دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

کا تصوف میں   مشرب بیان کرنے سے  پہلے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے زمانے میں   موجود مختلف اسالیبِ طریقت کی بھی مختصراً وضاحت کر دی گئی ہے۔

پانچواں   مرحلہ:

پانچویں   مرحلے میں   قوت القلوب کے نام کی انفرادیت سے  لے کر اسلوبِ بیان اور مضامین ومفاہیم وغیرہ کا ایک سرسری جائزہ لیا گیا ہے۔

چھٹا مرحلہ:

چھٹے اور آخری مرحلے میں   مختصراً اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ مجلس المدینۃ العلمیہ میں   قوت القلوب پر کام کا طریقہ کار کیا رہااور دورانِ کام کن باتوں   کو پیشِ نظر رکھا گیا۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ ’’دعوتِ اسلامی ‘‘  کی تمام مجالس بَشُمُول ’’المدینۃ العلمیہ ‘‘  کو دن گیارہویں   اور رات بارہویں   ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اخلاص سے  آراستہ فرما کر دونوں   جہاں   کی بھلائی کا سبب بنائے۔ ہمیں   زیر گنبد خضرا شہادت،   جنّت البقیع میں   مدفن اور جنّت الفردوس میں   جگہ نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

شعبہ تراجم کتب

 (مجلس المدینۃ العلمیہ)

پہلامرحلہ

علم وعمل کی اہمیت اور باہمی تعلق

علم: 

علم کی اہمیت و فضیلت سے  انکار ممکن نہیں  ،   قرآن و حدیث میں   اس کے متعلق بے شمار فرامین مبارکہ موجود ہیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   علم کی اہمیت جاننے کے لیے یہی دو باتیں   کافی ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی پیدائش کے بعد سب سے  پہلے انہیں   علم کی دولت سے  ہی نوازا گیا اور ہمارے میٹھے میٹھے آقا،   مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بھی سب سے  پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ بھی علم کے متعلق ہی تھی۔ چنانچہ،   

منقول ہے کہ علم ایک نور ہے جسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کے دل میں   ڈال دیتا ہے۔ ([1])  اور سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عظمت نشان ہے: ’’علم حاصل کرو کیونکہ٭ اس کا حاصل کرنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خشیت ٭ اسے  طلب کرنا عبادت ٭ اس کا درس دینا تسبیح ٭ اس میں   بحث کرنا جہاد ٭بے علم کو علم سکھانا صدقہ اور ٭ اس کی اہلیت رکھنے والوں   تک اسے  پہنچانا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب حاصل کرنا ہے ٭  یہ تنہائی میں   غمخوار ٭  خلوت کا ساتھی ٭  خوشی و غمی پر دلیل ٭  دوستوں   کے ہاں   زینت ٭  اجنبی لوگوں   کے ہاں   قرابتدار اور ٭راہِ جنت کا مینار ہے ٭  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے سبب قوموں   کو بلندیوں   سے  نوازتا ہے اور ٭ انہیں   نیکی و بھلائی کے کاموں   میں   ایسا رہنما اور ہادی بنا دیتا ہے کہ ٭ ان کی پیروی کی جاتی ہے ٭ ہر خیر و بھلائی کے کام میں   ان سے  رہنمائی لی جاتی ہے ٭  ان کے نقشِ قدم پر چلا جاتا ہے ٭  ان کے اعمال و افعال کی اقتدا کی جاتی ہے ٭  ان کی رائے حرفِ آخر ہوتی ہے ٭  فرشتے ان کی دوستی کو مرغوب جانتے ہیں   اور ٭  انہیں   اپنے پروں   سے  چھوتے ہیں   ٭ ہر خشک و تر شے یہاں   تک کہ سمندر کی مچھلیاں   ٭  کیڑے مکوڑے ٭  خشکی کے درندے اور جانور ٭  آسمان اورستارے سب ان کی مغفرت چاہتے ہیں  ۔ کیونکہ ٭  علم اندھے دلوں   کی زندگی ٭  تاریک آنکھوں   کا نور اور ٭  کمزور بدنوں   کی قوت ہے ٭  بندہ علم کے سبب نیک لوگوں   کے مراتب اور بلند درجات تک جا پہنچتا ہے ٭  علم میں   غوروفکر کرنا روزے رکھنے کے برابر اور ٭  اسے  پڑھانا رات کے قیام کے مساوی ہے ٭علم کے ذریعے ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت و فرمانبرداری ہوتی ہے ٭ اسی سے  توحید اور ورع و تقویٰ ملتا ہے ٭ اسی کے سبب صلہ رحمی کی جاتی ہے ٭ علم امام ہے اور عمل اس کا تابع ٭علم نیک بخت لوگوں   کے دلوں   میں   ڈالا جاتا ہے جبکہ بدبختوں   کو اس سے  محروم رکھا جاتا ہے۔ ‘‘  ([2])  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرمایا کرتے کہ علم کثرتِ روایت کا نام نہیں   بلکہ علم تو خشیت ِ الٰہی  (یعنی خوفِ خدا)  کو کہتے ہیں  ۔ ([3])  جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:  اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ-  (پ ۲۲،   فاطر:  ۲۸)  تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہ سے  اس کے بندوں   میں   وہی ڈرتے ہیں   جو علم والے ہیں  ۔

علم و عمل: 

علم بغیر عمل کے فائدہ مند نہیں  ۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحِیْمنے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے میرے لخت ِ جگر! جس طرح کھیت پانی اور مٹی کے بغیر درست نہیں   ہو سکتا،   اسی طرح ایمان،   علم و عمل کے بغیر درست نہیں   رہ سکتا۔ ‘‘  ([4])  اور ایک مرتبہ حضورنبی ٔرحمت،   شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام رِضْوَانُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے  ارشاد فرمایا: ’’شیطان بعض اوقات تم سے  علم میں   سبقت لے جاتا ہے۔ ‘‘  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:  ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !



[1]    الدر المنثور، پ۲۲، الفاطر، تحت الایۃ۲۸، ج۷، ص۲۰

[2]    جامع بیان العلم و فضلہ، باب جامع فی فضل العلم، الحدیث:$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن