30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے کہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کی عَقْل خوف سے زائِل ہو گئی تھی یہاں تک کہ وہ نااُمِّیدی کی حَد تک پہنچ گیا۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے اِرشَاد فرمایا:اے شخص! تیرا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمَت سے مَایُوس ہونا تیرے گناہ سے بھی عظیم ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے سچ فرمایا ہے، کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جس رَحْمَت سے غم میں مبتلا شخص راحَت پاتا اور گناہوں میں مبتلا شخص بخشش کی اُمِّید رکھتا ہے اس رَحْمَت سے نااُمِّید ہونا گناہوں سے بھی عظیم ہے ، بلکہ تمام گناہوں سے زیادہ بڑا گناہ ہے، کیونکہ اس نے اپنی خواہش کی بنا پر ان صِفاتِ باری تعالیٰ سے تعلّق توڑاجن سے رَحْمَت کی اُمِّید رکھی جاتی ہے اور اپنی مَذمُوم صِفَت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کَرَم پر حکْم لگایا جو بَہُت بڑا گناہ ہے اگرچہ اس کے دیگر گناہ بھی کبیرہ ہیں(مگراس کا یہ گناہ دیگر کبیرہ گناہوں سے بڑا ہے)۔چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان (وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ﳝ-(پ ۲، البقرة:۱۹۵) ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے ہاتھوں ہَلاکَت میں نہ پڑو۔ ) کی تفسیر میں ہے کہ یہاں ایسا شخص مُراد ہے جو کبیرہ گناہوں کے اِرْتِکاب سے اپنے ہاتھ آلُودَہ (لَت پَت)کرتا ہےاور توبہ بھی نہیں کرتا، پھر کہتا ہے کہ میں ہلاک ہو گیا مجھے کوئی عَمَل فائدہ نہ دے گا۔ چنانچہ اس سے مَنْع کیا گیا ہے۔
رِجا ایک بُلند مَقام اور عُمدہ حال ہے جو صِرف اَہْلِ عِلْم و حَیا میں سے کریم لوگوں کو حاصِل ہے۔ یہ حال ان پر مَقامِ خوف کے بعد آتا ہے، وہ رِجا کی وجہ سے ہی کَرْب سے راحَت اور گناہوں کا اِرْتِکاب ہوجانے پر سُکُون پاتے ہیں۔ جسے خوف کی مَعْرِفَت نصیب نہ ہو وہ رِجا کی مَعْرِفَت بھی نہیں پاتا اور جو مَقامِ خوف میں صِحَّت و سلامتی پر قائم نہیں رہتا اسے اَہْلِ رِجا کے بُلند مَقامات پر فائز نہیں کیا جاتا۔
مَقامِ رجا ومَقامِ خوف کا باہمی تعلّق
ہر بندے کو اس کے مَقامِ خوف کے مُطابِق مَقامِ رِجا حاصِل ہوتا ہے اور خوف دِلانے والی صِفات سے حاصِل ہونے والے مُکاشَفہ کے مُطابِق اسے اُمِّید دِلانے والی صِفات کا کَشْف ہوتا ہے۔ اگر اس کا مَقام مخلوقات کو خوف دِلانے والی صِفات مثلاً گناہ،عُیوب اور اَسباب ہوں تو ان مَقامات کے اِعْتِبَار سے اسے مَقاماتِ رِجا حاصِل ہوں گے یعنی اس سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے گا، گناہ مُعاف کر دئیے جائیں گے اور جنّت اور اس میں پائے جانے والے عُمدہ اَوصاف کے حُصُول کا شوق اس کے دل میں پیدا کر دیا جائے گا۔ یہ اَصحابِ یمین کا طریق ہے۔ لیکن ذاتِ باری تعالیٰ کے اَوصاف کے مُشاہَدے سے جو خوف دِلانے والی صِفات پیدا ہوتی ہیں اگر کوئی ان کے مَقام پر فائز ہو یعنی اگر کسی کواللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَزَلی عِلْم، بُرے خاتِمہ، خفیہ تدبیر، باطِنی اِسْتِدراج، قُدْرَت کی گِرِفْت اور حکْمِ جَبْرُوت کے مُشاہَدے سے خَوفِ اِلٰہی حاصِل ہوتواسے خوف میں اپنے مَقام کے اِعْتِبَار سے مَقامِ مَحبَّت اور مَقامِ رضا حاصِل ہوتا ہے۔ چنانچہ رِجا اَخلاق کے مَعانی اور کَرَم، اِحسان،فَضْل،عِنایَت، لُطْف اور اِمْتِنَان جیسے اَوصاف کانام ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہ صحیح نہیں کہ ہم ہر وہ بات بتا دیں جو ہمیں مَقاماتِ رِجا میں اَہْلِ رِجا کے مُشاہَدے کے مُتَعَلّق معلوم ہے۔ اس لیے کہ یہ باتیں عام مومنین والی نہیں، بلکہ یہ اس شخص کے لیے سخت نقصان دہ ہیں جسے یہ مَقام حاصِل نہ ہو، یہ خواص لوگوں کی باتیں ہیں جو صرف مَحبَّت سے ہی حاصِل ہوتی ہیں اور فائدہ دیتی ہیں اور مَحبَّت دل کے خوف سے دُرُسْت ہونے کے بعد ہی حاصِل ہوتی ہے۔ کیونکہ اکثر نُفُوس خوف سے ہی دُرُسْت ہوتے ہیں جیسا کہ بُرے غُلام کوڑے اور ڈنڈے کھائے بغیر سیدھے نہیں ہوتے، پھر (بھی سیدھے نہ ہوں تو)انہیں تلواروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بندے میں رِجا کے صحیح ہونے کی عَلامَت یہ ہے کہ اس کی رِجا میں خوف بھی ہو کیونکہ جب کسی شے کی اُمِّید پائی جاتی ہے تو دل میں اس کی عَظَمَت اور اس پر رشک کی شِدَّت کی وجہ سے بندے کو اس کے فوت ہو جانے کا خوف بھی لاحِق رہتا ہے، اس طرح وہ حالِ رِجا میں فوتِ رِجا کے خوف سے جُدا نہیں ہوتا۔ حالانکہ رِجا اَہْلِ خوف کے لیے راحَت کا باعِث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرب لوگ رِجا کو خوف کہتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایسے اَوصاف ہیں جن میں سے کوئی بھی دوسرے سے جُدا نہیں ہوتا۔ عربوں کا طریقہ ہے کہ جب ایک شے دوسری کو لازِم ہو یا اس کا وَصْف یا سَبَب ہو تو وہ اسے دوسری شے کا نام دیدیتے ہیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں:مَا لَـكَ لَا تَرْجُوْ كَذَا؟ یعنی وہ یہ کہنا چاہتے ہیں: مَا لَـكَ لَا تَـخَافُ؟ تم کیوں نہیں ڈرتے۔ قرآنِ کریم میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے:( مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ(۱۳) (پ ۲۹، نوح:۱۳) ) [1] اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں اکثر مُفَسِّرین کا قول ہے کہ اس سے مُراد یہ ہے کہ تمہیں کیا ہوا ہے جو تم عَظَمَتِ باری تعالیٰ سے نہیں ڈرتے؟نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےفرمانِ عالیشان (فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ(پ ۱۶، الکھف:۱۱۰) ) [2] یعنی یہاں بھی مُراد یہ ہے کہ جسے اپنے رب سے ملنے کا ڈر ہو۔
خوف و رِجا کا آپَس میں تعلّق دن اور رات کے باہَمی تعلّق جیسا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جُدا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دن رات میں سے کسی ایک کے ذریعے کل مدّت (24 گھنٹے)بیان کرنا بھی جائز ہے۔ چنانچہ ایک ہی واقعے کے مُتَعَلّق قرآنِ کریم میں دو۲مختلف مَقامات پر مدّت بیان کرنے کے لیے یہ اَلفاظ کچھ یوں مذکور ہیں:( اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا(۱۰) (پ ۱۶، مریم:۱۰) ) [3] اور دوسرے مَقام پر ہے (ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًاؕ-(پ ۳، ال عمران:۴۱) ) [4]۔ایسا اس لیے ہے کہ دن؛ رات سے جُدا ہے نہ رات؛ دن سے جُدا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع