30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نمازِ چاشت کے بعد یہ کام کرنے کی کوشش کرے:
٭… اگر کسی کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ مریض ہے تو اس کی عیادت کرے۔
٭… اگر کوئی جنازہ آ جائے تو اس میں شرکت کرے۔
٭… اگر کوئی نیکی و پرہیزگاری کے کام پر معاونت چاہے تو اس میں کوشش کرے۔
٭… اگر کسی بھائی کو کوئی حاجت و ضرورت ہو تو اسے پورا کرے۔
٭… اگر کسی فریضہ کی ادائیگی لازم ہو تو فوراً اسے سر انجام دے۔
٭… اگر اسے کسی مستحب کام کی فضیلت معلوم ہو تو اس کے رہ جانے سے پہلے پہلے اسے ادا کر لے۔
صبح کے وقت ذکروفکر کے بعد سب سے افضل اعمال یہی ہیں ۔ نمازِ فجر سے فراغت کے بعد جب سورج طلوع ہو جائے اور مذکورہ امور میں سے کسی پر عمل کرنا ممکن نہ ہو تو پھر امورِ ذیل میں سے کسی پر عمل کرے:
٭… نَفْل نماز میں مشغول ہو جائے۔
٭… تلاوتِ قرآنِ کریم کرنے لگے۔
٭… مختلف مروی اذکار میں مشغول رہے، خواہ وہ فرض ہوں یا مستحب۔
٭… اعمالِ گزشتہ میں اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔
٭… نفس کو آئندہ در پیش مشکلات سے باہر نکالنے کی کوشش کرے۔
٭… ہر حال میں اپنے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کی جانب متوجہ رہے۔
ان امور میں مصروف رہے یہاں تک کہ سورج کی روشنی خوب پھیل جائے یعنی خوب دن چڑھ آئے۔ یہی دن کا دوسرا وظیفہ ہے اور یہی وہ چاشت کا وقت ہے جس کی قسم اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان الفاظ میں یاد فرمائی ہے:
وَ الضُّحٰىۙ (۱) (پ۳۰، الضحی: ۱)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: چاشت کی قسم۔
یعنی چاشت کے وقت سے مراد وہ وقت ہے جب سورج کی گرمی و تپش سے پاؤں جلنے لگیں ۔
جب بندےنے اس بات پر عمل کیا تو اسنے یقینی طور پر ان احکام کی پیروی کی جواس کے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی جانب نازل فرمائے ہیں ۔ کیونکہ اسنے کہا تھا:
اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا (پ۲۰، النمل: ۹۱)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ پوجوں اس شہر کے رب کو جس نے اسے حرمت والا کیا ہے ۔
اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے یہ حکم دیا :
اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ (پ۸، الاعراف: ۳)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے لوگو اس پر چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اُترا ۔
اور پھر بندےنے یہ کہا:
وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَۚ- (پ۲۰، النمل: ۹۲)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور یہ کہ قرآن کی تلاوت کروں ۔
تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ ارشاد فرمایا:
اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَؕ-اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ- (پ۲۱، العنکبوت: ۴۵)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے محبوب پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی اور نماز قائم فرماؤ بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بُری بات سے اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا۔
پس اس وقت نمازِ چاشت ادا کرنا افضل ہے اور اس کا حقیقی وقت وہی ہے جو اس کے نام یعنی ضُحٰی سے سمجھ میں آتا ہے۔ چنانچہ سیِّدعالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع