دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

ہے۔ ایک رِوایَت میں ہے کہ حضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:دُعا نِصف عِبادَت ہے۔[1]  اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ صِرف مُخْلِص بندے کی ہی دُعا قبول فرماتا ہے۔

ایک دعا تین۳کرم نوازیاں

بندے پر دُعا کی وجہ سے تین۳کَرَم نوازیاں ہوتی ہیں۔ چنانچہ،

٭سب سے کم کَرَم نوازی یہ ہوتی ہے کہ اس کے نامۂ اَعمال میں اس دُعا کی وجہ سے ایک نیکی لکھ دی

جاتی ہے جس کا اجر 10 سے 700 گنا تک ملتا ہے۔

٭سب سے اعلیٰ کَرَم نوازی یہ ہوتی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی دُعا کو آخِرَت میں اس کے لیے ذخیرہ فرما دیتا ہے جو اس کے لیے دنیا و مافیہا کی ان تمام بھلائیوں سے بہتر ہےجن کا خیال بھی اس کے دل میں کبھی نہیں آیا۔یہ سب اس کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حُسْنِ ظَن رکھنے کی بنا پر ہے۔

٭ مُتَوسِّط کَرَم نوازی یہ ہوتی ہے کہ اس سے وہ مصیبت دُور کر دی جاتی ہے جو اگر آتی تو اس سے چھٹکارا اس کے لیے سب سے اَہَم ہوتا اور اسے اپنی مانگی ہوئی چیز سے اس مصیبت کا دُور ہونا زیادہ پسند ہوتا۔

ایک دعا تین۳عطائیں

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:جب کوئی دعا مانگنے والا دُعا کی قبولِیَّت کا یقین رکھتے ہوئے دُعا کرتا ہے اور اس کی یہ دُعا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کا باعِث ہو نہ قَطْع رِحْـمی کا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے تین۳باتوں میں سے ایک ضَرور عَطا فرماتا ہے۔ یعنی یا تو اس کی مانگی ہوئی شے اسے عَطا فرما کر اس کی دُعا کو شَرَفِ قبولِیَّت سے نوازتا ہے یا اس سے اس جیسی کوئی بُرائی دور فرما دیتا ہے یا اس دُعا کے بدلے اس کے لیے آخِرَت میں ڈھیروں اَجَر و ثواب جَمْع فرما دیتاہے۔[2]

خالق مخلوق میں سب سے زیادہ کس پر ناراض؟

حضرت سَیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ خداوندی میں عَرْض کی:اے میرے رب! تو اپنی مَخلوق میں سب سے زیادہ کس پر ناراض ہوتا ہے؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَادفرمایا:جو میری قَضا پر راضی نہ ہو اور جو کسی مُعامَلے میں اِستخارہ کرے پھر میں اس کے لیے کسی فیصلے کو ظاہِر فرما دوں تو وہ اسے ناپسند کرے۔[3]

خالِق کی پسندو ناپسند

ایک رِوایَت میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے عَرْض کی: اے میرے رب! تو کس شے کو زیادہ پسند اور کس کوزیادہ ناپسند کرتا ہے؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا: مجھے سب سے زیادہ پسند میری قَضا پر راضِی رہنا ہے اور سب سے زیادہ ناپسند یہ ہے کہ تو اپنے نَفْس کی تعریف کرے۔[4]

آقا کی نصیحت

مَرْوِی ہے کہ ایک شخص نے سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں عَرْض کی:مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جس شے کا فیصلہ تیرے حَق میں نہ کیا ہو اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو اِلزام نہ دو۔[5]

خدا کے ہر فیصلے میں خیر ہی خیر ہے

ایک رِوایَت میں ہے کہ دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آسمان کی جانِب دیکھا اور مسکرا دئیے، اس کے مُتَعَلِّق عَرْض کی گئی تو اِرشَاد فرمایا:میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مومِن کے مُتَعَلِّق کیے گئے فیصلوں پر مُتَـعَجَّب ہوا کہ مومِن کے لیے اس کے ہر فیصلے میں خیر ہی خیر ہے، اگر مومِن کے لیے خوش حَالی کا فیصلہ کیا گیا اور وہ اس پر راضی رہے تو یہ اس کے لیے خیر کا باعِث ہے اور اگر اس کے لیے تنگ دستی کا فیصلہ کیا جائے پھر بھی وہ راضی رہے تو یہ بھی اس کے لیے خیر کا باعِث ہے۔[6]

حُسْنُ الظَّنِّ بِالله سے مُراد

حُسْنُ الظَّنِّ بِالله یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ حُسْنِ ظَن یہ ہے کہ خوب رَغْبَت كی بنا پر اس كی حَمد و ثَنا

بیان كی جائے۔ جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ حُسْنِ ظَن اس کی بہترین عِبادَت کرنا ہے۔[7]

سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام  کو سکھائے گئے کلمات سے مراد

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِؕ- (پ ۱، البقرة:۳۷)

 



[1]………الفوائد الشهیر بالغیلانیات لابی بكر الشافعی ، باب فی أخلاق رسول اللہ ومزاحه ، ۱/ ۶۳۲ ، حدیث:  ۸۴۳

[2]………ترمذی ،  كتاب الدعوات ،  باب فی انتظار الفرج وغیر ذلك ،  ۵/ ۳۳۴ ، حدیث:  ۳۵۸۴ ،  بتغیر قلیل

مسند احمد ،  مسند ابی سعید الخدری ،  ۴/ ۳۷ ، حدیث:  ۱۱۱۳۳

[3]………نوادر الاصول  ،  الاصل السادس والستون ، ۱/ ۲۷۰ ، الرقم:  ۳۸۸

معجم كبیر ،  ۲۲/ ۳۲۰ ، حدیث:  ۸۰۷

[4]………حلیة الاولیاء ،  منصور بن المعتمر ، ۵/ ۵۳ ، حدیث:  ۶۲۸۷ ،  مختصراً

[5]………مسند احمد ،  حدیث عبادة بن الصامت ،  ۸/ ۴۰۳ ، حدیث:  ۲۲۷۸۰ ،  بتغیر قلیل

[6]………مسلم ،  كتاب الزهد والرقائق ،  باب المؤمن امره كله خیر ، ص۱۵۹۸ ،  حدیث:  ۲۹۹۹ ،  بتغیر

مسند احمد ،  حدیث صهیب ،  ۹/ ۲۴۰ ، حدیث:  ۲۳۹۷۹ ،  بتغیر قلیل

[7]………مسند احمد ، مسند ابی ھریرة ، ۳/ ۲۸۱ ، حدیث:  ۸۷۱۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن