30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجھ سے اَعلیٰ دَرَجات مانگا کرتا تھا اور تم آگ سے نجات کا سوال کیا کرتے تھے، میں نے ہر ایک کو اس کے سوال کے مُطابِق عَطا فرمایا ہے۔
سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عَظَمت نِشان ہے: ایک شخص کو آگ سے نِکال کر بارگاہِ خداوندی میں کھڑا کیا جائے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے دَرْیَافْت فرمائے گا:تو نے اپنا مَقام کیسا پایا؟ عَرْض کرے گا:اے میرے رب بَہُت بُرا ٹھکانا ہے؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا:اسے اس کی جگہ لوٹا دو۔ وہ واپَس جاتے ہوئے بار بار مڑ کر دیکھے گا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِرشَاد فرمائے گا:پیچھے مڑ کر کیوں دیکھ رہے ہو؟ عَرْض کرے گا:مجھے اُمِّید تھی کہ تو مجھے جہنّم سے نِکالنے کے بعد دوبارہ اس میں نہیں بھیجے گا۔چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا: اسے جنّت میں لے جاؤ۔[1] (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ یوں)رِجا اس شخص کے جنّت میں جانے کا ذریعہ بن جائے گی جیسا کہ دنیا میں خَوفِ اِلٰہی اہلِ خَوف کے
جنّت میں جانے کا راستہ و ذریعہ ہے۔ اسی طرح مَرْوِی ہے کہ ایک شخص جَلْدی جَلْدی جہنّم کی طرف لپکے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا: اسے واپَس لاؤ۔ پھر جب اس سے جَلْدی جَلْدی جہنّم کی طرف بھاگنے کا سَبَب پوچھا جائے گا تو عَرْض کرے گا:میں نے دنیا میں تیری نافرمانی کا وَبال چکھ لیا تھا اب آخِرَت میں اس نافرمانی کے عَذاب سے بے پَروا نہ تھا۔فرمایا جائے گا:اسے جنّت میں لے جاؤ۔[2]
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک قوم کے اَوصَاف بیان کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗؕ- (پ ۱۵، بنی اسرائیل:۵۷)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافِر پوجتے ہیں وہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مُقرَّب ہے اس کی رَحْمَت کی اُمِّید رکھتے اور اس کے عَذاب سے ڈرتے ہیں۔
یہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اَوْلِیا کے لیے رِجا کو اپنے قُرب اور وسیلے کا ذریعہ قرار دیا ہے جیسا کہ خوف اس تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ مذکورہ آیتِ مُبارَکہ کی ایک تفسیر میں ایسا ہی مَرْوِی ہے بشرطیکہ یہاں مُراد مقبول بندے ہوں اور مذکورہ اَوصَاف بُتوں کے نہ ہوں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دَرْج ذیل فرمانِ عالیشان میں مومنین کو قُرْب چاہنے کا یہ طریقہ بتایا گیا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ (پ ۶، المائدہ:۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اے اِیمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہ سب رِجا کے اَحْکام اور اہلِ رِجا کے اَوصَاف ہیں، جس میں یہ پائے جائیں گے وہ اہلِ رِجا کے دَرَجات کا مُسْتَحِق ہو گا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں اس کا شُمار مُقرَّبین میں ہو گا اور جس میں ان میں سے کوئی ایک وَصْف بھی پایا جائے گا اسے بھی رِجا میں ایک مَقام حاصِل ہوگا۔
بندگانِ خدا اپنا کونسا مَقام ظاہِر کرتے ہیں؟
جان لیجئے! مَقاماتِ یقین ایک دوسرے کو خَتْم نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے میں داخِل ہوتے ہیں، لہٰذا جس پر اس کا حال مُشاہَدے کی بِنا پر غالِب ہو اس کے اَوصَاف اس پر غالِب حال کے مُطابِق ہو جاتے ہیں اور باقی مَقامات اس میں حَسْبِ سابِق مَوجُود رہتے ہیں۔ مثلاً جس نے کسی مَقام کی شرائط پر مکمل عَمَل کیا اور اس مَقام کے مُطابِق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے تمام اَحْکام بجا لایا تو وہ مَوجُودہ مَقام سے اس دوسرے مَقام کی طرف منتقل ہو جائے گا اور پہلا مَقام اس کے لیے مَحْض عِلْم اور دوسرا مَقام جس پر وہ اب فائز ہے اس کے لیے وِجدان کی حَیْثِیَّت اِخْتِیار کر جاتا ہے، بندہ وِجدان کو چھپاتا ہے کیونکہ یہی اس کا راز ہوتا ہے اور اپنے گزَشْتَہ مَقام یعنی عِلْم کا اِظْہَارکر دیتا ہے کیونکہ وہ اس مَقام سے بخوبی گزر آیا ہے اور اب یہ اس کے لیے بڑا واضِح ہو چکا ہے۔
مَقامِ رِجا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہےجو اس کے بعض بندوں سے ایسے اَعمال کی بجاآوری کا باعِث بنتا ہے جو دوسرے مَقامات نہیں کر سکتے۔ کیونکہ بعض قُلُوب نَرْم ہوتے ہیں اور وہ کَرَم و اِحسان کے مُشاہَدے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں اور اس کے اِحسانات سے مطمئن ہوکر ایسے اَعمال بجا لاتے ہیں جو خوف اور ڈر سے نہ کر پاتے۔ بلکہ ! بسا اَوقات خوف انہیں مُعامَلات کی ادائیگی سے بھی روک دیتا ہے اور وہ وَحْشَت زدہ ہو جاتے ہیں، چنانچہ رِجا ہی ان قُلُوب کا راستہ ہے جس پر یہ پائے جاتے ہیں۔
اَحْوَال میں رِجا کی مِثال کسی شخص کی حالَتِ غِنا اور عَافِـیَّت جیسی ہے کہ عَافِـیَّت و غِنا کے وَقْت بندے کا دل مطمئن ہوتا ہے، اس کے اِرادے مُنْتَشِر نہیں ہوتے، چاک وچوبند رہتا ہے اور حُسْنِ مُعامَلہ کی فِکْر کرتا ہے۔ جیسا کہ حَدِیْثِ قُدْسِی ہے:میرے بعض بندے ایسے ہیں کہ غِنا ہی انہیں دُرُسْت رکھ سکتی ہے اور اگر میں انہیں فَقْر میں مبتلا کر دوں تو وہ فَساد کا شِکار ہو جائیں ۔ میرے بعض بندے ایسے ہیں جنہیں صِحّت ہی دُرُسْت رکھ سکتی ہے اگر میں انہیں بیمار کر دوں تو وہ فَساد کا شِکار ہو جائیں۔ میں اپنے بندوں کی تدبیر اپنے عِلْم کے مُطابِق کرتا ہوں کیونکہ میں ہی ان کی حَالَت سے خوب باخبر ہوں۔[3] اسی طرح میرے بعض بندے ایسے ہیں جن کی اِصلاح صِرف رِجا میں ہے، ان کا دل اسی پر سیدھا رہتا ہے، حُسْنِ ظَن کے وُجُود سے ہی ان کا مُعامَلہ اَچھّا ہوتا ہے۔پس رِجا ہی ان کا طریق ہے، یہی ان کا مَقام و عِلْم ہے، اس کی مَوجُودَگی میں ان کا قلب مَعِیَّتِ خداوندی کی لذّت کی حلاوَت پاتا ہے، مگر یہ مَحْض بارگاہِ خداوندی تک جانے والا ایک راستہ ہے۔ لیکن خوف اس سے بھی چھوٹا راستہ ہے اور جو راستہ چھوٹا ہو وہی اَعلیٰ ہوتا ہے۔ جیسا کہ غِنا اور عَافِـیَّت بھی اگرچہ بارگاہِ خداوندی تک رسائی کے دو۲راستے
[1]………كتاب التوحید واثبات صفات الرب لابن خزیمة ، باب ذكر كثرة من یشفع له الرجل …الخ ، ۲/ ۷۴۹ ، حدیث: ۴۷۹
[2]………حلية الاولياء ، بلال بن سعد ، ۵/ ۲۵۸ ، حدیث: ۷۰۴۰
قوت القلوب کے ایک نسخے میں اس کے بعد یہ بھی ہے: ایک رِوایَت میں ہے کہ وہ شخص عَرْض کرے گا: دنیا میں جس طرح میں نے تیری نافرمانی کی آخِرَت میں بھی تیری نافرمانی کا مُرْتکِب ہونے کا اندیشہ تھا۔ چنانچہ اللہعَزَّ وَجَلَّفرمائے گا: اسے جنّت میں لے جاؤ۔
[3]………موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، كتاب الاولیاء ، ۲/ ۳۸۵ ، حدیث: ۱
حلیة الاولیاء ، حسین بن یحیى الحسنی ، ۸/ ۳۵۵ ، حدیث: ۱۲۴۸۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع