دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

قصہ گوئی کی اباحت: 

            حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَوّل سے  ہی مروی ہے کہ لوگ سچے قصہ گو افراد کے کس قدر محتاج ہیں  ،   کیونکہ وہ حسابِ آخرت اور عذابِ قبر یاد دلاتے ہیں  ۔ راوی فرماتے ہیں   کہ میں  نے عرض کی:  ’’کیا آپ بھی ان کی محفلوں   میں   شریک ہوتے ہیں  ؟ ‘‘  تو ارشاد فرمایا:  ’’نہیں  ۔ ‘‘   ([1])

            حضرت سیِّدُنا زیاد نمیری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ میں   حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوا،   آپ ایک کونے میں   تشریف فرما تھے،   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھ سے  ارشاد فرمایا:  ’’کوئی قصہ سناؤ۔ ‘‘  میں  نے عرض کی: ’’کس طرح ہو سکتا ہے؟ حالانکہ لوگ تو گمان کرتے ہیں   کہ قصہ گوئی ایک بدعت ہے۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنا بدعت نہیں   ہے۔ ‘‘  فرماتے ہیں   کہ میں  نے قصہ سنانا شروع کیا اور ایسے  قصے اور دعائیں   سنانے لگا جن پر مجھے امید تھی کہ وہ آمین کہیں   گے۔ فرماتے ہیں   کہ میں   قصے سناتا جاتا اور وہ آمین کہتے جاتے۔ چنانچہ بسا اوقات سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْننے دعا مانگنے کو بھی قصہ گوئی میں   شمار کیا ہے۔  ([2])

قیامت کے دن سب سے  زیادہ خوش ہونے والابندہ: 

            حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے حضرت سیِّدُنا عامر بن عبد اللہ  عنبری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کو چند دن اپنی محفل میں   نہ پایا تو فرمایا: ’’چلو! ابوعبد اللہ  کے پاس چلیں  ۔ ‘‘  چنانچہ،   حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ گھر میں   تشریف فرما ہیں   اور ان کا سر کپڑے میں   لپٹا ہوا ہے جبکہ وہاں   سوائے ریت کے کچھ بھی نہ تھا۔ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی ان سے  مخاطب ہوئے اور فرمایا: ’’اےابوعبد اللہ ! ہم نے کئی دنوں   سے  تجھے نہیں   دیکھا۔ ‘‘  وہ عرض گزار ہوئے: میں   ان مجالس میں   بیٹھا کرتا تھا اور وہاں   خلط ملط باتیں   سنا کرتا حالانکہ میں  نے اپنے مشائخ سے  تاجدارِ رِسالت،   شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مروی یہ فرمان بھی سن رکھا تھا:  ’’قیامت کے دن لوگوں   میں   زیادہ صاف ایمان والا شخص وہ ہو گا جس کا اکثر وقت دنیا میں   فکر کرتے ہوئے گزرا ہو گا اور جنت میں   سب سے  ہنسنے والا بندہ وہ ہو گا جو دنیا میں   سب سے  زیادہ رویا ہو گا،   آخرت میں   سب سے  زیادہ خوش وہ ہو گا جو دنیا میں   سب سے  زیادہ حزن و ملال والا ہو گا۔ ‘‘  لہٰذا میں  نے اپنے گھر کو پایا کہ وہ میرے دل کے لئے سب سے  زیادہ خلوت مہیا کرنے والا ہے اور میں   یہاں   اپنے نفس پر اپنی مرضی سے  قدرت پاتا ہوں  ۔ تو حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے ارشاد فرمایا: اس حدیثِ پاک سے  مراد ہماری محافل نہیں   بلکہ اس سے  مراد راستوں   میں   بیٹھے ہوئے ان قصہ گو افراد کی محفلیں   ہیں   جو حقائق کو آپس میں   خلط ملط کر کے اور تقدیم و تاخیر سے  لوگوں   کو سناتے رہتے ہیں  ۔  ([3])

متکلمین کی اقسام: 

            بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے مُتَکَلِّمِین کی تین قسمیں   بیان کی ہیں   اور ان کے اوصاف ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں   کہ متکلمین تین طرح کے ہوتے ہیں  :

                         (۱) … کرسیوں   پر براجمان: ان سے  مراد قصہ گو ہیں  ۔

                         (۲) … ستونوں   سے  ٹیک لگانے والے: ایسے  لوگ دوسروں   کو فتوے دیتے ہیں  ۔

                         (۳) … کونوں   کھدروں   میں   چھپنے والے: یہ لوگ اہلِ معرفت کہلاتے ہیں  ۔

معرفت و محافلِ ذکر کے متعلق  (9) آثار و روایات :

            عالم ربانی و عالم توحید اور عارفین کی محفلیں   خالص ذِکْرُ اللہ کی محفلیں   ہوتی ہیں  ۔ ان کی فضیلت کے متعلق بہت سی روایات مروی ہیں  ۔

 (1) … جب تم جنت کے باغوں   کے پاس سے  گزرو تو ان سے  کچھ چن لیا کرو۔ ‘‘  عرض کی گئی: ’’جنت کے ان باغوں   سے  کیا مراد ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ذکر کی محفلیں    (جنت کے باغ ہیں)۔ ‘‘   ([4])

 (2) … اللہعَزَّ وَجَلَّ کے بعض وہ فرشتے جو بندوں   کے نامۂ اعمال لکھنے کے علاوہ ہیں  ،   فضا میں   گھومتے رہتے ہیں  ۔ جب ذکر کی محافل دیکھتے ہیں   تو ایک دوسرے کو پکار کر کہتے ہیں  : ادھر آؤ! اپنے مقصود کی جانب۔ پس وہ سب آتے ہیں   یہاں   تک کہ ذکر کرنے والوں   کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں   اور انہیں   اپنے گھیرے میں   لے لیتے ہیں   اور ان کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں  : ’’خبردار! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کیا کرو اور اس کے ایام کو یاد رکھو۔ ‘‘  ([5])

 (3) … حضرت سیِّدُنا وہب بن منبہ یمانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں   کہ جس محفل میں   علمی بحث ومباحثہ ہو رہا ہو میرے نزدیک اس کی قدر و منزلت نَفْل نماز سے  بھی زیادہ ہے،   ہو سکتا ہے کہ اس محفل میں   شریک لوگوں   میں   سے  کوئی شخص ایک بات سن لے اور وہ اس کے باعث سال بھر یا عمر بھر نفع حاصل کرے۔ ([6])

 (4) … حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَوّل سے  ذکر کی محافل اور ان کی فضیلت کے متعلق پوچھا گیا تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اس سے  



[1]    ۔ القصاص المذکرین، الباب الثانی عشر فی ذکر تعلیم القاص کیف یقص، الحدیث: ۲۱۲، ص۳۵۷

[2]    ۔ الاداب الشرعیۃ للشیخ شمس الدین (ابی عبداللہ محمد بن مفلح الحنبلی )الفصل فی وعظ القصاص، ج۲، ص۱۶۰باختصار

[3]    ۔ الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد عامر بن قیس، الحدیث: ۱۲۵۳، ص۲۴۰ بتغیر حلیۃ الاولیاء، الرقم۱۶۳عامر بن عبد قیس، الحدیث:۱۶۰۰، ج۲،ص۱۰۹ بتغیر

[4]    ۔ جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب حدیث فی اسماء اللہ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن