30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتے ہیں:محبوب سے جُدائی کے خوف کے وَقْت نارِ جہنّم کا خوف اس طرح ہے جیسے کوئی قطرہ گہرے سمندر میں گر گیا ہو۔
ہر مومِن اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتا ہے مگر ہر مومِن کا خوف بَقَدْرِ قُربِ خداوندی ہوتا ہے۔چنانچہ اِسلام کا خوف یہ ہے کہ ٭…مومِن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےہر شے پر غالِب اور بَرتَر ہونے کا اِعْتِقَاد رکھے ٭…اس کی قُدْرَت و سَلْطَنَت کو تسلیم کرے ٭…اس نے اپنے جس عَذاب کی خَبَر دی ہے اور جس سزا سے ڈرایا ہے اس کی تصدیق کرے۔
حضرت سَیِّدُنا فُضَیْل بِن عِیاض رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب تم سے یہ سوال ہو کہ کیا تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے ہو تو خاموش رہو۔اس لیے کہ اگر تم نے نفی میں جواب دیا تو کُفْر کے مُرْتکِب ہو گے اور اگر اِثبات میں جواب دیا تو (تم اپنی بات میں سچّے نہ ہو گے کیونکہ)تمہارے اَوصَاف اہلِ خوف جیسے نہیں۔
کسی واعِظ نے ایک دانا و حکیم شخص سے شِکایَت کرتے ہوئے عَرْض کی:آپ کا اس کے مُتَعَلّق کیا خَیال ہے کہ میں ان لوگوں کو وَعْظ و نصیحت کرتا ہوں اور انہیں ذِکْرِ خُداوندی سناتا ہوں مگر ان پر کوئی اَثَر ہی نہیں ہوتا؟ اس دانا شخص نے جواب دیا:اس کو نصیحت کیسے نفع دے سکتی ہے جس کے دل میں خوفِ اِلٰہی نہ ہو؟
دانا شخص کے قول کی تصدیق اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان سے بھی ہوتی ہے:
سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ(۱۰) وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ (۱۱)(پ ۳۰، الاعلٰی:۱۰، ۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:نصیحت مانے گا جو ڈرتا ہے اور اس سے وہ بڑا بدبخت دُور رہے گا۔
یعنی نصیحت سے اِجْتِنَاب کرنے والا بدبخت ہوتا ہے۔ معلوم ہوا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس شخص کو بدبخت قرار دیا جس کے دل میں خَوفِ اِلٰہی نہیں اور اس پر نصیحت کو قُبول کرنا حَرام ٹھہرایا ہے۔
عوام مومنین کے خوف کا تعلّق ظاہِری اِرادہ کے جاننے کی وجہ سے دل کے ظاہِر سے ہوتا ہے اور خواص مومنین یعنی اہلِ یقین کے خوف کا تعلّق باطِنی وِجدان حاصِل ہونے کی بنا پر دل کے باطِن سے ہوتا ہے۔ البتہ! خوفِ یقین کا تعلّق صِدِّیْقِین یعنی ان عارِفین سے ہے جنہیں اُن خوف دِلانے والی صِفات کا مُشاہدہ حاصِل ہے جنہیں اپنانے کا انہیں حکْم دیا گیا ہے۔ چنانچہ،
سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے:بندہ جب اپنی قَبْر میں جاتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سِوا ہر وہ شے جس سے وہ ڈرا کرتا تھا مِثالی صُورَت میں اسے قِیامَت تک ڈراتی رہتی ہے۔[1]
جو اَہْلِ اِیمان خَوفِ اِلٰہی سے مُتَّصِف ہیں ان کے خوفِ یقین کی اِبْتِدَا یہ ہے کہ ہر وَقْت نَفْس کے مُحاسَبہ میں مشغول رہیں، ہر لمحہ اپنے رب کی رَضا کی خاطِر مُرَاقَبہ میں رہیں اور شُبْہات سے بچتے رہیں یعنی ہر وہ شے جس کے مُتَعَلّق قطعی یقین نہ ہو اور وہ عَمَل جس کے بارے میں قطعی سمجھ نہ ہو اس سے بچیں۔
حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں وَحِی فرمائی: پرہیزگار لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا میں نے (دنیا میں)حِساب نہ لیا ہو اور اس کے پاس جو کچھ ہے اس کی تفتیش نہ کی ہو، (بروزِ قِیامَت)انہیں حِساب کے لیے اپنی بارگاہ میں کھڑا کرنے سے مجھے حَیا آتی ہے۔[2]
خوف کے تین۳حال
(1) ۔۔۔۔وَرَع و تقویٰ (2) ۔۔۔۔ اَعْضَا و جَوَارِح کو شُبْہات سے روکنا اور (3) ۔۔۔۔ خُشُوعِ قَلْب و اِظْہَارِ عِجز کے ساتھ ہر قسم کی فُضُول حَلال چیزوں سے بچنا خوف کے حال ہیں۔
امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:جسے جنّت کا شوق ہو وہ خواہشات سے دُور رہتا ہے اور جسے آگ کا ڈر ہو وہ حَرام ٹھہرائی گئی چیزوں سے بچتا ہے۔[3]
زبان کوقابو میں رکھنا بھی خوف ہے
زبان کو منہ کے اندر قید کر دینا اور باتوں سے روکے رکھنا بھی خوف ہے تاکہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دِین یا عِلْم میں کوئی ایسی بات شامِل نہ کر دے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی کِتاب میں مَشْرُوع قرار دیا ہو نہ اس کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی سنّت میں کیا ہو اور نہ اَئمّۂ کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام نے اس کے مُتَعَلِّق کوئی کلام کیا ہو۔نیز وہ بات ان اُمُور میں سے ہو جن کی اَصْل نہ کِتاب و سنّت میں ہو اور نہ واضِح طور پر کسی نے اسے عِلْم کہا ہو۔
لہٰذا ایسی باتوں سے بچے اور پوچھ گچھ کے ڈر سے ایسے اُمُور سر اَنْجَام نہ دے جن کا اسے قطعی عِلْم نہ ہو
اور ان اُمُور میں بھی دَخْل اندازی نہ کرے جن میں مَـخْفِی خواہش و دنیاوی لذّت موجود ہو۔
سب سے پہلے نصیحت کس کو اور کیا کرے؟
رَضائے خُداوندی کے حُصول کی خاطِر بندے کا اپنے نَفْس کو نصیحت کرنا بھی خوف ہے کیونکہ اس کا نَفْس مخلوق میں سب سے زیادہ نصیحت کا حَق رکھتا ہے، اس کے بعد وہ مخلوق کو نصیحت کرے اور نصیحت کی اِبْتِدَا دین و آخِرَت کے اُمور سے کرے، پھر اس کے بعد اَسبابِ دنیا کا ذِکْر کرے کیونکہ اُمُورِ دِین و آخِرَت زیادہ اَہَمِیَّت کے حامِل ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع