30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَقْت یہ عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام ان مَقامات کے حُصُول کی خواہش نہ فرماتے، انہوں نے ایسا اس لیے کیا تا کہ ان کا خاتِمہ رِجا اور حُسْنِ ظَن پر ہو حالانکہ وہ ساری زِنْدَگی حُسْنِ خاتِمہ کی دُعا مانگتے رہے۔چنانچہ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ زِنْدَگی میں خوف اَفضل ہے اور وِصَال اِلَی الْحَق کے وَقْت رِجا ۔
حضرت سَیِّدُنایحییٰ بن مُعاذ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ مَقاماتِ رِجا کے مُتَعَلّق فرماتے ہیں:جب ایک ساعَت توحید کا اِقرار 50 سال کے گناہوں کو مِٹا دیتا ہے تو 50 سال توحید کا اِقرار گناہوں کے ساتھ کیا کرے گا؟
براہِ راست بارگاہِ خداوندی سے تعلّق
حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:خوف اَہْلِ رِجا کے لیے ہے۔ ایک مرتبہ اِرشَاد فرمایا:اَہْلِ خوف کے سوا باقی تمام عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کا تعلّق براہِ راست بارگاہِ خداوندی سے مُتَّصِل نہیں بلکہ اَہْلِ خَوف میں سے اَہْلِ رِجا ہی ایسے ہیں جن کا تعلّق بارگاہِ خُداوندی سے براہِ راست مُتَّصِل ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ رِجا کو مَحبَّت کا ایک مَقام قرار دیتے ۔ نیز عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کے نزدیک رِجا مَحبَّت کا پہلا مَقام ہے اور بندہ مَحبَّت میں اسی قَدْر بُلَند دَرَجات پر فائز ہوتا ہے جس قَدْر رِجا اور حُسْنِ ظَن میں اس کے دَرَجات بُلَند ہوتے ہیں۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) رِجا کے مُتَعَلّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جو رِوایات مَرْوِی ہیں انہیں عام لوگوں کے سامنے بیان کرنا مُناسِب نہیں،اس کے باوُجُود ہمیں جو روایات مَعْلُوم ہوئیں ان میں سے کچھ یہاں بیان کر رہے ہیں:
(1)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی رَحْمَت کے فَضْل سے جہنّم میں ایک کَوڑا پیدا فرمایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو جنّت کی طرف ہانکے گا۔[1]
(2)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا: میں نے اپنی مَخلوق کو اس لیے پیدا فرمایاتاکہ وہ مجھ سے نَفْع حاصِل کرے ،نہ کہ میں اس سے نَفْع حاصِل کروں۔[2]
(3)…حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی حدیثِ پاک میں ہے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہر ایک شے پر کسی دوسری شے کو غَلَبہ ضَرور عَطا فرمایا۔ جیسا کہ اپنے غَضَب پر اپنی رَحْمَت کو غَلَبہ عَطا فرمایا۔[3]
(4)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ہی اپنے ذِمَّۂ کَرَم پر رَحْمَت لازِم کر لی (اور فرمایا) میری رَحْمَت میرے غَضَب پر حَاوِی ہے۔[4]
(5)…حضرت سَیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ جس نے لَا اِلٰـهَ اِلَّا الله کہا وہ (آخر کار)جنّت میں داخِل ہو (ہی جائے)گا۔[5]
(6)…جس کا آخری کلام لَا اِلٰـهَ اِلَّا الله ہو آگ اسے كبھی نہ چھوئے گی ۔[6]
(7)…جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملے کہ اس نے شِرک نہ کیا ہو تو آگ اس پر حَرام کر دی جائے گی۔[7]
(8)…جس کے دل میں ذرّے کے وَزْن برابر بھی اِیمان ہو گا جہنّم میں داخِل نہ ہو گا۔[8]
(9)…اگر کافِر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمَت کی وُسْعَت جان لے تو کوئی بھی اس کی رَحْمَت سے مَایُوس نہ ہو۔[9]
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی نِشانیوں كے ظُہُور كے بعد سب سے بڑے کبیرہ گناہ کو مُعاف کرنے کے مُتَعَلّق اِرشَاد فرمایا:
ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَۚ- (پ ۶، النسآء:۱۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر بچھڑا لے بیٹھے بعد اسکے کہ روشن آیتیں ان کے پاس آچکیں تو ہم نے یہ مُعاف فرما دیا۔
ایک مَقام پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اَوْلِیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام سے اپنے اَحْکام کے نَفَاذ اور اپنی مَشِیَّت کے اِجْرَا کی پہچان کراتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۲۰۹)(پ ۲، البقرة:۲۰۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر اس کے بعد بھی بچلو (بہکو) کہ تمہارے پاس روشن حکْم آچکے تو جان لو کہ اللہ زَبَرْدَسْت حِکْمَت والا ہے۔
[1]………امالی ابن بشران ، المجلس الخامس والأربعون والستمائة فی رجب من السنة ، ۱/ ۷۲ ، حدیث: ۱۲۷
[2]………رساله قشیریه ، باب الرجاء ، ص۱۷۳
[3]………مستدرك ، كتاب التوبة والانابة ، باب ما خلق الله من شیئ الا وقد خلق له ما یغلبه ، ۵/ ۳۵۴ ، حدیث: ۷۷٠۸
[4]………بخارى ، كتاب التوحید ، باب قول اللہ: بل هو قراٰن مجید …الخ ، ۴/ ۵۹۵ ، حدیث: ۷۵۵۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع