30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کامِل نِعْمَت کیا ہے؟ اس نے عَرْض کی: نہیں۔ تو اِرشَاد فرمایا: کامِل نِعْمَت جنّت میں جانا ہے۔[1]
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بھی ہمیں اس بات کی خَبَر دی ہے کہ اس نے ہمارے لیے دِیْنِ اِسلام کو پسند فرما کر ہم پر اپنی نِعْمَت مُکَمّل فرما دی ہے اور یہ بھی دُخُولِ جنّت کی دلیل ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ- (پ ۶، المائدة:۳)
ترجمۂ کنز الایمان:آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامِل کر دیا اور تم پر اپنی نِعْمَت پوری کر دی اور تمہارے لیے اِسلام کو دین پسند کیا۔
ہم بھی آیَتِ مُبارَکہ میں مذکور نِعْمَت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ شریک ہیں، لہٰذا ہمیں بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فَضْل و کَرَم سے اپنے گناہوں کی بخشش کی اُمِّید ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ (پ ۲۶، الفتح:۲)
ترجمۂ کنز الایمان:تاکہ اللہ تمہارے سَبَب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دے۔
ایک گناہ کی سزا دو۲بار نہیں ہو گی
امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مَرْوِی ہے کہ جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دنیا میں اس کی پردہ پوشی فرمائی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے بڑھ کر کریم ہے کہ آخِرَت میں اس کا پردہ فاش کرے اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اس پر اسے دنیا میں ہی سزا دیدی گئی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے بڑھ کر عادِل ہے کہ آخِرَت میں دوبارہ اپنے بندے کو سزا دے۔[2] ایک رِوایَت میں اَلفاظ یوں ہیں: بندہ دنیا میں گناہ کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی پردہ پوشی فرما دے تو بروزِ قِیامَت اس کی مَغْفِرَت بھی فرما دے گا۔
گناہ گار کا حِفاظَت الٰہی میں ہونا
کسی بُزرگ سے مَرْوِی ہے کہ ہر گناہ گار گناہ کا اِرْتِکاب کرتے وَقْت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حِفاظَت میں ہوتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں:جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حِفاظَت میں ہوتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی حِفاظَت کا ذِمّہ اُٹھا لیتا ہے وہ رُسْوا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ مَنْقُول ہے کہ جسے دنیا میں رُسْوا کیا گیا تو یہ اس کے گناہوں کا کفّارہ ہو گا اور اسے آخِرَت میں اس گناہ کی وجہ سے رُسْوا نہ کیا جائے گا۔
مَرْوِی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:بندہ جب گناہ کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مَغْفِرَت طَلَب کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے:میرے بندے کو دیکھو اس نے گناہ کیا مگر اسے یہ یقین بھی تھا کہ اس کا رب گناہ مُعاف فرماتا ہے اور گناہوں کی وجہ سے گِرِفْت بھی فرماتا ہے،لہٰذا میں تم سب کو ا س بات کا گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے بخش دیا ہے۔[3]
بندے کا گناہ کے بعد رب کو بار بار پکارنا
حضرت سَیِّدُنامحمد بن مُصْعَب رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنااَسْوَد بِن سالِم رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے ایک مَکْتُوب میں لکھا:بندہ جب اپنے نَفْس پر کوئی زِیادَتی کر کے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر عَرْض کرتا ہے: اے میرے رب!تو فرشتے اس کی آواز پر حِجاب ڈال دیتے ہیں، جب وہ دوسری مرتبہ اے میرے رب! کہتا ہے تو فرشتے پھر اس کی آواز پر حِجاب ڈال دیتے ہیں اور جب وہ تیسری بار بھی ”اے میرے رب!“ پکارتا ہے تو فرشتے اس بار بھی اس کی آواز پر پردہ ڈال دیتے ہیں، مگر جب وہ چوتھی بار اپنے رب کو پکارتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرشتوں سے فرماتا ہے:تم کب تک میرے بندے کی آواز مجھ تک پہنچنے سے چھپاتے رہو گے، میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے عِلاوہ اس کا کوئی رب نہیں جو اس کے گناہوں کو مُعاف فرمائے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے مُعاف فرما دیا ہے۔
گناہ آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگیں تو بھی
ایک حدیثِ قُدْسی میں ہے کہ جب بندہ گناہوں کا مُرْتکِب ہو یہاں تک کہ اس کے گناہ آسمان کی بُلَندیوں کو چھونے لگیں تو بھی میں اس کے گناہ مُعاف فرما دوں گا جب وہ مجھ سے مَغْفِرَت طَلَب کرے اور بخشش کی اُمِّید رکھے۔[4]
زمین بھر گناہ کر کے بارگاہِ خداوندی میں حاضِر ہونا
ایک حَدِیْثِ قُدْسِی میں ہے کہ اگر میرا بندہ مجھے زمین بھر گناہ کر کے ملےتو میں اسے اسی قَدْر مَغْفِرَت سے مِلوں گا بشرطیکہ اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو۔[5]
فرشتے کا چھ۶ساعتوں تک قلم اٹھائے رکھنا
[1]………ترمذی ، كتاب الدعوات ، باب رقم: ۹۳ ، ۵/ ۳۱۲ ، حدیث: ۳۵۳۸
[2]………ابن ماجه ، كتاب الحدود ، باب الحد كفارة ، ۳/ ۲۵۱ ، حدیث: ۲۶٠۴ ، بتغیر قلیل
مسند احمد ، مسند علی بن ابی طالب ، ۱/ ۲۱۳ ، حدیث: ۷۷۵
[3]………مسلم ، كتاب التوبة ، باب قبول التوبة من الذنوب…الخ ، ص۱۴۷۴ ، حدیث: ۲۷۵۸
[4]………ترمذی ، كتاب الدعوات ، باب فی فضل التوبة والاستغفار…الخ ، ۵/ ۳۱۸ ، حدیث: ۳۵۵۱
[5]………مسلم ، كتاب الذكر والدعاء…الخ ، باب فضل الذكر والدعاء والتقرب الی اللہ ، ص۱۴۴۳ ، حدیث: ۲۶۸۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع