دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

کہ گزشتہ رات کی نیند پوری ہو جائے اور ظہر کے بعد بھی سوئے تا کہ آنے والی رات آسانی سے  بسر ہو سکے۔ لیکن مستحب یہ ہے کہ دن اور رات میں   آٹھ گھنٹوں   سے  زائد نہ سوئے۔

            بعض لوگوں   کا خیال ہے کہ اگر دن اور رات میں   اتنے گھنٹے آرام نہ کیا تو اس کا بدن کمزور ہو جائے گا کیونکہ نیند جسم کی غذا اور اس کی راحت ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ (۹)  (پ۳۰،  النبا:  ۹)

 تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور تمہاری نیند کو آرام کیا۔

            جس طرح کہ یہ فرمانِ عالیشان ہے:

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ (۱۱)  (پ۳۰،  النبا:  ۱۱)

 تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور دن کو روزگار کے لئے بنایا۔

            لیکن اگر بیدار رہنا کسی کی عادت ہو تو پھر جاگتے رہنے میں   بھی کوئی حرج نہیں  ،   اس لئے کہ عادت فطرت جیسا کام کرتی ہے اور عرف سے  خارج ہوتی ہے،   لہٰذا کسی کی عادت پر قیاس نہ کیا جائے گا۔

ظہر و عصر کے درمیان اَسلاف کا طریقہ: 

            ظہر و عصر کے درمیان نَفْل نماز پڑھنا رات کو نوافل پڑھنے کی طرح ہے اور اسے  صلٰوۃُ الْغَفْلَۃ کہتے ہیں  ۔ ظہر اور عصر کے درمیان مسجد میں   اعتکاف مستحب ہے اور بزرگانِ دین اس وقت ذکر میں   اس لئے مشغول رہتے کہ اعتکاف اور نمازِ عصر کے انتظار میں   بیٹھنا دونوں   عمل ایک ساتھ ہو جائیں  ۔ چنانچہ منقول ہے کہ ظہر و عصر کے درمیان کوئی مسجد میں   داخل ہوتا تو شہد کی مکھیوں   کی بھنبھناہٹ کی طرح نمازیوں   کی تلاوت کی ہلکی ہلکی آوازیں   سنتا۔

            اگر کسی کا گھر عبادت اور دل جمعی کے لئے زیادہ محفوظ ہو تو وہاں   آ جائے کیونکہ جو جگہ زیادہ محفوظ و سالم ہو وہی عبادت کے لئے افضل ہوتی ہے۔ تیسرا وظیفہ  (جو چاشت سے  لے کر زوال تک ہے)  اس پانچویں   سے  بہتر ہے،   کیونکہ بندہ اس میں   رات کے رہ جانے والے معمولات سر انجام دے سکتا ہے۔ ان دونوں   اوقات کے افضل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان اوقات میں   لوگ عام طور پر طلبِ دنیا اور خواہشاتِ نفسانیہ کے حصول میں   مگن ہوتے ہیں   اور بیدار دل کا مالک اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ  کی حاضری کے لئے ان دونوں   اوقات میں   فارغ ہوتا ہے اور راحت و سکون پاتا ہے اور عامل اپنے عمل ،   توجہ اور فراغت کی حلاوت و لذت حاصل کرتا ہے۔ نیز مخلوق سے  کنارہ کش ہونے اور اپنے خالق عَزَّ وَجَلَّ  سے  لَو لگانے کے سبب برکت اور فضل بھی پاتا ہے۔

            ان دونوں   صورتوں   میں   سے  ایک کا ذکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے اس فرمانِ عالیشان میں   ہے:

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا (۶۲)  (پ۱۹،  الفرقان:  ۶۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور وہی ہے جس نے رات اور دن کی بدلی رکھی اس کے لئے جو دھیان کرنا چاہے یا شکر کا ارادہ کرے ۔

وظائف کے اوقاتِ قضا: 

            مذکورہ آیتِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا قائم مقام بنایا ہے،   دونوں   فضیلت میں   ایک دوسرے کے نائب ہیں  ،   پس اگر رات کے کچھ معمولات رہ جائیں   تو دن کے اِن دو اوقات میں   اُن کی قضا کی جا سکتی ہے: یعنی پہلا وقت چاشت تا زوال اوردوسرا ظہر تا عصر ہے۔ دوسری صورت یہ بھی ہے کہ دن چونکہ رات کا قائم مقام ہوتا ہے لہٰذا جس کے رات کے کچھ معمولات رہ جائیں   وہ دن کے کسی بھی وقت ان کی قضا کر لے اور جس کے دن کے کچھ معمولات رہ جائیں   وہ رات میں   ان کی قضا کر لیا کرے کیونکہ دونوں   ایک دوسرے کے نائب ہیں  ۔ الغرض جو عمل کسی ایک وقت میں   نہ ہو سکے دوسرے وقت میں   ادا کیا جا سکتا ہے۔

ذکر اور شکر: 

            ذکر،   دل کے تمام اعمال کا ایک جامع نام ہے مثلاً مقاماتِ یقین،   علومِ غیبیہ کا مشاہدہ وغیرہ اور شکر کا اطلاق شریعتِ اسلامیہ کے ان تمام اعمال پر ہوتا ہے جو ظاہری اعضاء کے ذریعے سر انجام پاتے ہیں   اور یہ دونوں   یعنی ذکر و شکر مکمل طور پر بندے کا عمل اور اس کی عبادت کی حقیقت ہیں  ۔ انہی دونوں   کا اظہار حضرت سیدنا موسیٰ کلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ربِّ جلیل عَزَّ وَجَلَّ  سے  کیا تھا جسے  ان آیاتِ مبارکہ میں   بیان کیا گیا ہے: 

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ (۳۳)  وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ (۳۴)  (پ۱۶،  طه:  ۳۳،   ۳۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کہ ہم بکثرت تیری پاکی بولیں   اور بکثرت تیری یاد کریں  ۔

            اس آیتِ مبارکہ میں   ظاہر و باطن سے  ادا ہونے والے ذکر و تسبیح کو ایک ساتھ جمع کر دیا گیا ہے۔

            یہ پانچواں   وظیفہ ظہر و عصر کے درمیان کا ہے جو اوقاتِ دن میں   سب سے  زیادہ طویل ہے اور عبادت کے لئے اس کا وقت بھی سب سے  زیادہ کار آمد ہے،   نیز یہ وقت تیسرے وظیفہ سے  بھی طوالت میں   زائد ہے اور یہی دن کا اَصِیْل  (شام کا وقت)  بھی ہے۔

            یہ وقت شام کے ان اوقات میں   سے  ایک ہے جن کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ کریم میں   کیا ہے کہ اس وقت ہر شے سجدہ ریز ہوتی ہے،   نیزاس وقت کو صبح کے اوقات کے ساتھ ذکر کیا،   چنانچہ ارشاد فرمایا:

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن