مجالس ذکر کی فضیلت
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

رَحمَۃُاللہِ الْمُبِیْن سے  عرض کی گئی: ’’کاش! آپ بھی اپنے دوستوں   کو قصے سناتے۔ ‘‘  تو آپ نے فرمایا: ’’منقول ہے کہ صرف تین افراد میں   سے  ہی کوئی ایک لوگوں   کے سامنے کلام کر سکتا ہے:  (۱) … امیر  (۲) … مامور  (۳) … یا احمق۔ لہٰذا  (میرے کلام نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ)  میں   امیر ہوں   نہ مامور اور میں   یہ بھی پسند نہیں   کرتا کہ تیسرا فرد  (یعنی احمق)  بنوں۔‘‘  ([1])

فارغ بیٹھنا قصہ گوئی سے  بہتر ہے: 

            حضرت سیِّدُنا معاویہ بن قرۃ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  منقول ہے کہ میں  نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی سے  عرض کی: کیا میں   ایک مریض کی عیادت کروں   یہ آپ کو پسند ہے یا کسی قصہ گو کی محفل میں   بیٹھنا آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’مریض کی عیادت کرو۔ ‘‘  میں  نے پھر عرض کی:  ’’میں   کسی جنازے میں   شریک ہوں   یہ بات آپ کو زیادہ پسند ہے یا قصہ گو کی مجلس میں   شریک ہونا؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جنازے میں   شریک ہونا زیادہ بہتر ہے۔ میں  نے پھر عرض کی: اگر کوئی بندہ مجھ سے  کسی ضرورت کے وقت مدد مانگے تو کیا میں   اس کی معاونت کروں   یا کسی قصہ گو کی محفل میں   بیٹھا رہوں  ؟ فرمانے لگے کہ اس بندے کی حاجت پوری کرنے میں   لگے رہو یہاں   تک کہ انہوں  نے فارغ بیٹھنے کو بھی قصہ گو کی مجلس میں   بیٹھنے سے  بہتر قرار دیا۔  ([2])             (صاحبِ کتاب امام اجلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ)   اگر سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے نزدیک مجالسِ ذکر سے  مراد قصہ گو افراد کی مجالس ہوتیں   اور اسی طرح اگر قصے سننا و بیان کرنا ہی ذکر شمار ہوتا تو حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کبھی بھی اس شخص کو اس کام سے  منع نہ فرماتے اور نہ ہی اس کام پر دیگر کئی اعمال کو ترجیح دیتے۔ اس لئے کہ وہ خود دعوتِ توحید کے علم بردار تھے اور علمِ معرفت و یقین کی باتیں   کرتے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنے والوں   کے تذکرے کرتے تھے۔

مجالس ذکر کی فضیلت: 

            ذکر کی مجلس میں   جانا ایمان کی زیادتی کا سبب ہے اور تحقیق اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ذاکرین کے مقام کو عام مومنین کے مقام سے  فوقیت دی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا (۳۵)  (پ ۲۲،  الاحزاب: ۳۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں   اور ایمان والے اور ایمان والیاں   اور فرمانبردار اور فرمانبرداریں   اور سچّے اور سچّیاں   اور صبر والے اور صبر والیاں   اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں   اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں   اور روزے والے اور روزے والیاں   اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں   اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں   ان سب کے لئے اللہنے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

            پس آیتِ مبارکہ کے آخر میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ذاکرین و ذاکرات کے بلند درجات کا ذکر فرمایا ہے۔

مجلس ذکر میں   حاضر ہونے کی فضیلت: 

            حضرت سیدنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ نورکے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’مجلسِ ذکر میں   حاضر ہونا ایک ہزار رکعت پڑھنے اور علم کی مجلس میں   حاضر ہونا ایک ہزار مریضوں   کی عیادت اور ایک ہزار جنازوں   میں   شریک ہونے سے  بہتر ہے۔ ‘‘  عرض کی گئی:  ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا قرآنِ کریم کی تلاوت سے  بھی افضل ہے؟  ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’کیا قرآنِ کریم کی تلاوت علم کے بغیر نفع مند ہو سکتی ہے؟ ‘‘    ([3])

مجلسِ ذکر باطل کی دس مجلسوں   کا کفارہ ہے: 

            سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے  منقول ہے کہ ذکر کی مجلس میں   حاضر ہونا باطل کی دس مجلسوں   کا کفارہ ہے۔  ([4])   

            حضرت سیِّدُنا عطا عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْفَتَّاح فرمایا کرتے کہ مجلسِ ذکر لہو و لعب کی 70 مجالس کا کفارہ ہے۔  ([5])    حضرت سیِّدُنا معاذاَعلم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں   کہ مجھے حضرت سیِّدُنا یونس بن عبید رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے معتزلہ کے حلقہ میں   بیٹھے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا: ’’ادھر آؤ۔ ‘‘  میں   ان کی خدمت میں   حاضر ہوا تو فرمانے لگے کہ اگر تمہارا ایسی محافل میں   شریک ہونا ضروری ہے تو پھر قصہ گو افراد کے حلقہ میں   بیٹھ جایا کرو۔   ([6])

حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے فضائل: 

            حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کا شمار اہلِ ذکر میں   ہوتا ہے اور عام طور پر ان کی مجالس ذکر پر مشتمل ہوتیں   جن کا اہتمام وہ اپنے گھر میں   عابدین اور اپنے صوفی بھائیوں   اور پیروکاروں   کے ہمراہ کرتے،   ان میں   حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار،   حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی،   حضرت سیِّدُنا ایوب سجستانی،   حضرت سیِّدُنا محمد بن واسع،   حضرت سیِّدُنا  فرقد سنجی



[1]    ۔ المدخل لابن الحاج، فصل فی الاشتغال بالعلم یوم الجمعۃ، ج۱، ص۳۳۳

[2]    ۔ التفسیر من سنن سعید بن منصور، تفسیر سورۃ الاعراف، تحت الایۃ۲۰۴، الحدیث:۹۲۶، ج۳، ص۲۴۲

[3]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب الاول فی فضل العلم    الخ، ج۱، ص۱۵۰

[4]    ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۲۴۴ عطاء بن ابی رباح، الحدیث: ۴۲۷۲، ج۳، ص۳۵۹

[5]    ۔ المرجع السابق۔ اللھو بدلہ الباطل

[6]    ۔ مسند ابن الجعد، شعبۃ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن