30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک رِوایَت میں ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:تم میں کوئی بھی اپنے عَمَل سے جنّت میں جائے گا نہ جہنّم سے نجات پائے گا۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عَرْض کی:یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ بھی؟اِرشَاد فرمایا:میں بھی نہیں، مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اپنی رَحْمَت اور فَضْل و کَرَم کے دامَن میں ڈھانپ رکھا ہے۔[1]
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ شَفَاعَت نِشان ہے:میں نے اپنی شَفَاعَت کو اپنی اُمَّت کے کبیرہ گناہوں کا اِرْتِکاب کرنے والوں کے لیے چھپا رکھاہے۔[2] ایک رِوایَت میں اَلفاظ کچھ یوں ہیں: کیا تم شَفَاعَت کو نیکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لیے سمجھتے ہو؟ یہ (ان کے لیے نہیں) بلکہ خطاکاروں اور گناہ گاروں کے لیے ہے۔[3]
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا مُعاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سَیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو یمن کا والی بنا کر بھیجتے وَقْت نصیحت کرتے ہوئے اِرشَادفرمایا: يَسِّرَا وَلَا تُـعَسِّرَا وَ بَـشِّرَا وَلَا تُـنَـفِّرَا۔ یعنی آسانی پیدا کرنا اور تنگی کا باعِث نہ بننا، خوش خبری دینا اور نَفْرَت نہ پھیلانا۔[4]
مخفی لطف و احسانِ خداوندی کا علم
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کَرَم اور مَـخْفِی لُطْف و اِحسان کا عِلْم مومنین کے ہاتھوں سے دامَنِ اُمِّید چھڑاتا ہے نہ ان کی رِجا اور حُسْنِ ظَن میں کمی کرتا ہے اور نہ ان کے خوف میں اِضافے کا باعِث بنتا ہے تاکہ وہ اس کی رَحْمَت سے مَایُوس نہ ہوں کیونکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جبریت و کِبْرِیَائی کو جانتے ہیں اس اِعْتِبَار سے کہ جس سے ڈراجاتا ہے اسی سے مَحبَّت کی جاتی ہے اور اس کی مَحبَّت مومنین میں اُنْس پیدا کرتی ہے اور انہیں مَقامِ رِجا تک لے جاتی ہے، جبکہ اس کی ہَیْبَت انہیں گھبراہٹ میں مبتلا رکھتی ہے اور مَقامِ خوف پر فائز کرتی ہے۔ چنانچہ ان کی ہَیْبَت کا خوف باعِثِ لذّت اور مَحبَّت سے لُطْف اندوز ہونا باعِثِ ہَیْبَت ہے۔ یہ لوگ خوف و مَحبَّت کے مَقامات میں مُعْتَدِل رہتے ہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عَطا کردہ قوّت و عِلْم کی دولت سے بُلَند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں اور ذاتِ باری تعالیٰ کے مُشاہَدے میں ثابِت قَدَم رہتے ہیں۔
یہ مَقام اہلِ یقین میں سے عارِفین کا وَصْف ہے جو کامِل اِیمان والے اور خواص اَہْلِ یقین ہیں، اس لیے کہ انہیں یہ مَعْرِفَت حاصِل ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی صِفات میں کامِل ہے، اس کی کسی صِفَت میں کوئی نَقْص نہیں، اس کی رَحْمَت کا تعلّق وُسْعَتِ عِلْم سے ہے جیسا کہ عِلْم کا تعلّق وُسْعَتِ قُدْرَت سے ہے۔ کیونکہ انہوں نے کلامِ باری تعالیٰ سن کر اس کے اَوصَاف کا مُشاہَدہ حاصِل کیا کہ وُہی عِلْم والا اور قُدْرَت والا ہے۔
جہنّم رحمتِ خداوندی کی وُسْعَت میں شامِل ہے
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا (پ ۲۴، المؤمن:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارےتیرے رَحْمَت و عِلْم میں ہر چیز کی سَمائی ہے۔
ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍؕ-(پ ۹، الاعراف:۱۵۶) ترجمۂ کنز الایمان:اور میری رَحْمَت ہر چیز کو گھیرے ہے۔
عارِفین نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان سے یہ مَفہوم اَخْذ فرمایا ہے کہ جہنّم وغیرہ بھی اس کی رَحْمَت کی وُسْعَت میں شامِل ہے اس اِعْتِبَار سے کہ وہ بھی ایک شے ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ اس آیَتِ مُبارَکہ کے اگلے حصّے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا:
فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ (پ ۹، الاعراف:۱۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان:تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں۔
یہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاص رَحْمَت سے مُراد اس کی صِفَت ہے نہ کہ اس کی حقیقت۔ کیونکہ اس کی رَحْمَت کی کوئی اِنتِہا نہیں، اس لیے کہ رَحْمَت فرمانے والے کے اَوصَاف کی کوئی حَد ہے نہ اس کی رَحْمَت سے کوئی شے باہَر ہے جیسا کہ کوئی شے اس کی حِکْمَت و قُدْرَت سے خارِج نہیں کیونکہ جہنّم وغیرہ اس کے عَذاب کی حقیقت ہیں نہ اس کا کامِل عَذاب۔ لہٰذا جس نے ایسا گمان کیا اسے مَعْرِفَت کی دولت حاصِل نہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مخلوق کی طاقَت کے اِعْتِبَار سے اپنا عَذاب ظاہِر فرمایا جیسا کہ اس نے مخلوق کی مصلحتوں کے مُطابِق اپنی نعمتیں ظاہِر فرمائیں۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جس قَدْر نعمتیں اور عَذاب ظاہِر فرمایا اس سے زائد کو برداشت کرنا اور اس کے اِظْہَار کی طَاقَت رکھنا مخلوق کے بس میں نہیں بلکہ ان کے لیے یہ مُناسِب بھی نہیں کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ظاہِر کردہ چیزوں سے بڑھ کر جاننے کی کوشِش کریں۔ کیونکہ اس کے عَذاب اور نعمتوں کی اِنتہا کا تعلّق اس کے مُلک کی اِنتہا سے ہے کہ جس کا وُجُود اس کے ساتھ قائم ہے،جبکہ اس کا مُلک اس کی قُدْرَت و سَلْطَنَت کی حَد تک ہے اور اس کی قُدْرَت و سَلْطَنَت غیر محدود ہے جس کا اِظْہَار تمام مخلوق کی طَاقَت سے باہَر ہے، نیز اس کے مُلک کا تعلّق صِفاتِ باری تعالیٰ و اَسمائے باری تعالیٰ کی عَظَمَت سے بھی ہے مگر
[1]………مسلم ، كتاب صفة القیامة والجنة والنار ، باب لن یدخل احد الجنةبعمله بل برحمة اللہ ، ص۱۵۱۴ ، حدیث: ۲۸۱۷
مسند احمد ، مسند ابى هریرة ، ۳/ ۳۴۱ ، ۶۱۵ ، حدیث: ۹٠۷۴ ، ۱٠۷۹۳
[2]………مسلم ، كتاب صفة القیامة والجنة والنار ، باب اختباء النبیﷺدعوة الشفاعة لامته ، ص۱۲۹ ، حدیث: ۱۹۹ ، بتغیر
تاريخ بغداد ، ۱/ ۴۱۳ ، الرقم: ۳۶۶: محمد بن ابراهيم بن كثير ، بدون : لاھل الکبائر
[3]………ابن ماجه ، كتاب الزهد ، باب ذكر الشفاعة ، ۴/ ۵۲۴ ، حدیث: ۴۳۱۱
[4]………بخارى ، كتاب الجهاد والسیر ، باب ما یكره من التنازع…الخ ، ۲/ ۳۲۰ ، حدیث: ۳٠۳۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع