دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ کریم میں ایک کے ذریعے دوسرے کی خبر دی، یہ دونوں ایک دوسرے کے مُشابہ ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے میں داخِل بھی ہیں اور دونوں میں سے کوئی ایک ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حِکْمَت و قُدْرَت سے ظاہِر ہوتا ہے کیونکہ ان دونوں کے اَحْکام و اِنعامات میں فَرْق ہے۔ جب دن ظاہِر ہوتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قُدْرَت سے رات اس میں چھپی ہوتی ہے اور جب رات ہوتی ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حِکْمَت سے دن اس میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ایک کے دوسرے میں داخِل ہونے اور ایک کو دوسرے میں  لپیٹنے کی یہی حقیقت ہے ۔

معانی ملکوت میں خوف و رِجا کی حقیقت

دن رات کی طرح مَعانیِ مَلکُوت میں خوف و رِجا کی حقیقت بھی ایسی ہی ہے کہ جب خوف ظاہِر ہوتا ہے تو بندے پر خوف طارِی ہو جاتا ہے،پھر وَصْفِ خوف کی تجلّی کے مُشاہَدے سے اس پر اَحْکَامِ خوف ظاہِر ہوتے ہیں تو اسے وَصْفِ خوف کے غَلَبہ کی وجہ سے خائِف کا نام دیدیا جاتا ہے مگر اس کے خوف میں رِجا بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ (اسی طرح)جب رِجا ظاہِر ہوتی ہے تو بندے کا شُمار اَہْلِ رِجا میں ہونے لگتا ہے اور اس پر اُمِّید دلانے والی صِفات کی بنا پر رَبُوبِیَّت کی تجلّی کے مُشاہَدے سے اَحْکَامِ رِجا ظاہِر ہوتے ہیں تو بندے کو انہی سے مُتَّصِف کر دیا جاتا ہے کیونکہ اس پر حالَتِ رِجا غالِب ہوتی ہے مگر اس حالَتِ رِجا میں خوف بھی مُضْمَر (پوشیدہ ) ہوتا ہے۔

ایمان کے دو۲اوصاف

پرندے کے دو۲پَروں کی طرح خوف و رِجا اِیمان کے دو۲اَوصاف ہیں اور مومِن کی حالت ان دونوں یعنی خوف و رِجا کے درمیان ایسے ہے جیسا کہ پرندہ اپنے دونوں پَروں کے درمیان ہوتا ہے یا ترازو کا کانٹا اس کے دونوں پلڑوں کے درمیان۔

حضرت سَیِّدُنا مُطرِّف رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے مَنْقُول ہے کہ اگر مومِن کے خوف و رِجا کا وَزْن کیا جائے تو دونوں برابر ہوں گے۔ حَقیقتِ رِجا کی مَعْرِفَت اور رِجا والی شے میں طَمَعْ کے صِدْق میں یہی اَصْل ہے۔چنانچہ مومنین خوف و رِجا کے اِعْتِدال کی حالَت میں ہوتے ہیں اور یہ دو۲ایسے مَقام ہیں جن میں سے اَعلیٰ مَقام مُقرّبین کا ہے جو انہیں رِجا والے اَخلاق اور خوف دِلانے والے اَوصاف کے مُشاہَدے سے حاصِل ہوتا ہے اور دوسرا مَقام اَصحابِ یمین کا ہے جو انہیں اَحکام کی اِبتدا اور اَقسام کے تفاوُت کی مَعْرِفَت سے حاصِل ہوتا ہے۔ اس کی صُورَت کچھ یوں بنتی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مَخلوق پر اپنے فَضْل سے کَرَم فرمایا اور ایسا اس نے اپنی مرضی سے کیا نہ کہ کسی کے مجبور کرنے سے۔ لہٰذا جب اس نے بندوں کو یہ بات بتائی تووہ نِعْمَت کی اِبْتِدَا کے اِعْتِبَار سے کامِل نِعْمَت کی اُمِّید رکھنے لگے۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں جادوگروں نے مَغْفِرَت کی طَمَعْ کی جب وہ  اِیمان لائے تو کہنے لگے:

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠(۵۱) (پ ۱۹، الشعراء:۵۱)     

ترجمۂ کنز الایمان:ہمیں طَمَعْ ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے اس پر کہ ہم سب سے پہلے اِیمان لائے۔

یعنی انہوں نے کہا کہ ہم سب سے پہلے حضرت سَیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر اِیمان لانے کے اِعْتِبَار سے اُمِّید رکھتے ہیں کہ ہمارے اِیمان لانے کے سَبَب ہماری بخشش ہو جائے گی۔مَعْلُوم ہوا کہ انہوں نے اِیمان لانے کی وجہ سے بخشش کی اُمِّید رکھی۔

نعمت سے محرومی پر مایوس ہونا

اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس بندے کی مَذمّت فرمائی ہے جسے اس نے کسی نِعْمَت سے نواز کر وہ نِعْمَت واپَس لے لی ہو،پھر وہ شخص اس نِعْمَت کے دوبارہ مِلنے سے مَایُوس ہو گیا ہو۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:

وَ لَىٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُۚ-اِنَّهٗ لَیَـٴُـوْسٌ كَفُوْرٌ(۹) (پ ۱۲، ھود:۹)               

ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رَحْمَت کا مزہ دیں پھر اسے اس سے چھین لیں ضَرور وہ بڑا نااُمِّید ناشکرا ہے۔

اس کے بعد اپنے صَبْر کرنے والے نیک بندوں کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ- (پ ۱۲، ھود:۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان:مگرجنہوں نے صَبْر کیا اور اچھّے کام کیے۔

خوف و رِجا کا دل میں بسیرا

مَرْوِی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے سے اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اتنا ڈرو کہ کبھی اس کی خُفْیَہ تدبیر سے بے خوف مَت ہو اور اپنے خوف سے زیادہ اس سے اُمِّید رکھو۔ اس نے عَرْض کی:میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں؟ حالانکہ میرا ایک ہی دل ہے۔ فرمایا:کیا تو نہیں جانتا کہ مومِن کے دو۲دل ہوتے ہیں ۔ ایک سے وہ ڈرتا ہے اور دوسرے سے اُمِّید رکھتا ہے۔ مُراد یہ ہے کہ خوف و رِجا اِیمان کے دو۲وَصْف ہیں جن سے مومِن کا دل کسی وَقْت بھی خالی نہیں ہوتا گویا کہ اس صُورَت میں وہ دو۲دِلوں والا بن جاتا ہے۔

مخلوق کے طبقات

مخلوق کو چار۴طبقات میں پیدا کیا گیا ہے۔ ہر طبقے میں ایک گروہ ہے۔چنانچہ ،

٭ بعض وہ ہیں جو حالَتِ اِیمان میں زِنْدَگی بسر کرتے ہیں اور حالَتِ اِیمان ہی میں موت کو گلے سے لگاتے ہیں۔ یہاں ان کی رِجا اپنے اور دیگر مومنین کے لیے بھی ہوتی ہے کیونکہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں کسی نِعْمَت سے نوازتا ہے تو وہ اُمِّید رکھتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پر اپنی نِعْمَت کو مکمّل فرمائے گا اور اس نے انہیں جس نِعْمَت سے نوازا ہے ان سے واپَس نہ لے گا۔ 

٭بعض لوگ وہ ہیں جو حالَتِ اِیمان میں زِنْدَگی بسر کرتے ہیں مگر موت انہیں حالَتِ کفر میں آتی ہے۔ اس مَقام سے اَہْلِ رِجا اور دیگر لوگوں کو ڈرنا چاہئے کیونکہ وہ یہ حکْم تو جانتے ہیں مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا وہ حکْم ان سے پوشیدہ ہوتا ہے جو اس نے اپنے عِلْم کے مُطابِق ان کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔

٭بعض لوگ وہ ہیں جو حالَتِ کُفْر میں زِنْدَگی بسر کرتے ہیں مگر موت انہیں حالَتِ اِیمان میں آتی ہے۔

٭بعض لوگ وہ ہیں جن کی زِنْدَگی بھی حالَتِ کُفْر میں گزرتی ہے اور موت بھی کُفْر پر ہی آتی ہے۔

یہ دو۲الگ الگ حکْم ہیں جو رِجا کا مُوجِب ہیں مگر دوسرا حکْم مُشْرِک کے لیے ہے کہ جب لوگ اسے دیکھتے ہیں تو اس کے ظاہِر کی وجہ سے نااُمِّید نہیں ہوتے بلکہ اس رِجا میں انہیں یہ دُہرا خوف لاحِق ہوتا ہے کہیں ان کی موت بھی اس حَالَت پر نہ ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں یہ بات حقیقت کا رُوپ نہ دھار لے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن