دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

حضرت سیِّدُنا عبدالرحیم رَحِمَہُمُ اللہُ الْکرِیْم ہیں  ۔  ([1])

علم ظاہر و باطن کا تعلق: 

            منقول ہے کہ جو بندہ عالم کی خاموشی سے  نفع نہ پائے وہ اس کے کلام سے  بھی نفع نہیں   پاتا۔ مراد یہ ہے کہ عالم کی خاموشی اور اس کے ورع و تقویٰ سے  ادب سیکھنا چاہئے اور بہتر یہ ہے کہ اس کے یقین کی پیروی کی جائے جیسا کہ اس کے بولنے سے  ادب سیکھ کر اور اس کی باتوں   کی پیروی کی جاتی ہے۔ کیونکہ سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرمایا کرتے ہیں   کہ علمِ ظاہر کا تعلق دنیاوی علوم سے  اور علمِ باطن کا علومِ آخرت سے  ہے۔

باطن کی ظاہر پر فضیلت: 

            بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے علمِ ظاہر کو دنیاوی علم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ عام طور پر امورِ دنیا کی خاطر اس علم کے محتاج ہوتے ہیں  ،   جبکہ علمِ باطن کے آخرت سے  متعلق ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ علم درجات کی زیادتی کا سبب بنتا ہے۔ چونکہ،   زبان ظاہر ہوتی ہے لہٰذا اس کا تعلق عالم مُلک سے  ہے اور یہ زبان ہی علمِ ظاہر کا خزانہ ہے جبکہ دل عالم ملکوت کا خزانہ اور علمِ باطن کا دروازہ ہے۔ پس علمِ باطن کو علمِ ظاہر پر اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح عالم ملکوت جو ایک مخفی و چھپا ہوا عالم ہے،   کو عالم مُلک پر اور دل کو زبان پر فضیلت حاصل ہے۔

            ایک صوفی بزرگ کا قول ہے کہ جو شخص علمِ الٰہی چھوڑ کر دوسرے علوم حاصل کرتا ہے تو وہ اپنی غلطیوں   کی تلافی خود ہی کرتا ہے مگر جو شخص علمِ الٰہی حاصل کرتا ہے اسکے گناہوں   کی تلافی کر دی جاتی ہے۔ اس کے بعد انہوں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کی تلاوت فرمائی:

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ (پ ۲۹،  القلم: ۴۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا ۔

            یعنی اگر علمِ معرفت کے سبب اس کی تلافی نہ کر دی گئی ہوتی تو یقیناً نفسانی خواہش کے بُعد میں   مبتلا ہو جاتا۔ یہاں   آیتِ مبارکہ میں   اَلْعَرَآء سے  مراد بُعد و دُوری ہے کیونکہ عقلی علوم علمِ یقین کے مقابل ہوں   تو بُعد و دوری کا باعث بنتے ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان   (وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْــٴًـا قَلِیْلًاۗۙ (۷۴)  (پ۱۵،  بنی اسرآئیل:  ۷۴ ) )   ([2]) کی تفسیر میں   ہے کہ ہم نے آپ کو علمِ معرفت عطا فرما کر ثابت قدمی کی دولت سے  نوازا،   قریب تھا کہ آپ علومِ عقلیہ کی جانب مائل ہو جاتے۔

            حضرت سیِّدُنا سہل بن عبد اللہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان  (وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا (۸۰)  (پ۱۵،  بنی اسرآئیل:  ۸۰) )  ([3]) کی تفسیر میں   فرماتے ہیں   کہ یہاں   یہ مراد ہے کہ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے ایسی زبان عطا فرما جو صرف تجھ سے  کلام کرے اور تیرے سوا کسی سے  کلام نہ کرے۔  ([4])

مشاہدہ کی خبر پر فضیلت: 

            علمِ الٰہی اور علمِ ایمان ویقین کی علومِ احکام و قضایا پر وہی فضیلت ہے جو مشاہدہ کو خبر پر حاصل ہے۔ چنانچہ،   

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: خبر مشاہدے کی طرح نہیں   ہوتی۔ ‘‘  ([5])   ایک روایت میں   الفاظ یوں   ہیں  :  ’’خبر دیکھی ہوئی شے کی طرح نہیں   ہوتی۔  ‘‘  ([6])

            حضرت سیِّدُنا عیاض بن غنم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۃُ التَّکَاثُر کی آیتِ مبارکہ عِلْمَ الْیَقین کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ ایسے  ہی ہے جیسے  کوئی شے آنکھوں   سے  دیکھ لینا۔  ([7])

            مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میری اُمت کے بہترین لوگ وہ ہیں   جو علانیہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کے وسیع ہونے پر خوش ہوتے ہیں   مگر باطن میں   اس کے عذاب کے خوف سے  روتے رہتے ہیں  ،   ان کے قدم تو زمین پر ہوتے ہیں   مگر دل آسمان میں   ہوتے ہیں  ،   ان کی ارواح تو دنیا میں   ہوتی ہیں   مگر ان کی عقلیں   آخرت کی فکر میں   مصروف رہتی ہیں  ،   وہ بڑے سکون سے  چلتے ہیں   اور وسیلے کے ذریعے قرب حاصل کرتے ہیں  ۔ ‘‘   ([8])

            پس فتویٰ دینے سے  مراد کسی بات سے  آگاہ کرنا ہے جبکہ فتویٰ طلب کرنے سے  مراد کسی بات سے  آگاہی حاصل کرنا ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

فَاسْتَفْتِهِمْ (پ۲۳،   الصّٰٓفّٰت: ۱۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو ان سے  پوچھو۔

 



[1]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم   الخ، ج۱، ص۷۱۱

[2]    ۔ ترجمۂ کنز الایمان: اوراگر ہم تمہیں ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ تم ان کی طرف کچھ تھوڑا سا جھکتے ۔

[3]    ۔ ترجمۂ کنز الایمان: اور مجھے اپنی طرف سے مددگار غلبہ دے۔

[4]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم ۵۴۴، سھل بن عبد اللہ التستری، الحدیث: ۱۴۹۳۳، ج۱۰، ص۲۰۴

[5]    ۔ المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن العباس، الحدیث: ۱۸۴۲، ج۱، ص۴۶۱

[6]    ۔ المعجم الاوسط، الحدیث: ۶۹۸۶، ج۵، ص۱۷۹

[7]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن