30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سَیِّدُنامالِک بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفَّار کے مُتَعَلّق مَرْوِی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی حضرت سَیِّدُنااَبّان بن عَیّاش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے ملاقات ہوئی تو ان سے پوچھا:آپ اس قَدْر لوگوں سے رُخصتوں والی احادیث کیوں بیان کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا:اے ابو یحییٰ! میں اُمِّید رکھتا ہوں کہ بروزِ قِیامَت جب تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عَفْو و دَرْگُزَر کو دیکھو تو خوشی سے اپنی چادَر پھاڑ ڈالو۔
حضرت سَیِّدُنا رِبْعِیّ بن خِراش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے بھائی خِیار تابعین میں سے تھے،ان کا شُمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مرنے کے بعد بھی گفتگو کی۔ فرماتے ہیں:میرے بھائی نے جَہانِ فانی سے کُوچ کیا تو انہیں ان کے ہی لِباس میں لپیٹ کر ہم نے ان کے جِسْم پر کپڑا ڈال دیا۔ اچانک انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور اٹھ کر بیٹھ گئے، پھر فرمایا:میں اپنے رب سے ملا تو اس نے میرا راحَت ومہربانی سے اِستقبال فرمایا، میرا رب مجھ سے ناراض نہ تھا، میں نے بارگاہِ خداوندی میں پیشی کے مُعامَلے کو تمہارے گمان سے بھی آسان پایا ہے مگر تم میری گفتگو سے اس دھوکے میں مبتلا مَت ہو جاناکہ میں زندہ ہوں، اس لیے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے صحابہ میرے لَوٹنے کے مُنْتَظِر ہیں۔ حضرت سَیِّدُنا رِبْعِیّ بن خِراش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اتنا کہنے کے بعد ان کا جِسْم اس طرح نیچے گِرا گویا کہ کوئی کنکری کسی طَشْت میں گِری ہو۔ پھر ہم نے انہیں اُٹھا کر دَفْن کر دیا۔
حضرت سَیِّدُنا بکر بن سلیمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:جس شام حضرت سَیِّدُنا اِمام مالِک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالرَّازِق کی رُوْح قَبْض کی گئی ہم ان کی خِدْمَت میں حاضِر ہوئے اور عَرْض کی:آپ خود کو کیسا پا رہے ہیں؟ فرمایا: میں نہیں جانتا کہ تمہیں اس وَقْت کیا کہوں؟ ہاں! تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ کل جب تم (پر یہ وَقْت آئے گا تو تم)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانِب سے ایسے عَفْو و دَرْگُزَر کو اپنی آنکھوں سے دیکھو گے جس کا تمہیں کبھی گمان بھی نہ ہو گا۔ فرماتے ہیں :ہم ان کے پاس ہی تھے کہ ان کی رُوح قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کر گئی،ہم نے ان کی آنکھیں بند کیں اور انہیں دَفْن کر دیا۔
بندے کا اپنے رب سے گمان اور اس کی حقیقت
حضرت سَیِّدُنایحییٰ بن اَکْثَم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَکرَم کو خواب میں دیکھ کر پوچھا گیا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ سے کیسا سُلوک کیا؟ فرمایا: اس نے مجھے اپنی بارگاہ میں کھڑا کر کے فرمایا:اے بوڑھے! تو نے یہ گناہ بھی کیا اور یہ بھی کیا۔ یہ سن کر مجھ پر اس قَدْر رُعْب اور خوف طارِی ہوا جسے صِرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی جانتا ہے، پھر میں نے عَرْض کی:اے میرے رب! مجھے تیرے مُتَعَلِّق اس طرح نہیں بتایا گیا تھا۔ اِرشَاد فرمایا:میرے مُتَعَلّق تمہیں کیا بتایا گیا تھا؟ میں نے عَرْض کی:ہمیں حضرت سَیِّدُناعبد الرزاق نے حضرت سَیِّدُنا مَعْمَر سے، انہوں نے حضرت سَیِّدُنا اِمام زُہری رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِم سے اور انہوں نے حضرت سَیِّدُنااَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایَت بیان کی کہ تیرے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ تیرا یہ فرمان ہے: میں اپنے بندے سے ویسا سُلوک کروں گا جیسا وہ میرے مُتَعَلّق گمان رکھتا ہے، اب یہ اس پر ہے کہ مجھ سے جیسا چاہے گمان رکھے[1] اور میرا تجھ سے گمان یہ تھا کہ تو مجھے عَذاب نہ دے گا۔ اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا: میرے نبی نے سچ فرمایا اور اَنَس، زُہری، مَعْمَر اور عبد الرزاق نے بھی سچ کہا اور تو نے بھی سچ کہا۔ فرماتے ہیں: اس کے بعد مجھ پر غِلاف ڈال کر خِلْعَت سے نوازا گیا، لِباس پہنایا گیا اور جنّت تک دو۲بچے میرے آگے آگے چلتے رہے تو میں نے خوش ہو کر کہا:یہ کتنی خوشی کا مَقام ہے۔
بروزِ قِیامَت رحمتِ خداوندی سے مایوس کون ؟
سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عَظَمت نِشان ہے:بنی اسرائیل کا ایک شخص لوگوں پر سختی کرتا اور انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمَت سے مَایُوس کرتا تھا، بروزِ قِیامَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے اِرشَادفرمائے گا:آج میں تجھے اپنی رَحْمَت سے مَایُوس کروں گا جیسا تو میرے بندوں کو مَایُوس کیا کرتا تھا۔[2]
ایک بات کے سَبَب دنیا و آخرت برباد ہو گئی
حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ اُخُوَّت نِشان ہے:بنی اِسرائیل کے دو۲بندوں نے آپَس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا کے لیے مُواخات اِخْتِیار کی۔ ان میں سے ایک عابِد اور دوسرا گناہ گار تھا، عابِد اسے روکتا اور سختی سے مَنْع بھی کرتا تھا مگر وہ جواب دیتا: مجھے اور میرے رب کے مُعامَلے کو چھوڑ دو، کیا تمہیں میرا نگہبان بنا کر بھیجا گیا ہے؟یہاں تک کہ ایک دن اس عابِد نے اسے کسی کبیرہ گناہ کا اِرْتِکاب کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو غصّے سے بولا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ تیری مَغْفِرَت نہیں فرمائے گا۔چنانچہ بروزِ قِیامَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس گناہ گار سے فرمائے گا:کیا تم یہ طَاقَت رکھتے ہو کہ میری رَحْمَت کو میرے بندوں سے روک لو؟ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا۔ پھر عابِد سے فرمائے گا:مگر تم پر میں نے جہنّم کو لازِم کر دیا ہے۔ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے دستِ قُدْرَت میں میری جان ہے! اس نے صِرف ایک بات ایسی کہی تھی جس کے سَبَب اس کی دنیا و آخِرَت برباد ہو گئی۔[3]
اَدَب سے برائیاں نیکیوں میں بدل گئیں
ایک رِوایَت میں ہے کہ حضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:بنی اسرائیل میں ایک چور 40 سال تک ڈاکے ڈالتا رہا، ایک بار حضرت سَیِّدُناعیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اس کے پاس سے گزرے، آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے پیچھے آپ کے حواریوں میں سے بنی اسرائیل کا ایک عابِد بھی تھا۔ چور نے دل میں سوچا:یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی ہیں اور ان کے پہلو میں حواری ہیں، اگر میں بھی سفر میں ان کے ساتھ شامِل ہو جاؤں تو ان کا تیسرا ساتھی بن جاؤں گا۔ چنانچہ وہ بھی ان کے ساتھ شامِل ہو گیا اور حواری کےذرا قریب ہونا چاہا مگر اس نے حواری کی عَظَمَت کے مُقابِل اپنے نَفْس کو حقیر جانتے ہوئے دل میں کہا:میرے جیسا گناہ گار شخص اس عابِد کے پہلو میں چلنے کے قابِل نہیں۔ ادھر حواری نے اسے اپنے ساتھ سفر میں شریک ہوتے مَحْسُوس کر لیا اور اپنے دل میں کہا:یہ میرے پہلو میں چل رہا ہے! یہ سوچ کر اس نے اپنے آپ کو مزید حَرَکَت دی اور حضرت سَیِّدُناعیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف بڑھ کر ان کے
[1]………مسلم ، كتاب الذكر والدعاء…الخ ، باب الحث على ذكر اللہ ، ص۱۴۳۹ ، حدیث: ۲۶۷۵ ، مختصراً
مسند احمد ، حدیث واثلة بن الاسقع ، ۵/ ۴۲۱ ، حدیث: ۱۶٠۱۶
[2]………شعب الايمان للبيهقى ، باب فى الرجاء من اللہ ، ۲/ ۲۱ ، حديث: ۱٠۵۲ ، بتغیر قلیل
[3]………ابو داود ، كتاب الادب ، باب فى النهى عن البغى ، ۴/ ۳۶۰ ، حدیث: ۴۹٠۱ ، بتغیر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع