30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھاگو۔ ([1]) حضرت سیِّدُنا ابو محمد سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ علم، عمل کو پکارتا ہے، اگر وہ اس کی پکار پر لبیک کہے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ آگے چل دیتا ہے۔ ([2])
حضرت سیِّدُنا ذو النون مصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے تھے کہ ایسے شخص کے ہم نشین بنو جس کے اوصاف تم سے باتیں کریں اور اس کے پاس مت بیٹھو جس کی زبان تم سے باتیں کرے۔ ([3]) اور حضرت سیِّدُنا امامِ حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی بھی فرمایا کرتے تھے کہ جس کے اعمال تم سے کلام کریں صرف اسی شخص کی صحبت اختیار کرو اور جس کے اقوال تم سے مخاطب ہوں اس کی صحبت مت اختیار کرو۔
الغرض طبقۂ اصفیا میں سے ایک گروہ اہلِ معرفت سے ادب سیکھنے اور ان کے اسلوبِ طریقت اور اخلاق کو سمجھنے کے لئے ان کی بارگاہ میں اکثر حاضر رہتا ، اگرچہ ان اہلِ معرفت کا شمار علمائے کرام میں نہیں ہوتا تھا کیونکہ ادب ہمیشہ افعال و اعمال سے سیکھا جاتا ہے اور علم، اقوال سے ۔ (صاحبِ کتاب امام اجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ) بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے اس مفہوم میں جو روایات مَیں نے سنی ہیں ان میں سے ایک روایت انتہائی اعلیٰ ہے۔ چنانچہ کسی حکیم و دانا شخص سے منقول ہے کہ ایک شخص کو ہزار نصیحتیں کرنے سے زیادہ موثر ہزار بندوں کو ایک فعل کے ذریعے نصیحت کرنا ہے۔
حضرت سیِّدُنا ابو محمد سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ علم سارے کا سارا دنیا ہے اور آخرت اس پر عمل کرنے کا نام ہے۔ ([4]) اور ایک بار ارشاد فرمایا کہ سوائے اخلاص کے ہر عمل ہوا میں اڑنے والے مٹی کے باریک ذرّات کی حیثیت رکھتا ہے۔ ([5]) ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے سوا تمام لوگ مُردوں کی مثل ہیں اور اپنے علم پر عمل کرنے والے علما کے سوا باقی تمام علما مدہوش ہیں اور یہ عمل کرنے والے بھی سب کے سب سوائے مخلصین کے دھوکے میں مبتلا ہیں اور اخلاص والے بھی اس وقت تک اس مقامِ خشیت پر فائزہیں جب تک کہ انہیں اسی حالت پر موت نہیں آ جاتی۔ ([6])
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک وہ شخص عالم نہیں ہو سکتا جو کسی کے علم کو جاننے والا ہو اور نہ ہی وہ شخص عالم ہو سکتا ہے جو کسی کے علمِ فقہ کی حفاظت کرنے والا ہو، بلکہ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے کہ وہ روایت کرنے والا، ان روایات کو یاد رکھنے والا اور ان کو آگے نقل کرنے والا ہے۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابو حازم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم فرماتے ہیں کہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام تو گزر گئے مگر علوم سیاہ برتنوں میں باقی رہ گئے ہیں ۔ حضرت سیِّدُنا امام زہری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے تھے کہ فلاں علم یاد رکھنے والا ہے اور فلاں نے مجھے حدیث بیان کی اور وہ علم یاد رکھنے والا ہے مگر یہ نہ کہتے کہ وہ عالم ہے۔ ([7])
مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’بہت سے مسائل جاننے والے انہیں سمجھنے والے نہیں ہوتے اور بہت سے مسائل جاننے والے لوگ ان لوگوں تک مسائل پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ ‘‘ ([8])
روایات بیان کرنے والاعالم نہیں :
بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن تو حضرت سیِّدُنا حماد عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْجَوَّاد کو بھی کہا کرتے تھے کہ وہ روایات بیان کرنے والے ہیں اور وہ عالم صرف اسی شخص کو خیال کرتے تھے جسے دوسروں کے علم کی ضرورت نہ ہو اور فقیہ بھی صرف اسے ہی خیال کرتے جو دوسروں کی باتیں نہ سنے بلکہ اپنے دل اور علم سے مسائل سمجھنے والا ہو۔ جیسا کہ مروی ہے کہ عرض کی گئی: ’’لوگوں میں سب سے زیادہ غنی کون ہے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’وہ عالم جو علم کی دولت سے مالا مال ہو کہ جب اس کی ضرورت ہو تو نفع دے ورنہ اپنے علم پر اکتفا کرتے ہوئے لوگوں سے بے نیاز رہے۔ ‘‘
اس لئے کہ غیر سے علم حاصل کرنے والا شخص درحقیقت اس غیر کے علم کو جاننے والا ہوتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ حقیقت میں عالم وہ غیر ہے نہ کہ یہ۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو دوسروں کے اوصاف اپنانے کی وجہ سے صاحبِ فضل شمار ہوتا ہے تو حقیقت میں صاحبِ فضل لوگ وہی ہیں جن کے اوصاف اسنے اپنا رکھے ہیں ۔ جب کوئی شخص ان (علما کے علم اور فضلا کے فضل ) سے جدا ہوتا ہے تو چپ ہو جاتا ہے اور کبھی بھی (علم و فضل کی بات نہیں کرتا بلکہ) اس علم کی جانب رجوع تک نہیں کر پاتا جو اس کی ذات کے ساتھ خاص تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ حقیقت میں وہ جاہل ہے جو صرف اہلِ علم و فضل کے طریقے بیان کرنے والا تھا اور اس کے علم کو عِلْمِ سَمْع و نَقْل کے نام سے جانا جاتا ہے۔
پس جو عالم دوسروں کے علم کا محتاج ہو اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو مقاماتِ صدیقین سے آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے احوال بھی بیان کرتا ہے مگر اس کا اپنا کوئی حال ہے نہ کوئی مقام، بلکہ اس کا وصف بس یہی ہے کہ وہ محض علوم و اقوال سے دلیل قائم کر سکتا ہے۔ چونکہ اعمال اور مقام کے باعث حجت قائم کرنے میں عارفین
[1] ۔ الوافی بالوفیات الصفدی ، حرف العین، عبداللہ بن محمد، ج۵، ص۴۶۴ العالم بدلہ الزاھد, کشف المشکل من حدیث الصحیحین، مسند ابی موسیٰ الاشعری، تحت الحدیث: ۳۵۹ / ۴۲۹، ص۲۶۲
[2] ۔ المدخل لابن الحاج، فصل، ج۲، ص۴۵۴
[3] ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم ۴۵۴ذوالنون المصری، الحدیث: ۱۴۱۸۹، ج۹، ص۳۸۱
[4] ۔ اقتضاء العلم العمل للخطیب البغدادی، الحدیث: ۲۰، ص۲۸
[5] ۔ المرجع السابق، الحدیث: ۲۲، ص۲۹
[6] ۔ شعب الایمان للبیھقی، باب فی اخلاص العمل للہ و ترک الریاء، الحدیث: ۶۸۶۸، ج۵، ص۳۴۵۔ عن ذوالنون المصری،$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع