دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

کا بیج بو دیتے ہیں  ۔ ٭علم نے ان کے سبب حقیقت ِ امر تک رسائی حاصل کی تو انہوں  نے روحِ یقین کو آگے بڑھ کر گلے سے  لگا لیا ٭انہوں  نے اس بات کو آسان جانا جسے  عیش پسندوں  نے مشکل جانا اور انہیں   اس بات سے  انس محسوس ہوا جس سے  غافلین کو وحشت محسوس ہوئی ٭انہوں  نے دنیا کی ہم نشینی اختیار کی لیکن ایسے  بدنوں   کے ساتھ جن کی روحیں   مقامِ اعلیٰ و ارفع سے  تعلق رکھتی ہیں   ٭ یہ ایسے  لوگ ہیں   جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ساری مخلوق میں   سے  اس کے دوست ہیں  ،   زمین میں   اس کے احکام نافذ کرنے والے اور اس کے دین کی دعوت دینے والے ہیں  ۔ ‘‘ 

            یہ فرما کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اشکبار ہو گئے،   پھر ارشاد فرمایا:  ’’مجھے ایسے  لوگوں   کے دیدار کا بہت شوق ہے۔ ‘‘   ([1])

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی اس طویل روایت میں   علمائے آخرت کے اوصاف اور علمِ باطن و علمِ قلوب کی صفات مذکور ہیں   نہ کہ علمِ لغت کی۔

علم الٰہی کے اوصاف: 

            حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  علمِ الٰہی کے اوصاف میں   ایک روایت مروی ہے کہ پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’علم حاصل کرو کیونکہ اس کا حاصل کرنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خشیت،   اسے  طلب کرنا عبادت،   اس کا درس دینا تسبیح،   اس میں   بحث کرنا جہاد،   بے علم کو علم سکھانا صدقہ اور اس کی اہلیت رکھنے والوں   تک اسے  پہنچانا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ یہ تنہائی میں   غمخوار،   خلوت کا ساتھی،   خوشی و غمی پر دلیل،   دوستوں   کے ہاں   زینت،   اجنبی لوگوں   کے ہاں   قرابتدار اور راہِ جنت کا مینار ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے باعث قوموں   کو بلندیوں   سے  نوازتا ہے اور انہیں   نیکی و بھلائی کے کاموں   میں   ایسا راہنما اور ہادی بنا دیتا ہے کہ ان کی پیروی کی جاتی ہے،   ہر خیر و بھلائی کے کام میں   ان سے  راہنمائی لی جاتی ہے،   ان کے نقشِ قدم پر چلا جاتا ہے،   ان کے اعمال و افعال کی اقتدا کی جاتی ہے،   ان کی رائے حرفِ آخر ہوتی ہے،   فرشتے ان کی دوستی کو مرغوب جانتے ہیں   اور انہیں   اپنے پروں   سے  چھوتے ہیں  ،   ہر خشک و تر شے یہاں   تک کہ سمندر کی مچھلیاں  ،   کیڑے مکوڑے،   خشکی کے درندے اور جانور،   آسمان اور ستارے سب ان کی مغفرت چاہتے ہیں  ۔ اس لئے کہ علم اندھے دلوں   کی زندگی،   تاریک آنکھوں   کا نور اور کمزور بدنوں   کی قوت ہے۔ بندہ اس کے سبب نیک لوگوں   کے مراتب اور بلند درجات تک جا پہنچتا ہے۔ علم میں   غوروفکر کرنا روزے رکھنے کے برابر اور اسے  پڑھانا رات کے قیام کے مساوی ہے۔ علم کے ذریعے ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت و فرمانبرداری ہوتی ہے،   اسی سے  توحید اور ورع و تقویٰ ملتا ہے،   اسی کے سبب صلہ رحمی کی جاتی ہے،   علم امام ہے اور عمل اس کا تابع۔ علم نیک بخت لوگوں   کے دلوں   میں   ڈالا جاتا ہے جبکہ بدبختوں   کو اس سے  محروم رکھا جاتا ہے۔ ‘‘  ([2])

            پس اس حدیث ِ پاک میں   بھی علمائے آخرت اور علمِ باطن کے اوصاف مروی ہیں  ۔

اشراف خیانت نہیں   کرتے: 

            خلفائے اربعہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بعد سب سے  افضل خلیفہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْعَزِیْز ہیں  ،   آپ نے حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جانب ایک خط لکھا کہ مجھے ایسے  لوگوں   کے بارے میں   مشورہ دیجئے جن سے  میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے احکام نافذ کرنے میں   مدد حاصل کر سکوں   تو انہوں  نے جواب دیا: ’’دیندار لوگ تمہارے پاس آنا پسند نہ کریں   گے اور دنیا داروں   کا آنا تمہیں   پسند نہ ہو گا،   لہٰذا تم پر لازم ہے کہ اشراف سے  مدد حاصل کرو کیونکہ انہوں  نے اپنی شرافت کو خیانت کی آلودگی سے  بچا رکھا ہے۔ ‘‘([3])

            حضرت سیِّدُنا بشر رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ لفظِ  (حَدَّثَنَا)  دنیا کے دروازوں   میں   سے  ایک دروازہ ہے۔ جب تم کسی شخص کو یہ کلمہ یعنی  (حَدَّثَنَا)  کہتے سنو تو جان لو کہ وہ کہہ رہا ہے میرے لئے کشادگی پیدا کرو۔([4])

            ان سے  پہلے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَلِی علمائے ظاہر سے  فرمایا کرتے تھے کہ علم ظاہر کا حصول آخرت کا زادِ راہ نہیں   ہے۔ ([5])

حصولِ علم کی شرائط: 

            حضرت سیِّدُنا ابن وہب رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس حصولِ علم کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’یقیناً علم حاصل کرنا اچھی چیز ہے اور اس کا پھیلانا بھی بہت خوب ہے لیکن اس میں   نیت کا صحیح ہونا شرط ہے اور یہ بھی پیشِ نظر رکھو کہ صبح سے  شام تک اور شام سے  صبح تک جو فرائض تم پر لازم ہیں   ان پر ہر گز کسی شے کو ترجیح نہ دو۔  ([6])

            حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں   کہ جب کوئی شخص  (شاذ اور منکر)  حدیث کا علم حاصل کرے یا شادی کی خواہش رکھے یا طلبِ معاش کی خاطر سفر



[1]    ۔ تاریخ مدینۃ دمشق ، الرقم۵۸۲۹ كميل بن زياد، ج۵۰، ص۲۵۵ بتغیر

[2]    ۔ جامع بیان العلم و فضلہ، باب جامع فی فضل العلم، الحدیث: ۲۴۰، ص۷۷ بتغیر

[3]    ۔ احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم     الخ، ج۱، ص۹۹

[4]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم     الخ، ج۱، ص۵۸۷

[5]    ۔ اتحاف السادۃ المتقین، الباب الثانی فی العلم المحمود     الخ، بیان العلم الذی ھو فرض کفایۃ، ج۱، ص۲۵۱

[6]    ۔ الفقیہ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن