دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

عَرْض کرنے لگا:اے میرے رب! مجھے گناہ سے محفوظ فرما لے کہ میں کبھی تیری نافرمانی نہ کروں۔ اچانک بیتُ اللہ سے ہاتِفِ غیبی کی آواز آئی:اے ابراہیم! تم بھی گناہوں سے محفوظ رہنے کی درخواست کر رہے ہو جبکہ میرا ہر مومِن بندہ مجھ سے یہی طَلَب کرتا ہے، اگر میں نے سب کو گناہوں سے محفوظ فرما دیا تو اپنا فَضْل کس پر فرماؤں گا؟ اور کس کی مَغْفِرَت فرماؤں گا؟

حضرت سَیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: اگر مومِن گناہ نہ کرے تو پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنے لگےمگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے گناہوں کے ذریعے اسے (پرواز سے)روک رکھا ہے۔

اسی کی مِثل حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مَغْفِرَت نِشان ہے:اگر تم گناہ نہ کرو تو مجھے خَدْشَہ ہے کہیں تم گناہوں سے بھی زیادہ بُری شے میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ عَرْض کی گئی: وہ کیا چیز ہے؟ اِرشَادفرمایا:عُجْب و خود پسندی۔[1]

نفس کی صِفات

(صَاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)میری عمر کی قَسَم! عُجْب (خود پسندی)مُتَکَبِّر نَفْس کی صِفَت ہے اور یہ اَعمال کو برباد کر دیتا ہے، یہ اَعمالِ قُلُوب کے کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور گناہ نفسانی خواہشات کے اَخلاق ہیں۔ (سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خَدْشَہ کی وجہ یہ تھی کہ) بندہ نَفْس کی 10 خواہشات میں مبتلا ہو یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ نَفْس کی کسی صِفَت میں مبتلا ہو یعنی کِبْر، عُجب، بَغَاوَت و سرکشی، حَسَد، حُبِّ مدح و طَلَب شُہْرَت۔ کیونکہ ان میں سے بعض صِفات ایسی ہیں جو صِفاتِ باری تعالیٰ کے مَعانی سے مُشابہ ہیں اور بعض شیطانی اَوصَاف کے مُشابہ ہیں جن کی وجہ سے ابلیس لعین ہلاک و برباد ہوا۔ نفسانی خواہشات بندے کی فطری صِفات ہیں جن کی وجہ سے حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے بھی لَغْزِش ہوئی مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں مَقامِ مجتبیٰ پر فائز فرمایا،ان کی توبہ قبول کی اور انہیں راہِ حَق سجھائی۔

حضرت سَیِّدُنابِشْر بن حارِث عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَارِثْ فرماتے ہیں:نَفْس کا مَدْح پر راحَت پانا اس کے گناہوں میں مبتلا ہونے سے زیادہ نُقْصَان دہ ہے۔

کسی کو بھی حقیر نہ جانو

حضرت سَیِّدُنایُوسُف بن حسین رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک مُخَنّث (یعنی ہیجڑے) کودیکھ کر اسے حقیر جانتے ہوئے منہ پھیر لیا تو وہ آپ کی جانِب متوجّہ ہو کر بولا:آپ بھی وُہی کر رہے ہیں (جو ہمیں دیکھ کر عام لوگ کرتے  ہیں) چنانچہ آپ کے لیے یہی کافی ہے جس میں آپ مبتلا ہیں۔ آپ نے گھبرا کر فوراً اس سے پوچھا:تو کیا جانتا ہے؟ عَرْض کی:آپ کے دل میں یہ بات تھی کہ آپ مجھ سے بہتر ہیں۔ حضرت سَیِّدُنا یُوسُف رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اس بات کا اِعْتِرَاف کیا اور اِسْتِغفار کرنے لگے۔

آیتِ دَین اور بخشش کی اُمِّید

عارِفین میں سے کسی اَہْلِ رِجا نے جب سورہ بقرہ کی آیتِ دَین (یعنی 282نمبر آیت)تلاوَت فرمائی تو خوش ہو گئے اور اسے بَشَارَت سمجھا اور ان کی اُمِّید پہلے سے بھی بڑھ گئی۔ جب ان سے عَرْض کی گئی کہ اس آیتِ مُبارَکہ میں رِجا کا تذکرہ ہے نہ کوئی بَشَارَت(تو خوشی کی وجہ کیا ہے؟)۔ فرمانے لگے: کیوں نہیں! اس میں تو بَہُت بڑی رِجا کا ذِکْر ہے۔ عَرْض کی گئی:وہ کیسے؟ فرمایا:دنیا ساری کی ساری قلیل ہے اور اس میں انسان کا رِزْق اس سے بھی قلیل ہے، پھر اس رِزْق میں سے اس کا قَرْض تو بَہُت ہی قلیل ہے، جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس (انتہائی قلیل رِزْق یعنی قَرْض ) میں میرے لیے مَصْلَحَت اندیشی سے کام لیا اور مجھ پر نِگاہِ کَرَم فرمائی کہ میرے قَرْض کو گواہوں اور تحریری دستاویزات سے پختہ فرما دیا اور اس کے مُتَعَلّق قرآنِ مجید میں ایک طویل آیَتِ مُبارَکہ نازِل فرمائی۔ اب اگر مجھے موت بھی آجائے تو مجھے (اس قَرْض کی وُصولی یا ادائیگی کی)کوئی پروا نہیں(کہ یہ سب لین دین میرے وُرَثا کر لیں گے، جب دنیا میں میرے اتنے قلیل مال کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس قَدْر اِحْتِیاط کا حکْم دیا اور مجھ پر کَرَم فرمایا تو) بروزِ قِیامَت اس کا میرے ساتھ سُلوک کیسا ہو گا کہ جب میرے نَفْس کا کوئی بَدَل نہ ہو گا؟

رحمتِ خداوندی کی چھما چھم برسات

اَہْلِ رِجا میں سے کسی نے جب یہ آیتِ مُبارَکہ(وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ(۴۷) (پ ۲۴، الزمر:۴۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہِر ہوئی جو ان کے خَیال میں نہ تھی۔ ) تِلاوَت فرمائی تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جُود و کَرَم اور اِحسان کی ایسی وادیوں کی اُمِّید رکھنے لگے کہ دنیا میں ان کے مُتَعَلِّق کسی کو کبھی خَیال بھی نہ گزرا ہو گا۔

حضرت سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں:اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کَرَم کی ایک نِگاہ بھی پڑ جائے تو گناہ گار نیکوکار بن جائیں۔یہی مَفہوم ایک رِوایَت میں بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:بروزِ قِیامَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسی مَغْفِرَت فرمائے گا کہ کسی کے دل میں اس کا خَیال تک نہ گزرا ہو گا یہاں تک کہ ابلیس بھی اس اُمِّید میں اپنا دامَن پھیلا لے گا کہ اسے بھی اس میں سے کچھ مِل جائے۔[2]  ایک رِوایَت میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی (رحمتیں پوری 100ہیں مگر اس نے)99رحمتیں (اپنے پاس رکھی )ہیں اور ایک رَحْمَت دنیا میں ظاہِر فرمائی ہے جس کی وجہ سے تمام مخلوق باہَم ایک دوسرے سے رَحْمَت بھرا سُلُوک کرتی ہے، ماں اپنی اولاد پر شفقت فرماتی ہے، جانور اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں، بروزِ قِیامَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی اس رَحْمَت کو بھی باقی 99رحمتوں کے ساتھ ملا دے گا، پھر اپنی ان رحمتوں کو تمام مخلوق پر پھیلا دے گا،(جان لو کہ)ان میں سے ہر رَحْمَت آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہو گی۔[3] مزید اِرشَاد فرمایا:پس اس دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اس قَدْر رَحْمَت کے باوُجُود کوئی ہلاک ہونے والا ہی ہلاک ہوگا۔

کسی عالِم کا قول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب بروزِ قِیامَت کسی بندے کا کوئی گناہ مُعاف فرمائے گا تو وہ ایسے ہر بندے کو بھی مُعاف فرما دے گا جس نے یہ گناہ کیا ہو گا۔

کیا صِرف عَمَل باعِث نجات ہو گا؟

حضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عَظَمَت نِشان ہے:عَمَل کرو اور خوش خبری پاؤ مگر یاد رکھو کہ کوئی بھی ہر گز اپنے عَمَل سے نجات نہ پائے گا۔[4]

 



[1]………شعب الایمان للبیھقی ،  باب فی معالجة  كل ذنب بالتوبة ، ۵/ ۴۵۳ ، حدیث:  ۷۲۵۵

[2]………موسوعة الامام ابن ابى الدنیا ،  كتاب حسن الظن ، ۱/ ۹۸ ، حدیث:  ۹۳

معجم اوسط ، ۴/ ۶۵ ، حدیث:  ۵۲۲۷

[3]………مسلم ،  كتاب التوبة ،  باب فى سعة رحمة اللہ وانها سبقت غضبه ،  ص۱۴۷۱ ، ۱۴۷۲ ،  حدیث:   ۲۷۵۲ ، ۲۷۵۳ ،  بتغیر

[4]………مسلم ،  كتاب صفة القیامة والجنة والنار ، باب لن یدخل احد الجنةبعمله بل برحمة اللہ ،  ص۱۵۱۴ ،  حدیث:  ۲۸۱۸ ،  بتغیر قلیل

سنن الدارمى ،  كتاب الرقاق ،  بابلا ینجى احدكم عمله ، ۲/ ۳۹۵ ، حدیث:  ۲۷۳۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن