30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کِرام اسے رِجا سمجھتے ہی نہیں کیونکہ رِجا تو یقین کا ایک مَقام ہے نہ کہ اہلِ یقین کی صِفَت۔ البتہ!یہ رِجا رَحْمَتِ خُداوندی کے حُصُول کے
فریب میں مبتلا ہونے، فَضْلِ خُداوندی سے غافِل ہونے اور اَحْکَامِ خداوندی سے جَہالَت برتنے کا نام ہو سکتا ہے۔ حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک قوم کو تنبیہ فرمائی جو اس طرح کا گمان رکھتی تھی ، وہ لوگ دنیا کی مَحبَّت اور اس کی رَضا میں ہر لمحہ مگن رہتے اور اس کے باوُجُود مَغْفِرَت کی تمنّا رکھتے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں خَلْف کا نام دیا۔ خَلْف سے مُراد برے لوگ ہیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایسے لوگوں کو سخت عَذاب کی وَعِید سنائی اور اِرشَاد فرمایا:
فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَاۚ- (پ ۹، الاعراف:۱۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر ان کی جگہ ان کے بعد وہ ناخَلْف آئے کہ کِتاب کے وارِث ہوئے اس دنیا کا مال لیتے ہیں اور کہتے اب ہماری بخشش ہو گی۔
حقیقتِ رجا پر مبنی روایات باعث ہیں ۔۔۔
حقیقتِ رجا کے مُتَعَلِّق مَرْوِی روایات باعِث ہیں:
٭…دھوکے و فریب میں مبتلا لوگوں کے دھوکے و فریب میں مزید اِضَافے کا۔
٭…اہلِ اِسْتِدرَاج پر حِجاب کی زِیادَتی اور نعمتوں میں خَسارے کا۔
٭…سچّی توبہ کرنے والوں کے دَرَجات میں بُلَندی کا۔
٭…مُخْلِص مُـحِبِّین کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا٭…کَرَم و حَیا والوں کے سُرُور کا۔
٭…گناہوں سے دامَن کو آلودہ ہونے سے بچانے اور ٭…اپنا وعدہ پورا کرنے والوں کیلئے راحت کا۔
٭… رِجا سے ان لوگوں کا کَرَم مزید واضِح ہوتا ہے۔
٭…رِجا کی مَوجُودَگی میں ان کی حَیا میں زِیادَتی ہوتی ہے۔
٭…رِجا سے ان کے غموں کو سُکُون ملتا ہے۔ ٭…ان کی عقلیں راحَت پاتی ہیں۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہی وہ لوگ ہیں جو رِجا اور حُسْنِ ظَن کی بنا پر ایسی عِبادات بجا لاتے ہیں جو خوف کے باعِث سَر اَنْجَام نہیں دی جا سکتیں۔کیونکہ خوف اکثر مُعامَلات کے خاتِمے کا باعِث ہوتا ہے۔ اَلْغَرَضْ رِجا ہی اہلِ رِجا کے لیے وہ واحِد راستہ ہے جس پر چلنے کی انہیں اُمِّید رہتی ہے۔ جیسا کہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشَاد فرمایا :اللہ عَزَّ وَجَلَّ حضرت (سَیِّدُنا) صُہَیب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پر رَحْم فرمائے، اگر یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے نہ ڈرتے تو بھی مَعْصِیَّت میں مبتلا نہ ہوتے۔[1] یعنی رِجا کی وجہ سے مَعاصی تَرْک کر دیتے نہ کہ خوف کی وجہ سے۔ پس رِجا ہی ان کا طریق ہے اور یہی لوگ حقیقت میں اہلِ رِجا ہیں،رِجا ان کی عَلامَت ہے، انہی کے لیے ہم نے ایسے اَسباب ذِکْر کیے ہیں جو رِجا کا مُوجِب اور اہلِ صَفا کے قُلُوب میں حُسْنِ ظَن پیدا کرتے ہیں۔
٭…مخلوق کے ساتھ حُسْنِ اَخلاق سے پیش آنا٭… ان کے مُعامَلات پر صَبْر کرنا ٭…ان کی کوتاہیوں کو مُعاف کر دینا ٭…ان کے ساتھ نَرْمی سے پیش آنابھی رِجا کی صُورَتیں ہیں کیونکہ یہ صورتیں قُرْبِ اِلٰہی پانے، اَوصَافِ باری تعالیٰ سے مُتَّصِف ہونے، ثواب کی اُمِّید رکھنے، وَعدَۂ اِلٰہی کی تکمیل اور سُنّتِ رسول کی پیروی کا ذریعہ ہیں۔ نیز ٭… بُری خواہشات اور سرکش شہوات کو تَرْک کرنا اور ٭…ان کے بدلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بہترین اَجَر و ثواب کا گمان رکھنا بھی رِجا میں شامِل ہے۔ چنانچہ،
حضرت سَیِّدُنااَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ رحمٰن عَزَّ وَجَلَّکے عَرْش کے سامنے ایک کمرہ ہے جس کی طرف حضرت سَیِّدُناجبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو بھیجا گیا، وہ اس میں داخِل ہوئے تو بارگاہِ خداوندی میں بے اِخْتِیار سجدہ ریز ہو کر عَرْض کی:اے میرے رب! یہ کمرہ کس نبی، صدیق یا شہید کے لیے ہے؟ اِرشَاد ہوا :یہ کمرہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنی خواہشات پر میری مرضی کو ترجیح دے۔
٭… نیکیاں کرنا اور ٭…حُسْنِ توفیق کی دولت کا ملنا بھی رِجا کی صورتیں ہے، بندہ حُسْنِ ظَن کی توفیق ملنے کی بنا پر اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ سے اس کی عظیم رغبتوں اور عَطاؤں کو مانگ سکتا ہے۔ چنانچہ،
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہِدَایَت نِشان ہے:جب تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے کچھ مانگو تو اپنی رَغْبَت کی شِدّت کا اِظْہَار کرو اور اس سے فِردَوسِ اَعلیٰ مانگو۔ اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں کوئی شے (عَطا فرمانا)دُشْوَار نہیں۔[2] ایک رِوایَت میں حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عَظَمت نِشان ہے:کَثْرَت سے دامَنِ سوال کو پھیلائے رہو اور بُلَند دَرَجات مانگا کرو، کیونکہ تم اس ہستی سے مانگ رہے ہو جو جَوَّاد اور کریم ہے۔
ہر ایک کو اس کے سوال کے مُطابِق ملتا ہے
رِوایات میں ہے کہ دو۲شخص بڑے عِبادَت گزار تھے، عِبادَت میں دونوں کا دَرَجہ برابر تھا، مگر جب دونوں جنّت میں داخِل ہوں گے تو ایک کا دَرَجہ دوسرے سے بُلَند ہو گا۔ دوسرا عَرْض کرے گا: اے میرے رب! دنیا میں اس نے مجھ سے زیادہ عِبادَت نہیں کی، پھر بھی تو نے اسے مَقامِ عِـلِّـیِّیْن میں مجھ پر بُلَند دَرَجات عَطا فرمائے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا:یہ دنیا میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع