30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭… اِسْتِنْباط جب قرآن سے ہو، اس کا شاہِد مجمل ہو اور نَصّ بھی اس کے مُخالِف نہ ہو تو وہ بھی عِلْم ہی ہے۔
حضرت سَیِّدُنا ابنِ مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ آج تم ایسے زمانے میں ہو جس میں خواہشِ نَفْس عِلْم کے تابع ہے اور عنقریب ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں عِلْم خَواہشِ نَفْس کے تابع ہو گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دُنیا کی آسائش اور عَقْل کی آب و تاب کو قرآنِ کریم میں زُخْرُف کا نام دیا ہے۔ چنانچہ آسائشاتِ دنیا کا تذکرہ کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِـُٔوْنَۙ(۳۴) وَ زُخْرُفًاؕ- (پ ۲۵، الزخرف:۳۴، ۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے گھروں کے لیے چاندی کے دروازے اور چاندی کے تخت جن پر تکیہ لگاتے اور طرح طرح کی آرائش۔
ایک مَقام پر اِرشَادفرمایا:
زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًاؕ-(پ۸، الانعام:۱۱۲) ترجمۂ کنز الایمان:بناوٹ کی بات دھوکے کو۔
جس طرح ایک جاہِل شخص دنیاوی دھوکے میں مبتلا ہو کر باطِل سے آراستہ بناوٹی باتوں کو پسند کرتا ہے، اسی طرح ایک جاہِل دنیادار لوگوں سے ایک شے کی حقیقت چھپاتے ہوئے اس پر سونے (Gold)کا پانی چڑھا کر فائدہ حاصِل کرتا ہے۔ چنانچہ کسی شے کی مُلَمَّع سازی سے مُراد یہ ہے کہ اس شے پر سونے کا پانی اس طرح چڑھایا جائے کہ وہ سونے جیسی ہو جائے اور نادان لوگ اور بچے اسے اَصْلی سونا سمجھیں۔ جبکہ باتوں کی مُلَمَّع سازِی سے مُراد یہ ہے کہ عِلْم سے بھرپور باتوں کی طرح جھوٹ اور باطِل سے آراستہ باتیں کی جائیں کہ سننے والے جاہِل لوگ انہیں عِلْمی باتیں ہی گمان کریں۔
ایک قول کے مُطابِق چونکہ زُخْرُف سے مُراد سونا (Gold)ہے،لہٰذا فریب کی بات کو اس (نقلی) سونے سے تشبیہ دی گئی ہے جو اپنی اَصْل پر قائم نہیں رہتا مگر عُلَمائے رَبَّانِـیِّیْن اور حقیقت جاننے والے زاہِدین اس کی حقیقت جان لیتے ہیں کیونکہ انبیا و صِدِّیقین سونے کو پتھر و مِٹّی جیسا سمجھتے ہیں۔
حضرت سَیِّدُناامام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل فرمایا کرتے کہ لوگ عِلْم چھوڑ کر باغ لگانے لگے ہیں۔ ان میں عِلْم کس قدر کم ہو گیا ہے کہ (اِشاعَتِ عِلْم کیلئے اب)اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی سے مدد و نصرت مطلوب ہے۔
حضرت سَیِّدُناامام مالِک بن اَنَس رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا فرمان ہے کہ گزَشتہ زمانے میں لوگ ان اُمُور کے مُتَعَلّق نہیں پوچھتے تھے جن کے مُتَعَلّق آج کل لوگ پوچھتے ہیں اور نہ عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام اکثر اُمُور میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ حَرام ہے اور یہ حلال ہے، بلکہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے پایا کہ یہ مستحب ہے اور یہ مکروہ ہے۔ حضرت سَیِّدُناامام مالِک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالرَّازِق سے جب کوئی سوال پوچھا جاتا تو آپ جواب دینے میں بَہُت زیادہ تَوَقُّف سے کام لیتے اور اکثر یہ فرما دیتے کہ مجھے معلوم نہیں، کسی اور سے معلوم کرو۔ چنانچہ ایک بار کسی شخص نے حضرت سَیِّدُنا عبدالرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی سے عَرْض کی:آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ فلاں شخص سے کوئی بات پوچھی جائے تو وہ اس کے حَلال و حَرام ہونے کے مُتَعَلّق فوراً بتا دیتا ہے اور اپنے عِلْم کے مُطابِق قطعی حکم لگاتا ہے جبکہ حضرت سَیِّدُناامامِ مالِک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالرَّازِق سے جب کوئی سُوال پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ میرا اس بارے میں خَیال یہ ہے۔ اس پر حضرت سَیِّدُنا عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان نے فرمایا: تیرا ستیاناس! مجھے فلاں شخص کے اپنے عِلْم کے مُطابِق قطعی حکم بیان کرنے کے بجائے امامِ مالک کا یہ جواب دینا زیادہ پسند ہے کہ میرا اس کے مُتَعَلّق خیال یہ ہے۔
حضرت سَیِّدُنا ہِشام بن عُروہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے کہ آج کے دَور میں لوگوں سے ان باتوں کے مُتَعَلّق مَت پوچھا کرو جو انہوں نے ایجاد کر رکھی ہیں،کیونکہ ان باتوں کے جوابات بھی انہوں نے تیار کر رکھے ہیں۔ بلکہ ان سے سنّتوں کے مُتَعَلّق پوچھا کرو کیونکہ یہ سنتیں نہیں جانتے۔
حضرت سَیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی جب لوگوں کی نئی نئی باتیں اور خواہشات دیکھتے تو فرماتے: اس مَسْجِد میں بیٹھنا مجھے اس جیسے دوسرے مَقامات پر بیٹھنے سے زیادہ محبوب تھا مگر جب سے یہ ریاکار لوگ اس میںبیٹھنے لگے ہیں مجھے یہاں بیٹھنا بہت بُرا لگنے لگا ہے، کیونکہ میں (ان کے ساتھ) اس میں بیٹھنے سے کُوڑے کے ڈھیر پر بیٹھنا زیادہ پسند کرتا ہوں۔ مزید فرماتے کہ یہ لوگ تم سے جو سُنَن و آثار بیان کریں ان پر تو عَمَل کرو مگر جو باتیں اپنی رائے سے بیان کریں ان پر لکیر پھیر دو اور ایک مرتبہ فرمایا کہ ان پر پیشاب کر دو۔
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین عَقْلی عُلوم سے ناواقِف رہنے اور کلام نہ کرنے کو پسند کرتے تھے اور سرکارِ دو۲جَہاں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی کم گوئی کا تذکرہ حَیا کے ساتھ کرتے ہوئے اسے ایمان کا ایک حِصّہ قرار دیا ہے۔
کم گوئی و فضول گوئی کے متعلق چار۴فرامینِ مصطفےٰ
(1 )۔۔۔۔۔حَیا اور کم گوئی اِیمان کے دو۲شعبے ہیں اور فحش گوئی اور زیادہ باتیں کرنا نِفاق کے دو۲شعبے ہیں۔[1]
(2 )۔۔۔۔۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس شخص کو پسند نہیں فرماتا جو بڑا بلیغ ہو اور زبان سے باتوں کو اس طرح لپیٹے جیسے گائے گھاس کو زبان سے لپیٹتی ہے۔[2]
(3 )۔۔۔۔۔کم گوئی سے مُراد زبان کی خاموشی ہے نہ کہ دِل کی۔[3]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع