30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْؕ- (پ ۹، الاعراف: ۱۵۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے پھندے جو ان پر تھے اتارے گا۔
مومنین نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دُعا کی:
رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ- (پ ۳، البقرة:۲۸۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی دُعا کو شَرَفِ قبولِیَّت سے نوازتے ہوئے فرمایا: میں نے ایسا ہی کیا۔
عَقْل مندوں میں قوّتِ رِجا کے اَسباب عُلوم ہیں اور ایسا کیونکر نہ ہو جبکہ ایسی رِوایَت مَرْوِی ہے جس میں بغیر کسی دھوکے کے رِجا کا حکْم غالِب ہے۔ جیسا کہ حَدِیْثِ قُدْسِی میں ہے:میں جس قَدْر سَزاکے قریب ہوں اس سے زیادہ رَحْمَت اور عَفْو ودَرْگُزَر کے قریب ہوں۔ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے:جب لوگوں سے ان کے پروردگار عَزَّ وَجَلَّکے مُتَعَلِّق باتیں کرو تو ان سے اس کی ایسی صِفات بیان نہ کرو جو انہیں ڈرا دیں اور ان پر دُشْوَار ہوں۔[1]
امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: عالِم وہ ہے جو لوگوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمَت سے مَایُوس کرے نہ انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خُفْیَہ تدبیر سے بے خوف ہونے دے۔[2]
بندوں پر نرمی کرنا اور سختی سے بچنا
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُناداود عَلَیْہِ السَّلَام کی جانِب وَحِی فرمائی:آپ اکیلے کیوں ہیں؟ عَرْض کی: اے میرے مولا! میں نے تیری خاطِر مَخلوق کو خود سے دور کر رکھا ہے۔ اِرشَاد فرمایا: کیا آپ نہیں جانتے کہ میری مَحبَّت یہ ہے کہ آپ میرے بندوں پر نَرْمی کریں، ان پر فَضْل فرمائیں، (اگر آپ نے ایسا کیا تو) میں آپ کو اپنے اَولِیا و محبوب بندوں میں شُمار کروں گا۔ میرے بندوں کو جَفا اور سخت نظروں سے مَت دیکھئے، اگر آپ نے ایسا کیا تو اپنے اَجَر کو باطِل کر دیں گے۔
نیز میری تین۳باتیں یاد رکھئے:
٭…میرے محبوب بندوں سے خُلوص سے پیش آئیے۔
٭…دنیا داروں کی خوب مُخالَفَت کیجئے ۔
٭… اور اپنے دین کو میرے سُپُرْد کر دیجئے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُناداود عَلَیْہِ السَّلَام اور دیگر انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی جانِب یہ وَحِی فرمائی کہ مجھ سے مَحبَّت کرو اور ہر اس شخص سے بھی مَحبَّت کرو جو مجھ سے مَحبَّت کرتا ہے اور مجھے میری مَخلوق کا مَحْبُوب بنا دو۔ انہوں نے عَرْض کی:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں تجھ سے اور تیرے محبوب بندوں سے مَحبَّت کرتا ہوں مگر تجھے تیری مَخلوق کا مَحْبُوب کیسے بناؤں؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَادفرمایا:ان کے سامنے میرا ذِکْرِ جمیل کرو، میری نعمتوں اور اِحسانات کو یاد کرو اور انہیں بھی یاد دِلاؤ کیونکہ وہ صِرف میرا جمیل ہونا ہی جانتے ہیں۔[3]
نور کے منبروں پر تشریف فرمالوگ
حضرت سَیِّدُنااَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:کیا میں تمہیں ایسی اَقوام کے مُتَعَلّق نہ بتاؤں جو نبی ہیں نہ شہید، مگر انبیائے کِرام اور شہدائے عُظَّام بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں ان کے مرتبے پر رَشْک کریں گے؟وہ لوگ نُور کے مِنْبَرُوں پر تشریف فرما ہونے کی بنا پر پہچانے جائیں گے۔ عَرْض کی:وہ لوگ کون ہیں؟ اِرشَادفرمایا:جو بندوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ان بندوں کا مَحْبُوب بناتے ہیں اور زمین پر نصیحت کرتے ہوئے چلتے ہیں۔ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نےپھر عَرْض کی:ان لوگوں کااللہ عَزَّ وَجَلَّ کو مَحْبُوب بنانا تو سمجھ میں آگیا مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندوں کو مَحْبُوب بنانے سے کیا مُراد ہے ؟اِرشَادفرمایا:وہ لوگ ایسی باتوں کا حکْم دیتے ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو پسند ہیں اور ایسی باتوں سے مَنْع کرتے ہیں جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حَرام قرار دیا ہے، لہٰذا جب لوگ ان کی باتوں پر عَمَل کرتے ہیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔[4]
تجھے صِرف رخصتیں بیان کرنے پر کس نے ابھارا؟
حضرت سَیِّدُنااَبّان بن عَیّاش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ لوگوں کو سب سے زیادہ ایسی احادیثِ مُبارَکہ سناتے جن میں رخصتوں اور رِجا کا ذِکْر ہوتا۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو مرنے کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا تو (اپنی بخشش کا حال بتاتے ہوئے)اِرشَاد فرمایا: مجھے میرے رب نے اپنی بارگاہ میں کھڑا کیا اور پوچھا:تجھے صِرف رخصتیں بیان کرنے پر کس نے اُبھارا؟ میں نے عَرْض کی:اے میرے رب! میں چاہتا تھا کہ تجھے تیری مخلوق کا محبوب بنا دوں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَادفرمایا:میں نے تجھے بخش دیا۔
خدا کے عَفْو و درگزر کو دیکھو تو
[1]………السنة لابن ابی عاصم ، باب ما ذكر عن النبی انه قال: لا تحدثوا الناس … الخ ، ص۱۵۳ ، حدیث: ۶۵۳
[2]………الزهد لابى داود ، اخبار على بن ابى طالب ، ص۱۱۵ ، حدیث: ۱۱۱ ، بتغیر قلیل
[3]………مصنف ابن ابى شیبة ، كتاب الزهد ، كلام داود علیه السلام ، ۸/ ۱۱۶ ، حدیث: ۹ ، بتغیر قلیل
الزهد للامام احمدبن حبنل ، زهد داود علیه السلام ، حدیث: ۳۷۴ ، ص۱٠۷ ، بتغیر
شعب الایمان للبیهقى ، باب فى التعاون على البر التقوى ، ۶/ ۱۱۹ ، حدیث: ۷۶۶۸ ، بتغیر قلیل
[4]………شعب الایمان للبیهقى ، باب فى محبة اللہ ، ۱/ ۳۶۷ ، حدیث: ۴٠۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع