30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں مگر (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) میرے نزدیک فَقْر اور آزمائش ان سے زیادہ مختصر اور جلد رَسائی دِلانے والے راستے ہیں۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۲۱) (پ ۱۲، یوسف:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ اپنے کام پر غالِب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے۔
حضرت سَیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے مَنْقُول ہے کہ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اپنے اپنے گمان کے مُطابِق عَمَل کرتے ہیں، مومِن حُسْنِ ظَن کی بِنا پر اَچھّے عَمَل کرتا ہے اور مُنافِق و کافِر سُوئے ظَن (یعنی بد گمانی) کی بِنا پر بُرے عَمَل کرتا ہے۔[1]
٭…٭…٭…٭…٭…٭
٭…٭…٭
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
٭…٭…٭
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مَقَامَاتِ یَقِین میں سے پانچواں مَقام
مَقامِ خَوف کی شَرْح اور خَائِفِین کے اَوصَاف
علم کی عقل پر فضیلت
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ(۴۳)(پ ۲۰، العکنبوت:۴۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور انہیں نہیں سمجھتے مگر عِلْم والے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہاں عِلْم کو عَقْل سے اَعلیٰ ٹھہراتے ہوئے ایک مَقام قرار دیاگیا ہے، جبکہ ایک جگہ پر اِرشَادہوتا ہے:
اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ- (پ ۲۲، فاطر:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ سے اس کے بندوں میں وُہی ڈرتے ہیں جو عِلْم والے ہیں۔
اس آیتِ مُبارَکہ میں خَشِیَّت کو عِلْم کا ایک ایسا مَقام قراردیا گیا ہے جو اسی سے ثابِت ہے، حالانکہ خَشِیَّت مَقامِ خوف کا حال ،خوف حقیقتِ تقویٰ کا نام اور تقویٰ اس عِبَادَت کا ایک جامِع مَفہوم ہے جو اوّلین و آخرین کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک رَحْمَت ہے۔ لہٰذا عِبَادَت اور تقویٰ دونوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں کچھ یوں بیان فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۲۱)(پ ۱، البقرة:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اے لوگو اپنے رب كو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا یہ اُمِّید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔
ایک جگہ پر اِرشَادفرمایا:
وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-(پ ۵، النسآء:۱۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اوربے شک تاکید فرما دی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کِتاب دئیے گئے اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔
بلاشبہ یہ آیتِ مُبارَکہ قرآنِ کریم میں قُطْب کی حَیْثِیَّت رکھتی ہےجس پر اس کا مَدار ہے۔
تقویٰ ایک ایسا سَبَب ہے جس کی نِسْبَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی جانِب فرمائی مَحْض ٭اسے شَرَف بخشنے ٭مَفہوم کے اِعْتِبَار سے اسے اپنی بارگاہ تک رسائی کا ذریعہ بنانے ٭اپنے بندوں کو اس کے ذریعے عزّت عَطا فرمانے اور٭اسے عظیم بنانے کے لیے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ- (پ ۱۷، الحج:۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کو ہر گز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ انکے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔
ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ- (پ ۲۶، الحجرات:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزّت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
ایک رِوایَت میں ہے کہ سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:جب بروزِ قِیامَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اَوّلین و آخرین کو جَمْع فرمائے گا تو انہیں اس قَدْر بُلَندآواز سے نِدا فرمائے گا کہ دُور والا بھی اس نِدا کو اسی طرح سنے گا جس طرح قریب والا سنے گا۔پھر اِرشَاد فرمائے گا:اے لوگو!جب سے میں نے تمہیں پیدا کیا ہے میں تمہاری باتیں سن رہا ہوں، آج تم میری بات سنو! کیونکہ یہ تمہارے ہی اَعمال تم پر پیش کیے جا رہے ہیں۔[2] اے لوگو! میں نے ایک نَسَب بنایا اور تم نے بھی ایک نَسَب بنایا، پھر تم نے میرے نَسَب کو خَتْم کر کے اپنے نَسَب کو ترجیح دی۔ میں نے تم سے کہا(اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ- (پ۲۶، الحجرات:۱۳) ترجمۂ کنز الایمان:بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزّت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ )مگر تم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع