دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ (۴۳)  (پ۱۴،  النحل: ۴۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اے لوگو علم والوں   سے  پوچھو اگر تمہیں   علم نہیں   ۔

            اسی طرح اہلِ بیت سے  مروی ایک حدیثِ پاک میں   دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’علم خزانے ہیں   اور اس کی کنجی سوال کرنا ہے،   پس پوچھا کرو کیونکہ پوچھنے پر چار بندوں   کو اجر سے  نوازا جاتا ہے: (۱) … پوچھنے والے کو        (۲) … جواب دینے والے  (یعنی عالم)  کو  (۳) … سننے والے کو  (۴) … ان سے  محبت رکھنے والے کو۔ ‘‘  ([1])

ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں  : 

            حضرت سیِّدُنا ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ جو بندہ لوگوں   کے پوچھے گئے ہر سوال کا جواب دیتا ہے وہ دیوانہ ہے۔ ([2])

            حضرت سیِّدُنا اعمش رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ بعض باتوں   کا جواب خاموشی ہوتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا ذو النون مصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے کہ صادقین کا بہترین سوال عارفین کے قلوب کی کنجیاں   ہیں  ۔

قصہ گو کسے  کہتے ہیں   ؟

            قصہ گو اسے  کہتے ہیں   جو باتیں   کرنا شروع کرے تو قصے کہانیاں   اور ہر ایک سے  سنی سنائی باتیں   بیان کرتا ہی چلا جائے اور اسے  قصہ گو کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ گزرے ہوئے واقعات بیان کرتا ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں   اس لفظ کا تذکرہ کچھ یوں   بیان ہوا ہے:

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ٘- (پ۲۰،  القصص: ۱۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور  (اس کی ماں  نے)  اس کی بہن سے  کہا اس کے پیچھے چلی جا۔

            حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ ماجدہنے حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کی بہن سے  ارشا دفرمایا کہ اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جاؤ،   اس طرح تم جان لو گی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا اور پھر مجھے آ کر سارا قصہ سنانا۔

سوال سے  قبل جواب دینا: 

            حضرت سیِّدُنا مالک بن انس رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ کسی شے کے متعلق کچھ پوچھنے سے  پہلے ہی اس کے متعلق کلام کرنا علم کو ذلیل کرنے کی علامت ہے۔ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا کہ ہر سوال کا جواب دینا علم کو ذلیل کرنا ہے یعنی اس میں   علم کی اہانت ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ کام انتہائی دھتکارنے و ذلیل کرنے والا ہے۔  ([3])

            منقول ہے کہ جب کوئی سوال کرنے سے  قبل ہی علمی بات کرنے لگے تو اس کا دو تہائی نور ختم ہو جاتا ہے۔

            حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَکْرَم اور دیگر بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں   کہ عالم کا خاموش رہنا شیطان پر اس کے باتیں   کرنے سے  زیادہ بھاری ہے کیونکہ وہ حلم کی بنا پر خاموش ہوتا ہے اور علم کی بات کرتا ہے،   پس شیطان کہتا ہے:  ’’اس بندے کو دیکھو! اس کی خاموشی مجھ پر اس کے کلام سے  زیادہ سخت ہے۔ ‘‘  ([4])

            ایک قول ہے کہ خاموشی عالم کی زینت اور جاہل کی پردہ پوش ہے۔  ([5])

            حضرت سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الصَّمَد فرماتے ہیں   کہ بندے کی عزتِ نفس اس میں   ہے کہ جب تک اس سے  کچھ پوچھا نہ جائے اپنے علم کی بنا پر خاموش رہے اور میری عمر کی قسم! اگر اسنے سوال کے بعد گفتگو کی تو وہ اپنے نفس کا مالک بن جائے گا۔

عالم پر سوال کا جواب دینا لازم ہے: 

            بعض اوقات کلام کرنا فرض ہوتا ہے اور فرض بجا لانے میں   نفسانی خواہشات پر عمل بھی کرنا پڑتا ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ (پ۱۴،  النحل: ۴۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اے لوگو علم والوں   سے  پوچھو۔

            پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے عام بندوں   کو سوال کرنے کا حکم دیا تو علمائے کرام پر جواب دینا لازم کر دیا۔ چنانچہ،  مروی ہے کہ حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جس سے  کوئی علمی بات پوچھی گئی اور اسنے چھپائی تو اسے  آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔ ‘‘  ([6]) یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے علم چھپانے پر سزا کی وعید سنائی۔

            بعض اوقات ایک شے کا آغاز مخفی  (دل میں   پوشیدہ)  خواہشات سے  ہوتا ہے اور چونکہ ہر خواہش کا تعلق دنیا سے  ہوتا ہے،   لہٰذا حضرت سیِّدُنا مالک بن انس رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے



[1]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۲۳۵ محمد بن الباقر، الحدیث: ۳۷۸۱، ج۳، ص۲۲۴

                                                الفقیہ و المتفقہ، باب فی السوال والجواب   الخ، الحدیث: ۶۸۵، ج۲، ص۲۶۳

[2]    ۔ جامع بیان العلم و فضلہ، باب ما یلزم العالم اذا سئل    الخ، الحدیث: ۹۰۱، ص۳۱۷

[3]    ۔ ترتیب المدارک، تقریب المسالک، باب فی حکمہ وصایاہ و آدابہ، ج۱، ص۵۷

[4]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۳۹۴ابراھیم بن ادھم، الحدیث: $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن