دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

خاموشی کی فضیلت اور علوم میں  اہلِ ورع وتقوٰی کا طریقہ

علم کی قسمیں  : 

        حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’علم کی تین قسمیں   ہیں  : کتابِ ناطق،   سنت قائمہ اور  (لَاۤ اَدْرِی)   (یعنی میں   نہیں   جانتا)  کہنا۔ ‘‘  ([1])

        امام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ  (لَاۤ اَدْرِی)  کہنا نصف علم ہے۔ یعنی ایسا کہنا تقویٰ میں   سے  ہے۔([2])   حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے تھے: ’’ علم در حقیقت ثقہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے  حاصل ہونے والی رخصت کا نام ہے اور باقی رہا سختی کا معاملہ تو اسے  ہر کوئی اچھی طرح جانتا ہے۔ ‘‘   ([3])  یعنی امور میں   توقف کرنا اور ان سے  بچنا عام مومنین کی سیرت ہے،   اگرچہ وہ علما نہ بھی ہوں  ۔

ورع و یقین سے  مراد:

            ورع کا مطلب یہ ہے کہ شبہات کی جانب پیش قدمی کرنے سے  ڈرنا اور مشکل امور کے وقت سکون یا سکوت کے ذریعے توقف کرنا اور یقین سے  مراد یہ ہے کہ اشیاءکی جانب بصیرت و قدرت سے  پیش قدمی کرنا اور علم و خبر کی بنا پر معاملہ کا قطعی ہونا۔ یہ اوصاف ان علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ہیں   جن کے علم کو ثقہ جانا جاتا ہے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ ایسا کام بخوبی سر انجام نہیں   دے سکتے۔ چنانچہ، 

        امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے اپنے صاحبزادے حضرت سیِّدُنا محمد بن حنفیہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو جنگِ جمل کے دن آگے بڑھنے کے لئے کہتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’آگے بڑھو آگے بڑھو۔ ‘‘  مگر وہ پیچھے ہٹتے جاتے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے نیزے سے  انہیں   وہیں   ٹھہرے رہنے کا کہتے۔ تو حضرت سیِّدُنا محمد بن حنفیہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے عرض کی: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ جنگ تو ایک تاریک اور اندھا فتنہ ہے۔ ‘‘  تو امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے نیزہ چبھوتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’آگے بڑھ،   تیری ماں   نہ رہے! کیا وہ جنگ فتنہ ہو سکتی ہے جس کا سپہ سالار اور راہنما تیرا باپ ہو؟ ‘‘   ([4])

لا علمی کا اظہار نصف علم ہے: 

        بندہ جب کہتا ہے  (میں   نہیں   جانتا) ،   تو یقیناً اسنے اپنے علم پر عمل کیا اور اپنے حال پر قائم رہا،   پس اس کے لئے اس شخص کے برابر ثواب ہے جو علم جانتا ہو اور اپنے حال پر قائم رہتے ہوئے اور علم پر عمل کرتے ہوئے اسے  ظاہر کرے۔ لہٰذا یہی وجہ ہے کہ بندے کا قول  (میں   نہیں   جانتا)  نصف علم ہے اور اس لئے بھی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطرتقویٰ اختیار کرتے ہوئے کسی بندے کا خاموش ہو جانا اس شخص کے بولنے کی طرح حسین ہے جو احسان کی بنا پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کی خاطر کوئی علمی بات کرے۔ حضرت سیِّدُنا علی بن حسین اور حضرت سیِّدُنا محمد بن عجلان رَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالٰی فرماتے ہیں   کہ جب عالم (میں   نہیں   جانتا)  کہنے میں   غلطی کرتا ہے تو بھی اس کا قول صحیح ہوتا ہے۔ ‘‘  ([5])  اور ایسا ہی ایک قول امام مالک اور امام شافعی رَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالٰی سے  بھی مروی ہے۔

علم اور جہالت کے دَرَجات میں   تفاوت: 

            جس طرح عقل و دیوانگی میں   لوگوں   کے درمیان تفاوت پایا جاتا ہے اسی طرح علم و جہالت میں   بھی لوگ ایک دوسرے سے  مختلف ہوتے ہیں   اور جس طرح عقل مند و دانشور افراد اور علمائے کرام میں   طبقات کی درجہ بندی ہے اسی طرح مجنون ودیوانے افراد اور جاہلوں   کے بھی مختلف طبقات ہیں  ۔ جاہلوں   میں   سے  خواص جو عام علما کے مشابہ دکھائی دیتے ہیں  ،   وہ عام لوگوں   کو شبہ میں   مبتلا کر دیتے ہیں   یہاں   تک کہ وہ اِنہیں   بھی علما ہی گمان کرنے لگتے ہیں  ۔ جبکہ ایسے  لوگوں   کی حقیقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا علم رکھنے والے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام پر واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح عارفین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بھی عام علما کے نزدیک مشتبہ نظر آتے ہیں   مگر ان کی حقیقت اہلِ یقین پر ظاہر ہوتی ہے۔

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ علم کی دو قسمیں   ہیں  :  (۱) … حکمرانوں   کا علم اور  (۲) … اہلِ تقویٰ کا علم۔ حکمرانوں   کا علم،   علمِ قضایا ہے اور متقین کا علم،   علمِ یقین و معرفت ہے۔

علم و ایمان ایک ہی شے ہیں  :

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مومنین کے علم کے اوصاف اور علمِ ایمان کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ- (پ۲۸،  المجادلۃ:  ۱۱)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہ تمہارے ایمان والوں   کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔

        پس ایمان والوں   کو علما قرار دیا جو اس بات پر دلیل ہے کہ علم اور ایمان ایک دوسرے سے  الگ اور جدا نہیں   ہیں  ۔ اس قسم کی مثالیں   قرآنِ کریم میں   بہت زیادہ ہیں  ۔ چنانچہ مومنین کے اوصاف کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

 



[1]    ۔ المعجم الاوسط، الحدیث: ۱۰۰۱، ج۱، ص۲۸۴  سنۃ قائمۃ بدلہ سنۃ ماضیۃ

[2]    ۔ سنن الدارمی، المقدمۃ، باب فی الذی یفتی الناس      الخ، الحدیث: ۱۸۰، ج۱، ص۷۴

[3]    ۔ التمھید لابن عبدالبر، باب المیم، محمد بن شھاب الزھری، تحت الحدیث: ۱۸۲، ج۳، ص۵۴۲

[4]    ۔ غرر الخصائص الواضحۃ، الباب الحادی عشر فی الشجاعۃ، الفصل الثانی، ص۱۸۱

[5]    ۔ جامع بیان العلم و فضلہ، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن