دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ (پ۶،  النسآء:  ۱۶۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہاں   جو اُن میں   علم میں   پکّے اور ایمان والے ہیں   وہ ایمان لاتے ہیں   اُس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اُترا اور جو تم سے  پہلے اترا اور نماز قائم رکھنے والے اور زکوٰۃ دینے والے۔

        معلوم ہوا کہ مومنین ہی علم میں   پختہ،   نماز پڑھنے والے اور زکوٰۃ دینے والے ہیں   وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب اوصاف علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ہیں   اور ایسا ہی مفہوم ایک دوسری جگہ بھی مذکور ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ-   (پ۳،  اٰل عمران:  ۷)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور پختہ علم والے کہتے ہیں   ہم اس پر ایمان لائے۔

        یہاں   علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ایمان سے  متصف ہونے کا ذکر ہے جیسا کہ مومنین کے علم سے  متصف ہونے کا ذکر گزشتہ آیتِ مبارکہ میں   فرمایا ۔ ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ (پ۲۱،  الروم:  ۵۶)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بولے وہ جن کو علم اور ایمان مِلا ۔

        حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’میری امت کے پانچ طبقات ہیں  ،   ہر طبقہ چالیس سال کا ہو گا۔ میرا اور میرے صحابہ کا طبقہ اہلِ علم اور اہلِ ایمان کا طبقہ ہے،   جبکہ ان کے بعد 80 سال تک کے لوگ نیکوکار اور متقین ہوں   گے اور جو ان کے بعد 120 سال تک کے لوگ ہیں   وہ آپس میں   ہمدردی اور صلہ رحمی کرنے والے ہوں   گے۔ ‘‘  ([1])

        پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں   علم اور ایمان کو اکٹھا ذکر فرمایا اور ان دونوں   کو بقیہ تمام طبقات پر مقدم ٹھہرایا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بھی قرآنِ کریم میں   ایمان کا تذکرہ قرآنِ کریم جو کہ ایک علم ہے کے ساتھ ملا کر کیا ہے،   جیسا کہ ایک جگہ قرآنِ کریم کا تذکرہ ایمان کے متصل بعد کیا اور ارشاد فرمایا:

كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ- (پ۲۸،  المجادلۃ:  ۲۲)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: جن کے دلوں   میں   اللہنے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے  ان کی مدد کی۔

        منقول ہے کہ یہاں   روح سے  مراد قرآنِ کریم ہے اور ایسی مثالیں   قرآنِ کریم میں   بہت زیادہ ہیں  ۔ چنانچہ،   

            ایک مقام پر ہے:

مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا (پ۲۵،  الشورٰی:  ۵۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اس سے  پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے

نہ احکام شرع کی تفصیل ہاں   ہم نے اسے  نور کیا۔

        ایک روایت میں   ہے کہ شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جو ایمان والے ہیں   وہی قرآن والے ہیں   اور جو قرآن والے ہیں   وہی اللہ والے اور اس کے خاص بندے ہیں  ۔ ‘‘  ([2])

خود کو عالم کہنا جہالت ہے: 

            مروی ہے کہ ایک مرتبہ خلیفہ مہدی کے ساتھ جب حضرت سیِّدُنا سفیان بن حسین رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تشریف لائے جن کا شمار اس وقت کے جید علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   ہوتا تھا،   تو خلیفہ مہدی نے ان سے  سوال کیا:  ’’کیا آپ عالم ہیں  ؟ ‘‘  آپ چپ رہے،   اسنے دوبارہ سوال کیا پھر بھی آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ چنانچہ عرض کی گئی: ’’کیا آپ امیر المومنین کو جواب نہ دیں   گے؟ ‘‘  تو آپ نے فرمایا: ’’انہوں  نے مجھ سے  ایک ایسا سوال دریافت کیا ہے جس کا جواب میرے پاس نہیں  ،   کیونکہ اگر میں   کہتا ہوں   کہ میں   عالم نہیں   ہوں   حالانکہ میں  نے کتاب اللہ پڑھ رکھی ہے تو اپنے اس قول میں   جھوٹا ہوں   گا اور اگر یہ کہتا ہوں   کہ میں   عالم ہوں  تو اس طرح جاہل شمار ہوں   گا۔ ‘‘   ([3])

علم اور خشیت: 

            حضرت سیِّدُنا ربیع بن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آیتِ مبارکہ (اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ-  (پ۲۲،   فاطر:  ۲۸) )   ([4]) کی تفسیر میں   فرماتے ہیں   کہ جس کے دل میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خشیت نہ ہو وہ عالم نہیں   ہو سکتا ([5])         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  حضرت سیِّدُنا داود عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دعا مانگتے ہوئے عرض کی: ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! تونے علم کو اپنی خشیت اور حکمت کو اپنی ذات پر ایمان لانا قرار دیا ہے،   اب جس کے دل میں   تیری خشیت نہ ہو اس کے پاس کوئی علم نہیں   اور جو تجھ



[1]    ۔ سنن ابنِ ماجہ، ابواب الفتن، باب الآیات، الحدیث: ۴۰۵۸، ص۲۷۲۱

[2]    ۔ سنن ابنِ ماجہ، کتاب السنۃ، باب فضل من تعلم القرآن و علمہ، الحدیث: ۲۱۵، ص۲۴۹۰ بدون ’’اھل الایمان‘‘

[3]    ۔ تاریخ بغداد، الرقم۴۷۶۲سفیان بن حسین، ج۹، ص۱۵۱ بتغیر

[4]    ۔ ترجمۂ کنز الایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔

[5]    ۔ تفسیر القرطبی،  پ۲۲، فاطر، تحت$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن