30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بڑھ کر کون سی شے بہتر ہو سکتی ہے کہ لوگ جمع ہوں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کریں اور خود پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں شمار کریں جیسا کہ انصارنے کہا۔ ‘‘ ([1])
(5) … امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ مجھے اس بات سے مسرت حاصل نہ ہوتی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بچپن میں موت کی نیند سلا کر جنت میں اعلیٰ درجات عطا فرما دیتا۔ ‘‘ عرض کی گئی وہ کیوں ؟ تو ارشاد فرمایا: ’’اس لئے کہ اسنے مجھے زندگی کی نعمت عطا فرمائی یہاں تک کہ مجھے اس کی معرفت کی دولت مل گئی۔ ‘‘
(6) … حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ لوگ دنیا سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ اس میں ایک عمدہ شے نہ چکھی۔ عرض کی گئی کہ اس سے آپ کی مراد کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’معرفت ِ الٰہی۔ ‘‘ پھر آپ نے یہ اشعار پڑھے:
اِنَّ عِرْفَانَ ذِی الْجَلَالِ لَعِزٌّ وَّ ضِیآءٌ وَّ بَہْجَۃٌ وَّ سُرُوْرٌ
وَّ عَلَی الْعَارِفِیْنَ اَیْضًا بَہَآءٌ وَّ عَلَیْہِمْ مِّنَ الْمَحَبَّۃِ نُوْرٌ
فَہَنِیْٓـاً لِّمَنْ عَرَفَكَ اِلٰہِیْ ھُوَ وَاللّٰہِ دَھْرُہٗ مَسْرُوْرٌ
تر جمعہ : (۱) … بے شک ربّ ذوالجلال کا عرفان باعثِ عزت و رونق اور فرحت و مسرت ہے۔
(۲) … اور عارفین پر رونق کا باعث ہے اور ان پر محبت کا نور ہے۔
(۳) … پس اے میرے پروردگار! اسے مبارک ہو جس نے تیری معرفت حاصل کی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! کہ وہ ساری عمر حالت ِ سرور میں ہے۔
(7) … حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذ رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں ایک جنت ہے، جو اس میں ایک بار داخل ہو جائے پھر کبھی کسی شے کا مشتاق نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی کسی شے سے وحشت محسوس کرتا ہے۔ عرض کی گئی کہ وہ جنت کون سی ہے؟ تو فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت۔ ‘‘
(8) … کسی اور بزرگ سے منقول ہے کہ عارف پر تین میں سے ایک حالت ہر وقت طاری رہتی ہے، یعنی اس پر ہیبت طاری ہو گی یا حلاوت یا اُنس و محبت کی کیفیت۔
(9) … حضرت سیِّدُنا ابو محمد سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ علمائے کرام، زاہدین اور عابدین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْننے اس جہانِ فانی سے اس حال میں کوچ کیا کہ ان کے قلوب مقفل رہے، البتہ! صدیقین اور شہدا کے قلوب مقفل نہ رہے۔ ([2]) پھر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے یہ آیتِ مبارکہ (وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَؕ- (پ۷، الانعام: ۵۹) ) ([3]) تلاوت کی۔ یعنی معرفت کی کنجیوں اور توحید کے مشاہدہ سے ان پر تالے لگے ہوئے ہیں ۔
پس ذکر کی یہ محفلیں اِبتدائے زمانہ ہی سے اہلِ معرفت، علمائے قلوب اور علمائے باطن کی پسندیدہ رہی ہیں اور یہی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام علمائے آخرت اور دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والے بھی ہیں ۔ چنانچہ اصدق القائلین یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے متعلق ارشاد فرمایا:
فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىٕفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ (پ۱۱، التوبۃ: ۱۲۲)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو کیوں نہ ہو ا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں ۔
پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہاں فقہ کا تذکرہ فرمایا جو کہ قلوب کی صفت ہے اور فقہ کا سبب خوفِ الٰہی ہے۔
عوام وخواص کے حصولِ علم کی کیفیت:
علمِ عقل، علمِ ظاہر میں اور علمِ معرفت، علمِ یقین میں داخل ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یقین ایمانِ کامل کا نام ہے۔ ‘‘ ([4])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ (۴۳) (پ۲۰، العنکبوت: ۴۳)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّنے عقل کو علم کا ایک وصف قرار دیا اور سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی علم یقین سیکھنے کا حکم دیا جیسا کہ عام علم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ دو جہاں کے تاجْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان ’’یقین سیکھو ‘‘ میں علم حاصل کرنے کا حکم خواص کو ہے کیونکہ مقامِ یقین علم سے بلند تر ہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان ’’علم حاصل کرنا فرض ہے ‘‘ میں علم حاصل کرنے کا حکم عام لوگوں کو ہے۔
نیز سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان ’’یقین سیکھو ‘‘ میں اہلِ یقین کی صحبت اختیار کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے کیونکہ یقین بذاتِ خود ظاہر نہیں ہوتا بلکہ یہ اہلِ یقین کے ہاں ملتا ہے۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کا حکم دیا اور یہ ارشاد نہ فرمایا کہ عقلی علوم سیکھو اور علمِ فتاویٰ حاصل کرو کیونکہ علمائے ظاہر کو ابتدا ہی سے مفتی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اپنے دل سے فتویٰ طلب کیا کرو، اگرچہ فتویٰ دینے والے تجھے فتویٰ بھی دیں ۔ ‘‘ ([5])
[1] ۔ طبقات الحنابلۃ، باب الیاء، یعقوب بن یوسف،ج۱، ص۳۷۳ باختصار
[2] ۔ فیض القدیر للمناوی، تحت الحدیث: ۹۹۱، ج۱، ص۶۳۳
[3] ۔ ترجمۂ کنز الایمان: اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی انہیں وہی جانتا ہے۔
[4] ۔ صحیح البخاری، کتاب الایمان باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی الاسلام علی خمس، ص۲ شعب الایمان للبیھقی، باب فی الصبر علی$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع