30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دین میں مِلاوَٹ بَہُت بڑا جُرْم ہے اور آخِرَت کا زادِ راہ تیار کرنا زیادہ ترجیح رکھتا ہے۔ چنانچہ،
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مَغْفِرَت نِشان ہے:جس نے میری اُمَّت میں مِلاوَٹ کی اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت ہو۔عَرْض کی گئی:یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اُمَّت کے مِلاوَٹ میں مبتلا ہونے سے کیا مُراد ہے؟اِرشَاد فرمایا:ان کے لیے کوئی ایسی بِدْعَت ایجاد کرنا کہ جس کی یہ لوگ پیروی کرنے لگیں، لہٰذا جس نے ایسا کیا گویا اس نے اُمَّت میں مِلاوَٹ کی۔[1]
خوف کا ثمرہ یہ ہے کہ بندہ عِلْمِ باری تعالیٰ سے مُتَّصِف ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حَیا کرے۔ یہ اَہْلِ اِنْعَام پر سب سے بڑی کَرَم نوازی ہے۔ اس کے اَحْکام دو۲ صُورَتوں میں ظاہِر ہوتے ہیں:
(1) ۔۔۔۔بندہ اپنے سَر اور اس میں شامِل اَعْضَا یعنی کان، آنکھ اور زبان کی حِفَاظَت کرے۔
(2) ۔۔۔۔اپنے پیٹ اور اس کے مُشْتَمِلات یعنی دل، شَرْم گاہ، ہاتھ اور پاؤں کی حِفَاظَت کرے۔
یہ عام لوگوں کا خوف ہے جو حَیا کی اِبْتِدَا ہے۔ جبکہ خاص لوگوں کا خوف یہ ہے:
٭…صِرف وُہی چیز جَمْع کرے جسے کھانا ہے٭… اسی قَدْر عِمارَت بنائے جس میں رہنا ہے۔
٭… کَثْرَت سے کوئی ایسا کام نہ کرے جہاں سے اسے مُنْـتَقِل ہو جانا ہے۔
٭…ان اُمُور میں غَفْلَت کا مُرْتکِب ہو نہ ان اُمُور میں حَد سے تَجاوُز کرے جنہیں اس نے جلد ہی چھوڑ کر آگے روانہ ہو جانا ہے۔
یہی زُہْد ہے اور یہ اَصحابِ یمین میں سے مُتَّقِیْن اَہْلِ حَیا کے حَیا میں اِضافے کا باعِث ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہم نے یہ جو کچھ ذِکْر کیا ہے یہ دو۲ احادیثِ مُبارَکہ کا مَفہوم ہے، ان میں سے ایک عام اور دوسری خاص ہے۔ چنانچہ ہر وہ شخص جس نے اپنے دل کو شروع میں ہی عَمَل کا عَادِی نہ بنایا اور خوف کو اپنے اِرادے پر طارِی نہ کیا جَہانِ فانی سے کُوچ کے وَقْت کامیابی کا سہرا اپنے سَر سجا سکتا ہے نہ مَعْرِفَت کی بُلَندیوں میں مُتَّقِیْن کا اِمام بن سکتا ہے۔
سب سے اعلیٰ خوف یہ ہے بندے کا دل خاتِمہ بِالْخَیر کی فِکْر میں مبتلا ہو، اسے کسی قسم کے عِلْم و عَمَل سے سُکُون ملے نہ کسی اَعلیٰ و اَفضل عِلْم کی بنا پر یا بڑے بڑے نیک اَعمال کے سَبَب اسے قطعی نجات کا یقین ہو۔ اس لیے کہ خاتِمہ کیسا ہو گا یہ اسے معلوم نہیں۔ البتہ! مَنْقُول ہے کہ اَعمال کا وَزْن ان کے خاتِموں کے مُطابِق کیاجائے گا۔[2]
حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مَغْفِرَت نشان ہے:بندہ 50 سال تک جنتیوں والے اَعمال کرتا ہے یہاں تک کہ کہاجانے لگتا ہے یہ جنتی ہے۔[3] ایک رِوایَت میں ہے: یہاں تک کہ اس کے اور جنّت کے درمیان ایک بَالِشْت کا فاصِلہ رہ جاتا ہے، پھر تقدیر اس پر غالِب آتی ہے اور اس کا خاتِمہ جہنمیوں والے کام پر ہوتا ہے۔[4]
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) وَقْت کی اس معمولی مِقْدَار میں (کہ جب بندہ جنّت سے ایک بَالِشْت کے فاصِلے پر ہو اور لمحہ بھر میں جنّت میں داخِل ہونے والا ہو) جسمانی اَعْضَا کے ذریعے کوئی (جنتی)عَمَل سَراَنْجام نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ! یہ (وَقْت کی معمولی مِقدار)اَعمالِ قُلُوب سے تعلّق رکھتی ہے جس کا مُشاہَدہ عقلیں کرتی ہیں۔
(بندے پر تقدیر کچھ یوں غالِب آتی ہے کہ)وہ (جنّت میں لے جانے والی)اس توحید میں شِرک کرنے لگتا ہے جو ابھی تک (اس کے خاتِمہ بِالْخَیر کی بِنا پر)مُتَحَقِّق نہیں ہوئی اور اس یقین میں شک کرنے لگتا ہےجس کا دُنْیَاوِی زِنْدَگی میں اسے مُشاہَدہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ (خاتِمہ کے وَقْت ظاہِری)حِجاب دُور ہوتے ہی اس کی کَیْفِیَّت واضِح ہوجاتی ہے، اس پر اس کے اَصْل اَوصَاف غالِب آجاتے ہیں اور یوں اس کا حال ظاہِر ہوتا ہے مثلاً بندے کے بُرے اَعمال ظاہِر ہوتے ہیں تو اس کا دل انہیں آراستہ کرنے میں لگ جاتا ہے یا زبان ان کے ذِکْر میں مشغول ہوجاتی ہے یا اس کاوِجدان ان اَعمال میں کھو جاتا ہے۔ پھر اس کا یہ حال ہی اس کا خاتِمہ بن جاتا ہے جس پر اس کی رُوح نکلتی ہے اور یوں اس پر تقدیر کا لکھا غالِب آتا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اُولٰٓىٕكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِؕ- (پ ۸، الاعراف:۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:انہیں ان کے نصیب کا لکھا پہنچے گا۔
یہ کَیْفِیَّت جِسْم سے رُوح کی جُدائی کے وَقْت ہوتی ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠(۱۰۹) (پ ۱۲، ھود:۱۰۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک ہم ان کا حصّہ انہیں پورا پھیر دیں گے جس میں کمی نہ ہو گی۔
ایک رِوایَت میں مذکورہ حدیثِ پاک کے اَلفاظ کچھ یوں ہیں:(بندہ 50 سال تک جنتیوں والے اَعمال کرتا ہے یہاں تک کہ)اس قَدْر وَقْت باقی رہ جاتا ہے کہ جس قَدْر وَقْت اونٹنی کا دودھ
[1]………فردوس الاخبار ، باب المیم ، ۲/ ۲۸۳ ، حدیث: ۶٠۷۳
[2]………حلیة الاولیاء ، وهب بن منبه ، ۴/ ۳۶ ، حدیث: ۴۶۷۲
بخارى ، كتاب القدر ، باب العمل بالخواتیم ، ۴/ ۲۷۴ ، حدیث: ۶۶٠۷ ، بتغیر
[3]………ابن ماجه ، كتاب الوصایا ، باب الحیف فی الوصیة ، ۳/ ۳۰۵ ، حدیث: ۲۷٠۴ ، بتغیر
[4]………بخارى ، كتاب احادیث الانبیاء ، باب خلق آدم وذریته ، ۲/ ۴۱۳ ، حدیث: ۳۳۳۲ ، بتغیر قلیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع