30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سَیِّدُنا عبداللہبن عَمْرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ، حضرت سَیِّدُنا ابُو ہُرَیرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سَیِّدُنا کَعْبُ الاَحْبَار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفَّار سے مَرْوِی ایک مَشْہُور رِوایَت میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کعبہ کی جانِب دیکھ کر اِرشَادفرمایا:تیری عَظَمَت و شَرَافَت کتنی زیادہ ہے، مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک مومِن کی حُرْمَت تجھ سے بھی زیادہ ہے۔[1]
عَظَمَت کعبہ کا باعث اولیائے کرام ہیں؟
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو یہ حکْم اِرشَادفرمایا کہ وہ ا س کے دوستوں کی عَظَمَت کی وجہ سے اس کے گھر یعنی کعبہ کو پاک کریں، گویا بیتُ اللہ زَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کو یہ شَرَف اَوْلِیا ئے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کی بدولت ملا۔ چنانچہ،
ایک حَدِیْثِ قُدْسِی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَادفرمایا ہے کہ جس نے میرے کسی وَلی کی توہین کی گویا اس نے مجھے جنگ کی دَعْوَت دی، (یاد رکھو!) میں دنیا و آخِرَت میں اپنے وَلی کا اِنتِقام لینے والا ہوں۔[2]
سیدنا یعقوب و یُوسُف عَلَیْہِمَا السَّلَام کے درمیان جدائی کی وجہ
حضرت سَیِّدُنایعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کے مُتَعَلّق مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی جانِب وَحِی فرمائی:کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کے اور یُوسُف کے درمیان جُدائی کیوں پیدا کی؟عَرْض کی: نہیں۔ اِرشَاد فرمایا:اس لیے کہ آپ نے ان کے دوسرے بھائیوں سے فرمایا تھا (اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ(۱۳) (پ ۱۲، یوسف:۱۳) ترجمۂ کنز الایمان:ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا لے اور تم اس سے بے خبر رہو۔)آپ کو اس پر بھیڑئیے کا خوف تو ہوامگر مجھ سے حِفاظَت کی اُمِّید کیوں نہ رکھی؟ اس کے بھائیوں
کی غفلت کی طرف تو دیکھ لیا مگر میری حِفاظَت کی طرف کیوں نہ دیکھا؟یہ میری آپ پر عِنایَت ہے کہ میں نے آپ کی تقدیر میں لکھ رکھا ہے کہ میں اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن ہوں۔ لہٰذا آپ نے مجھ سے (یُوسُف کی واپسی کی) اُمِّید رکھی(تو میں نے انہیں آپ سے ملا دیا)۔ اگر میں نے آپ کی تقدیر میں خود کو اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن نہ لکھا ہوتا تو میں کبھی آپ پر (یُوسُف کو مِلانے کا)کَرَم نہ فرماتا۔
رِجا کسی شے میں طَمَعْ کے قَوِی ہونے کا نام ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ کریم میں طَمَعْ کو رِجا کی جگہ ذِکْر کیا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-(پ ۲۱، السجدة:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے رب كو پكارتے ہیں ڈرتے اور اُمِّید کرتے۔
یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ خوف کسی شے سے ڈرکے قَوِی ہونے کا نام ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
یَحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖؕ- (پ ۲۳، الزمر:۹)
ترجمۂ کنز الایمان:آخِرَت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رَحْمَت کی آس لگائے۔
رجا کے بغیر ایمان دُرُسْت نہیں
رِجا مومنین کا وَصْف اور اِیمان کا ایسا خُلق ہے جس کے بغیر اِیمان دُرُسْت نہیں جیساکہ یہ خوف کے بغیر دُرُسْت نہیں۔ گویا کہ رِجا پرندے کا ایک پَر ہے جس کے بغیر وہ پرواز نہیں کر سکتا۔اسی طرح وہ شخص بھی مومِن نہیں ہو سکتا جو اس ہستی سے اُمِّید نہیں رکھتا جس پر وہ اِیمان لایا ہے۔
یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حُسْنِ ظَن اور حُسْنِ اُمِّید رکھنے کا ایک مَقام ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ نصیحت نِشان ہے:تم میں سے ہر گز کسی کو موت نہ آئے مگر یہ کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حُسْنِ ظَن رکھتا ہو۔ اس لیے کہ حَدِیْثِ قُدْسِی میں ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مُطابِق ہوتا ہوں، (اب یہ اس پر ہے کہ)وہ جوچاہے مجھ سے گمان رکھے۔
حضرت سَیِّدُناابن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَسَم کھا کر فرماتے:بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے جو بھی اچھّا گمان رکھتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے عطا فرما دیتا ہے۔ اس لیے کہ ہر قِسْم کی خَیر و بھلائی اس کے دَسْتِ قُدْرَت میں ہے یعنی جب وہ کسی کو حُسْنِ ظَن کی توفیق عطا فرماتا ہے تو اسے وہ شے بھی عَطا فرما دیتا ہے جس کے مِلنے کا وہ گمان رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ جس شے کے مُتَعَلّق حُسْنِ ظَن رکھتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے وُقوع کا اِرادہ فرما لیتا ہے۔
حضرت سَیِّدُنا یُوسُف بن اَسباط رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت سَیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان(وَ اَحْسِنُوْاۚۛ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۹۵) (پ ۲، البقرة:۱۹۵) ترجمۂ کنز الایمان:اور بھلائی والے ہو جاؤ بے شک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں۔) کی تفسیر میں اِرشَاد فرماتے سنا : اس سے مُراد ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اچھّےگمان رکھو۔
ایک بار سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی شخص کے پاس تشریف لائے جبکہ اس پر موت کی عَلامات ظاہِر تھیں، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے دَرْیَافْت فرمایا: تم اپنے آپ کو کیسا پا رہے ہو؟ عَرْض کی:میری حالَت یہ ہے کہ میں اپنے گناہوں سے ڈررہا ہوں مگر اپنے رب کی رَحْمَت کی اُمِّید رکھتا ہوں۔ اِرشَاد فرمایا:جس بندے کے دل میں اس حَالَت میں یہ دونوں چیزیں جَمْع ہوں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے وہ شے عَطا فرمادیتا ہے جس کی اس نے اُمِّید رکھی اور اس سے محفوظ رکھتا ہے جس سے وہ ڈر رہا ہوتا ہے۔[3] یہی وجہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع