30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2) … ہر اس منافق سے بچو جو (گھما پھرا کر) باتیں کرنے والا ہے، وہ ایسی باتیں کرتا ہے جو تمہیں پسند ہیں لیکن عمل ایسا کرتا ہے جو تمہیں پسند نہیں ۔ ([1])
(3) … علم سیکھو اور علم کے لئے سکون و وقار اور بردباری بھی سیکھو، جن سے علم حاصل کرتے ہو ان کے سامنے عجز و انکساری کا اظہار کرو اور جو تم سے علم حاصل کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ تمہاری خاطر عجز و انکسار کا پیکر بنے رہیں اور جابر علما نہ بننا کہ کہیں تمہارا علم تمہاری جہالت کے ساتھ ہی نہ اٹھ جائے۔ ([2])
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ، حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس اور حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مروی ہے کہ زمانے کے آخر میں ایسے علما ہوں گے:
٭… جو لوگوں کو تو دنیا سے بے رغبتی کی تلقین کریں گے لیکن خود اس سے بے رغبت نہ ہوں گے۔
٭… دوسروں کو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرائیں گے لیکن خود نہ ڈریں گے۔
٭… دوسروں کو تو حاکموں کے ساتھ میل جول سے منع کریں گے لیکن خود ان کے پاس جائیں گے۔
٭… دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں گے۔
٭… اپنی زبانوں کے ذریعے دنیا کمائیں گے۔
٭… امیروں سے قریب اور فقیروں اور غریبوں سے دور رہیں گے۔
٭… علم پر ایک دوسرے سے لڑیں گے جیسے عورتیں ایک دوسرے سے مردوں پر لڑتی ہیں ۔
٭… اگر ان کا کوئی ساتھی کسی دوسرے عالم کے پاس جا کر بیٹھے گا تو وہ اس پر غصہ کریں گے۔ ان لوگوں کا علم میں یہی حصہ ہے۔ ([3])
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ ’’ (خارجی) علما بدترین مخلوق ہیں ، ان سے ہی فتنے کا آغاز ہوا اور انہی میں لوٹ جائے گا۔ ‘‘ ([4]) حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ’’یہ جابر لوگ ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے دشمن ہیں ۔ ‘‘ ([5])
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ ’’اسلام میں دو بندوں نے میری کمر توڑ کر رکھ دی، ایک فاجر عالمنے اور دوسرے عبادت گزار بدعتینے۔ فاجر عالم کے فسق و فجور کو دیکھنے کے باوجود لوگ اسے زاہد سمجھتے ہیں جبکہ ایک عبادت گزار بدعتی کو عبادت میں مگن دیکھ کر اس کی بدعت کو بھی پسند کرنے لگتے ہیں ۔ ‘‘
حضرت سیِّدُنا صالح بن حسان بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے مشائخ کی زیارت کی لیکن وہ سب فاجر عالم سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگا کرتے تھے۔ ([6])
حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’عالم دو قسم کے ہوتے ہیں : (۱) … دنیا کا عالم اور (۲) … آخرت کا عالم ۔ دنیا کا عالم اپنے علم کو پھیلاتا ہے جبکہ آخرت کا عالم اپنے علم کو چھپاتا ہے۔ پس عالم آخرت کی تلاش میں رہا کرو اور عالم دنیا سے بچا کرو تا کہ وہ تمہیں اپنے نشے میں مدہوش کر کے راہِ حق سے روک نہ دے۔ اس کے بعد آپ نے قرآنِ کریم کی یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ- (پ۱۰، التوبہ: ۳۴)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اے ایمان والو بیشک بہت پادری اور جوگی لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔
پھر ارشاد فرمایا کہ احبار سے مراد علما اور رہبان سے مراد زاہدین ہیں ۔ ([7])
طالب علم تین طرح کے ہوتے ہیں :
حضرت سیِّدُنا سہل بن عبد اللہ تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ طالب علم تین طرح کے ہوتے ہیں :
(۱) … ایک طالب علم علمِ ورع و تقویٰ اس لئے حاصل کرتا ہے تا کہ شبہات میں مبتلا ہونے سے بچ سکے، پھر حرام کے خدشہ کے پیشِ نظر حلال کو بھی چھوڑ دیتا ہے۔ ایسا شخص متقی اور
[1] ۔ البحر الزخار بمسند البزار، مسند عمر بن الخطاب، الحدیث: ۳۰۵، ج۱، ص۴۳۴المعجم الصغیر للطبرانی، الحدیث: ۱۰۲۱، ج۲، ص۹۳ بدون اتقوا۔ وبتغیر
[2] ۔ الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد عمر بن خطاب، الحدیث: ۶۳۰، ص۱۴۸
[3] ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم الخ، ج۱، ص۶۱۶
[4] ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع