30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوہنے والے کو دوبارہ اس کے تھن کو پکڑنے میں لگتا ہے کہ تقدیر اس پر غالِب آتی ہے اور اس کا خاتِمہ جہنمیوں والے کام پر ہوتا ہے۔[1]
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہ وہ وَقْت ہے جب رُوح حَلْق تک پہنچ جاتی ہے اور سانسیں پورے جِسْم سے نِکَل کر دل اور حَلْق کے درمیانی حصّے میں آجاتی ہیں۔ یہ وَقْت دلوں کی حَالَت بدلنے کا ہے ، یعنی دل حَقیقتِ توحید سے بَدَل کر گمراہی و شک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس وَقْت دُنْیَاوِی سوجھ بوجھ اور تمام عَقْلی عُلُوم خَتْم ہو جاتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانِب سے بندے کے لیے وہ بات ظاہِر ہوتی ہے جس کا اسے گمان تک نہیں ہوتا۔
سب سے زیادہ بُرے خاتِمہ کا شِکار تین۳قسم کے لوگ ہوتے ہیں:
یہ گروہ بِدْعَتی اور دِین میں کَجی والوں کا ہے کیونکہ ان کا اِیمان عَقْل کے ساتھ مَرْبُوط ہوتا ہے۔ ان پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قُدْرَت کی سب سے پہلی نِشانی یہ ظاہِر ہوتی ہے کہ ان کی عَقْل اس نِشانی کے مُشاہَدے سے اُڑ جاتی ہے اور ان کا اِیمان اس طرح خَتْم ہو جاتا ہے کہ اس نِشانی کو دیکھنے کے لیے باقی نہیں رہتا جیسا کہ فَتِیْلہ جَل جانے کے بعد چراغ خود ہی بجھ جاتا ہے۔
یہ گروہ مُتَکَبِّرین اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نِشانیوں اور دُنْیَاوِی زِنْدَگی میں اَولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کی کَرامات نہ ماننے والوں کا ہے۔ ان کے بُرے خاتِمہ کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے یقین کے مالِک نہیں ہوتے جو قُدْرَتِ اِلٰہی کا مُتَحَمِّل ہو اور ان کے اِیمان کی تَقْوِیَت کا باعِث بنے بلکہ شک انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور یقین کی دولت سے مَحْرُوم ہونے کی وجہ سے مزید ان پر قَوِی ہوتا جاتا ہے۔
اس گروہ کی مزید تین۳قسمیں ہیں جو سب بُرے خاتِمہ میں دَرَجات کے لِـحَاظ سے مُـخْتَلِف ہیں۔ اس کے باوُجُود اس تیسرے گروہ کے لوگ پہلے دونوں گروہوں کے مُقَابَلے میں بُرے خاتِمہ کا شِکار کم ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ بُرے خاتِمہ کے بھی مُـخْتَلِف مَقامات ہیں جیسا کہ زِنْدَگی میں شِرک اور یقین کے مُـخْتَلِف مَقامات ہیں۔ چنانچہ ان میں سے بعض لوگ خود کو اس طرح نُمایاں رکھنے کا دعویٰ کرنے والے ہوتے ہیں کہ ان کی نظر ہمیشہ اپنے ہی نَفْس و عَمَل پر رہتی ہے، بعض عَلَانِیَّہ فِسْق کے مُرْتکِب ہوتے ہیں اور بعض گناہوں پر اِصرار کرنے والے عَادِی گناہ گار ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے گناہ زِنْدَگی کے آخری لمحات تک جاری رہتے ہیں، وہ حِجاب اٹھنے تک انہی گناہوں میں لَت پَت رہتے ہیں،مگر جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی واضِح نِشانیاں دیکھتے ہیں تو دل سے توبہ کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اب اَعْضَا و جَوَارِح کے اَعمال خَتْم ہو چکے ہوتے ہیں، ان سے کسی عَمَل کا بجالانا ممکن نہیں ہوتا، لہٰذا ان کی توبہ قبول کی جاتی ہے نہ ان کی لَغْزِشوں کو مُعاف کیا جاتا ہے اور نہ ان پر رَحْم کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس آیتِ مُبارَکہ کے مِصْداق ہیں:
وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِۚ-حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْـٰٔنَ (پ ۴، النسآء:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان سے بھی یہی لوگ مقصود ہیں:
وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ (پ ۲۲، سبا:۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور روک کر دی گئی ان میں اور اس میں جسے چاہتے ہیں۔
اس فرمانِ باری تعالیٰ سے بھی یہی لوگ مُراد ہیں:
فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ (پ ۲۴، المؤمن:۸۴)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب انہوں نے ہمارا عَذاب دیکھا بولے ہم ایک اللہ پر ایمان لائے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ان آیاتِ مُبارَکہ میں اگرچہ جو حکْم بیان کیا گیا ہے وہ کُفّار کے لیے ہے مگر یہ آیات معنوی طور پراور ایک مَقام کے اِعْتِبَار سے کبیرہ گناہوں کے مُرْتکِب لوگوں اور فاسِقین وغیرہ گناہوں کے عَادِی مُجْرِمُوں کو بھی شامِل ہیں۔ اس لیے کہ یہ سب بُرے خاتِمے میں کفّار کے شریک ہیں۔
مذکورہ گروہ کے اَفراد کے مَقامات میں بھی فَرْق ہے۔ چنانچہ،
٭۔۔۔۔ان میں سے ایک مَقام ایسا ہے جو ان لوگوں کے لیے ان کے گناہوں کی شہوات کو ظاہِر کرتا ہے۔
٭۔۔۔۔ایک مَقام ایسا ہے کہ ان لوگوں کے دل چونکہ ذِکْر و خوف سے خالی ہوتے ہیں، لہٰذا جب ان کے سامنے بار بار گناہوں کی یاد پیدا ہوتی رہتی ہے تو انہی گناہوں کے مُشاہَدے کے دوران ہی ان کا خاتِمہ ہو جاتا ہے۔
یہ سب اَسباب خوف کو خَتْم کر دیتے ہیں اور عَقْل مندوں کے دلوں کو توڑ دیتے ہیں۔
مریدگناہوں سے ڈرتا ہے اور عارف کفر سے
حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:مُرید گناہوں میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہے جبکہ عارِف کُفْر میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہے۔
[1]………بخارى ، كتاب احادیث الانبیاء ، باب خلق آدم وذریته ، ۲/ ۴۱۳ ، حدیث: ۳۳۳۲ ، بتغیر قلیل
ترمذى ، كتاب القدر ، باب ما جاء ان الاعمال بالخواتیم ، ۴/ ۵۳ ، حدیث: ۲۱۴۴ ، بتغیرقلیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع