دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

عُلَما کا نام دیا ہے اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو ڈرتا ہے نہ اُمِّید رکھتا ہے وہ عالِم نہیں کیونکہ دونوں (یعنی خوف و رجا والے اور بے خوف و نااُمِّید لوگوں)کا مَقام ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔

مُقرّبین کے نزدیک رِجا

مُقرَّبین کے نزدیک رِجا یقین کا پہلا مَقام ہے اور یہ صِدِّیْقِین کا ظاہِری وَصْف ہے، بندے کے دل میں وَصْفِ رِجا اس وَقْت ہی مرتبۂ کمال تک پہنچتا ہے اور اسے پایۂ ثُبات حاصِل ہوتا ہے جب اس میں درج ذیل اَوصَاف پائے جائیں:|اِیمانِ باری تعالیٰ| ھِجْرَت اِلَی الله| مُجَاہَدۂ نَفْس|تِلاوَتِ قرآن|اِقَامَتِ صلاۃ |اِنْفَاق فِی سبیل الله | رات کی گھڑیوں میں سجدوں کی کَثْرَت و قِیام اور |ان تمام اَوصَاف کے ساتھ ساتھ خَوفِ اِلٰہی۔

یہ اہلِ رجا کی جُملہ صِفات ہیں جبکہ اہلِ یقین کے اَحْوَال کی یہ اِبْتِدَا ہے۔ اس کے بعد ان اَوصَاف کے ذریعے غیب کی باتوں کے مُکاشَفے اور اَنْوَار و عُلُوم کی زِیادَتی سے قلب و جَوارِح کے ظاہِری و باطِنی اَعمال کی زِیادَتی ہوتی ہے۔

خوف و رِجا کے ذریعے مَقامِ علم و عمل تک رسائی

خوف و رِجا دو۲مختلف مَقامات تک پہنچنے کے راستے ہیں، خوف عُلَمائے کِرام کو مَقامِ عِلْم تک اور رِجا عامِلین کو مَقامِ عَمَل تک پہنچانے والا راستہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اہلِ رِجا کے اَوصاف بیان فرمائے ہیں کہ یہ لوگ نیک اَعمال بجا لاتے ہیں، ان کی رِجا خوف سے مُتّصِل ہوتی ہے، یہ اپنی رِجا کی سچّائی میں کامِل ہیں جس پر رَشْک کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ  (پ ۱۸، المؤمنون:۶۰)

ترجمۂ کنز الایمان:اور وه جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں۔

ایک مَقام پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان لوگوں کے نیک اَعمال اور ان کے وعدے کی پاسداری کی خَبَر دیتے ہوئے اِرشَادفرمایا ہے:

اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ(۲۶)فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا (پ ۲۷، الطور: ۲۶، ۲۷)   

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں سَہْمے ہوئے تھے تو اللہ نے ہم پر اِحسان کیا۔

ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا  (پ ۲۹، الدھر:۷)

ترجمۂ کنز الایمان:اپنی مَنَّتیں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں۔

اس لیے کہ خوف رِجا سے ملا ہوا ہے، لہٰذا جس نے اُمِّید رکھی تو اسے اپنی اُمِّید والی شے سے کم تر شے کے قطعی حُصُول کا خوف بھی لاحِق ہو گا۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ (پ ۲۵، الجاثیة:۱۴)                        

ترجمۂ کنز الایمان:اِیمان والوں سے فرماؤ درگزریں ان سے جو اللہ کے دِنوں کی اُمِّید نہیں رکھتے۔

آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر

(صَاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اَہْلِ عَرَب کے نزدیک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان میں (لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ )سے مُراد وہ لوگ ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی سزاؤں سے نہیں ڈرتے۔ (یعنی یہاں رِجا خوف کے معنیٰ میں ہے) چنانچہ جب اُمِّید کا دامَن نہ تھامنے والے لوگوں کے لیے اس کی مَغْفِرَت کے حکْم کا عالَم یہ ہے تو اُمِّید سے وابستہ لوگوں پر اس کے فَضْل و کَرَم کا عالَم کیا ہو گا؟ اسی طرح فرمانِ باری تعالیٰ( وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَؕ-(پ ۵، النسآء:۱۰۴) )[1] میں بھی رِجا خوف کے معنیٰ میں ہی ہے۔ اگر عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کے نزدیک خوف و رِجا ایک ہی شے کی طرح نہ ہوتے تو وہ ایک کی تفسیر دوسرے سے بیان نہ کرتے۔

٭…مَحَبَّتِ باری تعالیٰ اور اس کی علامت

خَلْوَت میں بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اُنْس و مَحبَّت رکھنا رِجا ہے اور مَحبَّتِ باری تعالیٰ کی علامَت یہ ہےکہ بندہ عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام سے مَحبَّت رکھے اور اَولِیائے عُظَّام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کا قُرب حاصِل کرنے کی کوشِش کرے، نیک لوگوں کی ہم نشینی سے تنہائی و وَحْشَت دُور کرے کہ دِل اور رُوح کا سُکُون انہی نیک بندوں کے ہاں ہے۔

٭…نیکی کے کاموں پر تَعاوُن

نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں پر تَعاوُن میں بوجھ محسوس نہ کرنا بھی رِجا ہے کیونکہ اس میں نیک اَعمال کی حَلاوَت پائی جاتی ہے،ان کے بجا لانے میں جَلْدی کی جاتی ہے ،نیک اَعمال کرنے والوں کو ترغیب ملتی ہے، ان کے فوت ہو جانے پر دُکھ اور اَنْجَام دینے پر خوشی ہوتی ہے۔ چنانچہ،

مَرْوِی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:جسے نیکی سے خوشی اور بُرائی سے دکھ ہو وہ مومِن ہے۔[2]  ایک رِوایَت میں ہے کہ حُضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا: میری اُمَّت کے نیک لوگ وہ ہیں جو نیکی کر کے خوش ہوتے ہیں اور بُرائی کا اِرْتِکاب کر کے اِسْتِغفار کرنے لگتے ہیں۔ کیونکہ مومِن یقین اور دینی بصیرت پر ہوتا ہے۔[3]  

خوف و رجا اہل یقین کی صِفَت ہے

خوف و رِجا اس شخص کی صِفَت ہے جو اہلِ یقین میں سے ہو، چنانچہ یہ جب کوئی نیک عَمَل کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے وعدے کی سچائی اور اس کے کَرَم کی وجہ سے نیک عَمَل پر ثواب کا



[1]………ترجمۂ کنز الایمان:  اور تم اللہسے وہ اُمِّید رکھتے ہو جو وہ نہیں  رکھتے۔

[2]………ترمذی ، كتاب الفتن ،  باب ما جاء فی لزوم الجماعة ، ۴/ ۶۷ ، حدیث:  ۲۱۷۲

[3]………مصنف عبد الرزاق ، كتاب الصلاة ،  بابالصیام فی السفر ، ۲/ ۳۷۳ ، حدیث:  ۴۴۹۳ ،  مختصرا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن