں بھوک، جوؤں اور لِباس کی کمی کا شِکوَہ کرتے رہے، پھر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں وَحِی فرمائی:کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میں نے تمہارے دل کو کُفْر سے مَحْفُوظ رکھا کہ تم مجھ سے دنیا مانگ رہے ہو۔ چنانچہ انہوں نے خاک لے کر اپنے سَر پر ڈالی اور عَرْض کی: ہاں! اے میرے رب! میں راضی ہوں،مجھے کُفْر سے مَحْفُوظ رکھ۔

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے اس نبی کو یہ نِعْمَت یاد نہ دِلائی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں نبوّت سے سرفراز فرمایا ہے بلکہ انہیں کُفْر سے بچائے رکھنا یاد دِلایا [2] تو انہوں  نے اس بات کا اِعْتِرَاف کیا اور اپنے حال پر راضی رہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے عِصْمَت طَلَب کی۔  

خائف کا گمان

حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی اور حضرت سَیِّدُنا با یزید بُسطامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی (متوفیٰ ۲۶۱ ھ)سے قبل اِمامُ الزّاہِدین حضرت سَیِّدُنا عَبْدُ الْوَاحِد بِن زَید  رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ (متوفیٰ ۱۷۷ ھ) کا فرمان  ہے:خائِف کبھی اپنے اس گمان کی تصدیق نہیں کرتا کہ وہ جہنّم میں داخِل نہیں ہو گا مگر اپنے اس گمان سے کہ وہ جہنّم میں داخِل ہو گا سے اس لیے ڈرتا ہے کہ وہ کبھی اس سے باہَر نہیں نکلے گا۔

امام حسن بصری کے خوف کا عالم

ان سب سے پہلے اِمامُ الْعُلَما حضرت سَیِّدُنا اِمام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کا فرمان ہے: ایک ہزار سال کے بعد جہنّم سے ایک شخص نکلے گا،اے کاش! وہ شخص میں ہی ہوں۔مزید فرماتے ہیں:مجھے جہنّم سے جس وَقْت آزادی ملی تو پھر مجھے کسی شے کی کوئی پَروا نہ ہو گی۔

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ایسا انہوں نے اس لیے فرمایا تھا کہ انہیں یہ خوف لاحِق تھا کہیں وہ ہمیشہ جہنّم ہی میں نہ رہیں۔

عارفین و مریدین پر شیطانی حملے

شیطان کے عارِفین کے پاس آنے کے راستے یہ ہیں:توحید میں اِلْحَاد، یقین میں شُبہ پیدا کرنا اور صِفَاتِ باری تعالیٰ کے مُتَعَلّق وسوسے  ڈالنا۔ جبکہ مُریدین کے پاس وہ آفات و شہوات کے راستوں سے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عارِفین کو عام لوگوں سے زِیَادَہ خوف لاحِق ہوتا ہے۔ اس لیے کہ شیطان ہر شخص کے پاس اس کی سوچ و فِکْر کے مُطابِق  آتا ہے تاکہ اس کے یقین میں شک پیدا کر سکے جیسا کہ اس کی شہوات کو اس کے لیے آراستہ کرتا ہے۔ چنانچہ ان عارِفین و صِدِّیْقِین کی اَرْوَاح کا تعلّق ان کی تقدیر میں لکھے فیصلے سے مُتَعَلِّق ہو جاتا ہے، جب ان کی تقدیر میں لکھی ہوئی کوئی بات سامنے آتی ہے تو وہ اس کا مُشاہَدہ کر کے دَرْج ذیل اُمُور کی وجہ سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں:

٭۔۔۔۔وہ نہیں جانتے کہ ان کی تقدیر میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں ان کا حَق پر قائم رہنا لکھا گیا ہے کہ ان کا خاتِمہ بھی اسی پر ہو اور اس طرح ان کا شُمار ان لوگوں میں ہونے لگے جن کا تذکرہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان میں ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّاالْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ

عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱) (پ ۱۷، الانبیآء:۱۰۱)                        بھلائی کا ہو چکا وہ جہنّم سے دور رکھے گئے ہیں۔

٭۔۔۔۔وہ ڈرتے ہیں کہ تقدیر ان پر غالِب آجائے اور ان کا شُمار ان لوگوں میں نہ ہونے لگے جن کا تذکرہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے حبیب، دُکھی دِلوں کے طبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اس فرمانِ عِبْرَت نشان میں کیا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ (بعض لوگوں کے مُتَعَلّق)اِرشَاد فرمائے گا کہ یہ لوگ جہنمی ہیں اور (ان کے جہنّم میں جانے کی)مجھے کوئی پَروا نہیں۔[3]

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)کسی سِفَارِش کرنے والے کی سِفَارِش ان لوگوں کو فائدہ دے گی نہ کوئی انہیں جہنّم کی آگ سے بچا پائے گا۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِؕ-اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ(۱۹) (پ ۲۳، الزمر:۱۹)         

ترجمۂ کنز الایمان:تو کیا وہ جس پر عَذاب کی بات ثابِت ہو چکی نجات والوں کے برابر ہو جائے گا تو کیا تم ہِدَایَت دے کر آگ کے مُسْتَحِق  کو بچا لو گے۔

اسی طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَــٴَـنَّ جَهَنَّمَ(پ ۲۱، السجدة:۱۳)

ترجمۂ کنز الایمان:مگر میری بات قرار پا چکی کہ ضَرور جہنّم کو بھر دوں گا۔

 یہ آیتِ مُبارَکہ  اور اس کا مَفہوم اہلِ بصیرت کے خوف کا باعِث ہیں۔

 



[1]………وہ دھاگہ یا ڈوری جو ہندو گلے سے بَغَل کے نیچے تک ڈالتے ہیں  اور عیسائی ، مجوسی اور یہودی کمر میں  باندھتے ہیں ۔

(اردولغت (تاریخی اصول پر) ، ۱۱/  ۱۶۲)

[2]………اس مَقام سے عِبارَت کے کچھ حصے کا ترجمہ عوام الناس کی سمجھ سے بالا تر ہونے اور انہیں  شکوک و شُبْہات سے بچانے کے لیے نہیں  دیا جا رہا۔ البتہ! اہلِ علم کے ذوق کی تسکین کے لیے اَصْل عِبارَت سیاق کلام کے ساتھ کتاب کے آخر میں  دیدی گئی ہے۔

[3]………مسند احمد ، حدیث عبد الرحمن بن قتادة ، ۶/ ۲۰۵ ، حدیث:  ۱۷۶۷۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن