30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یقین رکھتا ہے، اس اِعْتِبَار سے اس کا فرمانبرداروں میں شامِل ہونا گویا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَحبَّت اور رَضا حاصِل کرنا ہے کیونکہ عِلْم اس بات کی رہنمائی کرتا ہے۔ لہٰذا جب یہ رَضائے خداوندی اسے دنیا میں ہی مل گئی تو یہ اپنے مالِک کی رَضا پر کیونکر خوش نہ ہو گا؟ اور جب کوئی بُرا عَمل کرتا ہے تو اسے یقین ہوتاہے کہ یہ کام بُرے کاموں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وَعِید کے خوف اور اس کی عَظَمَت کی بنا پر مکروہ ہےاور اس پر عَذاب کا شِکار ہونے کا خدشہ ہے۔ اس اِعْتِبَار سے اس کا نافرمانوں میں شامِل ہونا گویا اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غَضَب اور ناپسندیدہ اُمُور میں داخِل کر دے گا کہ عِلْم اس پر دلیل ہے۔ یہ ایسی بات ہے جو اسے کبھی پسند نہ آئے گی کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کے سَبَب آج یہ مَعاصی کا شِکار ہے تو کل بروزِ قِیامَت عَذاب کا شِکار ہو گا۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ(پ ۲۴، المؤمن:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:ان کو نِدا کی جائے گی کہ ضَرور تم سے اللہ کی بیزاری اس سے بَہُت زِیادَہ ہے جیسے تم آج اپنی جان سے بیزار ہو۔
کل کی ناراضی بہتر ہے یا آج کی ؟
مَنْقُول ہے کہ جب (نافرمان لوگ)جہنّم میں اپنے نُفُوس کی بگڑی ہوئی شکلوں کو دیکھیں گے تو ان پر ناراضی کا اِظْہَار کریں گے، اس پر انہیں نِدا دی جائے گی:دنیا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے تم سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی آج عَذاب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے تمہارے اپنے نُفُوس پر ناراض ہونے سے بڑی تھی۔ اسی طرح آج اس کی فرمانبرداری کے ذریعے اس کی رَضا حاصِل کرنا کل اس کی جنّت میں نعمتوں کے حُصُول کا باعِث ہو گا۔ یہ اس بندے کی صِفَت ہے جسے عِلْمِ یقین کا مُکاشَفہ حاصِل ہو۔
حضرت سَیِّدُنازید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی حدیثِ پاک میں ہے کہ انہوں نے بارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر ہو کر عَرْض کی:میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں یہ پوچھنے کے لیے حاضِر ہوا ہوں کہ اس شخص کی عَلامَت کیا ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہتا ہے اور اس شخص کی عَلامَت کیا ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نہیں چاہتا؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے دَرْیَافْت فرمایا:کَـیْفَ اَصْبَحْتَ؟ یعنی (پہلے یہ بتاؤ کہ )تم نے صُبْح کیسے کی؟ عَرْض کی:میں نے اس حال میں صُبْح کی ہے کہ میں نیکی اور نیک لوگوں کو پسند کرتا ہوں اورجب میں خود کوئی نیکی کرنے پر قُدْرَت پاتا ہوں تو فوراً اس پر عَمَل کرنے کی کوشِش کرتا ہوں اور ثواب کی اُمِّید بھی رکھتا ہوں اور جب کوئی خیر کا کام نہ کر پاؤں تو اس پر غم زدہ ہو جاتا ہوں اور (موقع ملنے پر)اس پر عَمَل کرنے کا مشتاق رہتا ہوں۔ اِرشَاد فرمایا: یہ علامَت ہے کہ اس شخص کی جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہتا ہے اور اگر تمہارا شُمار ان دوسرے لوگوں میں ہوتا تو وہ تمہارے لیے انہی لوگوں جیسے کاموں کو آسان فرما دیتا، پھر یہ پَروا بھی نہ کرتا کہ تم کس وادی میں ہلاک ہو رہے ہو۔[1]
رجا کی مزید پانچ۵صورتیں
دَرْج ذیل اُمور بھی رِجا میں سے ہیں:
٭…بارگاہِ خداوندی میں ہمیشہ حاضِری سے لذّت پانا۔
٭…مُناجاتِ باری تعالیٰ سے آسُودَگی(راحَت)پانا۔
٭… کلامِ باری تعالیٰ کو توجّہ سے سننا۔
٭… عِشْقِ باری تعالیٰ کی لذّتوں سے لُطْف اندوز ہونا۔
٭… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عَفْوِ جمیل اور فَضْلِ جَزِیل کے حُصُول میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ حُسْنِ ظَن رکھنا۔
کسی عارِف کا قول ہے کہ توحید کا نُور ہوتا ہے اور شِرک کی نار (یعنی آگ)۔ نُورِ توحید اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وَحْدَانِیَت کا اِقْرَار کرنے والے کی نافرمانیوں کو اس تیزی سے جَلا کر خَاکِسْتَر (راکھ)کرتا ہے کہ نارِ شِرک مُشْرِک کی نیکیوں کو اس قَدْر جَلْد نہیں جَلاتی۔
تین۳بزرگوں کا دنیا سے کوچ کا عالَم
حضرت سَیِّدُناسلیمان تیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے جَہانِ فانی سے کُوچ کا وَقْت قریب آیا تو آپ رَحْمَۃُ
اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے شہزادے سے فرمایا:اے میرے جگر گوشے!میرے سامنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رخصتیں بیان کر اور رِجا کا تذکرہ کر یہاں تک کہ میں جب اس جَہانِ فانی سے کُوچ کروں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر حُسْنِ ظَن رکھتا ہوا اس کی بارگاہ میں حاضِر ہوں۔
اسی طرح مَنْقُول ہے کہ جب حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے وِصَال کا وَقْت قریب آیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس جَمْع ہونے والے عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام انہیں مَغْفِرَت کی اُمِّیددلانے لگے۔
حضرت سَیِّدُنا اِمام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل کے مُتَعَلّق بھی مَرْوِی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے بھی آخری وَقْت میں اپنے شہزادے سے فرمایا:میرے سامنے وہ اَحَادِیْثِ مُبارَکہ بیان کرو جن میں رِجا اور حُسْنِ ظَن کا تذکرہ ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اگر رِجا اور حُسْنِ ظَن کے مَقامات اَفضل نہ ہوتے تو زِنْدَگی سے جُدائی اور بارگاہِ خُداوندی میں حاضِری کے
[1]………السنة لابن ابی عاصم ، باب رقم: ۹٠ ، ص۹۴ ، حدیث: ۴۲۴
حلیة الاولیاء ، عبد اللہ بن مسعود ، ۱/ ۴۶۱ ، حدیث: ۱۳٠٠
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع