30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو اس کے لئے ان تمام لوگوں کی تعداد کے برابر ثواب ہو گا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کرتے ہیں اور ان کے برابر بھی جو دعا نہیں کرتے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے قیامت کے دن ان لوگوں کے ہمراہ اٹھائے گا جو محفوظ و مامون ہوں گے اور قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہو گا کہ وہ اسے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے ساتھ جنت میں داخل کرے۔ ‘‘ ([1])
حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولوں کے سالار، شہنشاہِ ابرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا
فرمانِ خوشبو دار ہے: جو پیر کی شب چار رکعت ادا کرے، پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) ) 10 مرتبہ، دوسری میں 20 مرتبہ، تیسری میں 30 مرتبہ اور چوتھی میں 40 مرتبہ پڑھے۔ اس کے بعد تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔ پھر قل شریف 75 مرتبہ، اپنے اور اپنے والدین کے لئے استغفار (یعنی اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ) 75 مرتبہ اور درودِ پاک بھی 75 مرتبہ پڑھے۔ اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اپنی حاجت کا سوال کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے کہ اس کی مانگی ہوئی شے اسے عطا فرمائے ۔ اسے صَلاۃُ الحاجۃ بھی کہتے ہیں ۔ ([2])
حضرت سیِّدُنا ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جو پیر کی شب دو رکعتیں اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) ) (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ (۱) ) اور (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ (۱) ) پندرہ پندرہ مرتبہ پڑھے ۔ پھر سلام کے بعد آیت الکرسی اور استغفار بھی پندرہ پندرہ مرتبہ پڑھے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جنتیوں میں شامل کر دیتا ہے۔ اگرچہ وہ جہنمیوں میں سے ہو اور اسکے مخفی و علانیہ سب گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور اسکی پڑھی گئی ہر آیت کے بدلے ایک حج اور عمرے کا ثواب لکھا جاتا ہے اور ایک پیر سے دوسرے پیر کے درمیان اسکی موت واقع ہو جائے تو وہ شہید کی موت مرے گا۔ ([3])
مروی ہے کہ جس نے شبِ منگل بارہ رکعت ادا کیں اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد پندرہ مرتبہ سورہ (اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ) پڑھی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دے گا جس کی لمبائی اور چوڑائی دنیا کی وسعت سے سات گنا زیادہ ہو گی۔ ([4])
مروی ہے کہ جو شبِ بدھ دو رکعت ادا کرے اور پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورہ (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ (۱) ) دس مرتبہ اور دوسری رکعت میں سورہ (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ (۱) ) دس مرتبہ پڑھے تو ہر آسمان سے 70 ہزار فرشتے نازل ہوتے ہیں جو قیامت تک اس نماز کا ثواب لکھتے رہتے ہیں ۔ ([5])
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے کہ جو شبِ جمعرات مغرب اور عشا کے درمیان دو رکعت ادا کرے اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد پانچ پانچ مرتبہ آیت الکرسی، قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) ، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ (۱) ، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ (۱) پڑھے، پھر نماز سے فارغ ہو کر پندرہ بار استغفار پڑھ کر اس کا ثواب اپنے والدین کو بخش دے تو اسنے ان کا حق ادا کر دیا اگرچہ وہ نافرمان ہی کیوں نہ ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے صدیقین اور شہدا جیسا مرتبہ عطا فرمائے گا۔ ([6])
حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے: ”جو شبِ جمعہ نمازِ مغرب و عشا کے درمیان بارہ رکعت ادا کرے ، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد گیارہ گیارہ مرتبہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) پڑھے تو گویا اسنے بارہ سال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اس طرح عبادت کی کہ دن بھر روزہ رکھا اور رات بھر قیام کیا۔“
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فضیلت نشان ہے کہ جس نے شبِ جمعہ نمازِ عشا باجماعت ادا کی اور دو رکعت سنت بھی ادا کیں ، پھر اس کے بعد دس رکعات ادا کیں اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد ایک ایک مرتبہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) ، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ (۱) اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ (۱) پڑھی، پھر تین وتر ادا کئے اور اس کے بعد دائیں پہلو کے بل قبلہ رو ہو کر سو گیا تو گویا اسنے شبِ قدر میں عبادت کی۔
شبِ جمعہ درودِ پاک کی کثرت کیا کرو:
سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دل نشین ہے: ’’شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ مجھ پر درودِ پاک کی کثرت کیا کرو۔ ‘‘ ([7])
[1] اتحاف السادة المتقين، کتاب اسرار الصلاة، الباب السابع، القسم الثانی، ج۳، ص۶۲۸
[2] اتحاف السادة المتقين، کتاب اسرار الصلاة، الباب السابع، القسم الثانی، ج۳، ص۶۲۹
[3] المرجع السابق، ص۶۳۰
[4] المرجع السابق، ص۶۳۱
[5] المرجع السابق
[6] تفسير روح البيان، پ۲۱، لقمان، تحت الاية ۱۴، ج۷، ص۷۹
[7] شعب الايمان للبيهقی، باب فی الصلوات، فضل الصلاة علی النبی صلی الله عليه وسلم، الحديث: ۳۰۳۴، ج۳، ص۱۱۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع