30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھی: (اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌؕ (پ۹، الاعراف: ۱۳۸) ) ([1]) حالانکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عظیم نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ یعنی سمندر کا پھٹنا، ان کا اس میں پیدا ہونے والے راستوں پر چلنا اور یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں غرق ہونے سے بچا لیا اور فرعون کو ہلاک کر دیا۔ چنانچہ،
کسی آسمانی کتاب میں مروی ہے کہ ’’اے بنی اسرائیل! یہ مت کہو کہ علم آسمان میں ہے، کون اسے وہاں سے اتارے گا؟ اور نہ ہی یہ کہو کہ علم زمین کی تہ میں ہے، کون وہاں سے نکال کر لائے گا؟ اور نہ یہ کہو کہ علم سمندر کے اُس پار ہے، کون سمندر عبور کر کے اسے لائے گا؟ بلکہ علم تو تمہارے دلوں میں ہے۔ میرے سامنے روحانی لوگوں کی طرح مؤدب بن جاؤ اور میری خاطر خود کو صدیقین کے اخلاق سے مزین کر لو، میں علم تمہارے دلوں میں ظاہر فرما دوں گا یہاں تک کہ وہ تمہیں ڈھانپ لے گا اور تم پر چھا جائے گا۔ ‘‘ ([2])
انجیل میں ہے کہ’’جو بات ابھی تک معلوم نہیں اسے مت جانو یہاں تک کہ جو جانتے ہو اس پر عمل کرنے لگو۔ ‘‘ ([3])
مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اس شے کا بھی علم عطا فرما دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا۔ ‘‘ ([4]) اور ایک روایت میں ہے کہ’’جس نے اپنے علم کے دسویں حصے پر عمل کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے اس شے کا بھی علم عطا فرما دیتا ہے جس سے وہ جاہل ہوتا ہے۔ ‘‘ ([5]) حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’آج تم جس زمانے میں ہو اس میں اگر کوئی اپنے علم کے دسویں حصے پر عمل کرنا چھوڑ دے تو ہلاک ہو جائے اور تمہارے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں اگر کوئی اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل کرے گا تو نجات پا جائے گا۔ ‘‘ ([6]) اس کا سبب عاملین کا کم ہو جانا اور باطل پسندوں کا زیادہ ہوجانا ہے۔ چنانچہ اس کے متعلق قرآنِ کریم میں اجمالاً اور مختصراً مذکور ہے:
(۱) وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُؕ- (پ۳، البقرۃ: ۲۸۲)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے۔
(۲) وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا (پ۲، البقرہ: ۱۹۴)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو۔
(۳) وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْاؕ- (پ۷، المآئدۃ: ۱۰۸)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو۔
علم پر عمل کرنے والوں کے چار مقام:
٭…جو اپنے علم پر عمل کرے یا اس کے مطابق گفتگو کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں اس کی حقیقت پا لے تو اس کے لئے دو اجر ہیں : ایک اجر توفیق کا اور دوسرا عمل کا۔ یہ مقامِ عارفین ہے۔
٭…لیکن جو شخص جاہلانہ گفتگو کرے یا جہالت پر عمل کرے اور حقیقت کے ادراک میں غلطی کرے تو اس پر دو بوجھ ہیں ، یہ مقامِ جہال ہے۔
٭…اور وہ شخص جس کا قول یا فعل اس کے علم کے مطابق ہو اور اس کے باوجود وہ حقیقت پانے میں غلطی کر جائے تو اس کے لئے علم کی وجہ سے ایک اجر ہے، یہ علمائے ظاہر کا مقام ہے۔
٭…لیکن جس شخص کا قول یا عمل تو جہالت پر مبنی ہو مگر وہ حقیقت پا لے تو اس پر ترکِ علم کی وجہ سے ایک بوجھ ہو گا، یہ جاہل عابدوں کا مقام ہے۔
عالم ایک حاکم کی طرح ہوتا ہے۔ چنانچہ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حکام (لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے والوں ) کی تین اقسام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’فیصلہ کرنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں : (۱) … ایک وہ ہے جو حق بات کا فیصلہ اُسے پہچان کر کرتا ہے، یہ جنتی ہے اور (۲) … ایک وہ ہے جو جان بوجھ کر ظلم کا فیصلہ کرتا ہے یا (۳) … وہ اپنی لا علمی میں ظلم کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ یہ دونوں جہنمی ہیں ۔ ‘‘ ([7])
اللہعَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان (یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًاؕ-وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ خَیْرٌؕ-ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ
[1] ۔ ترجمۂ کنز الایمان: ہمیں ایک خدا بنادے جیسا ان کے لئے ا تنے خدا ہیں۔
[2] ۔ احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم الخ، ج۱، ص۱۰۲
اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم الخ، ج۱، ص۶۶
[3] ۔ الآداب الشرعیۃ لابی عبداللہ شمس الدین، فصل فی قیام اھل الحدیث الیل و خشوعھم، ج۲، ص۲۶
[4] ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۴۵۵احمد بن ابی الحواری، الحدیث$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع