دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

            سرکارِ دو جہاں   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب اس جہانِ فانی سے  پردہ فرمایا تو اس وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والے ہزاروں   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان موجود تھے،   انہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے  علمِ فقہ کی دولت کے علاوہ اس کی رضا بھی حاصل تھی مگر ان میں سے  دس سے  کچھ زائد افراد کے علاوہ کسینے فتویٰ دینے کی کوشش میں   نفس کو تھکایا نہ منصبِ قضا سنبھالا۔ چنانچہ اس کے متعلق بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اقوال ذیل میں   مذکور ہیں  :

            حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  جب فتویٰ پوچھا جاتا تو آپ فرمایا کرتے:  ’’امیر کے پاس جاؤ جس کی گردن میں   لوگوں   کے امور کے ہار ڈالے گئے ہیں   اور اسے  بھی اسی کی گردن میں   ڈال دو۔  ‘‘  

            حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر کئی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے  ایسے  ہی اقوال مروی ہیں  ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص لوگوں   کے پوچھے گئے ہر فتویٰ کا جواب دیتا ہے یقیناً مجنوں   ہے۔  ([1]) حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  دس سوال پوچھے جاتے تو وہ صرف ایک سوال کا جواب دیتے اور نو کا جواب نہ دیتے۔  ([2])

            حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  اس کے برعکس مروی ہے ان سے  دس سوال پوچھے جاتے تو وہ نو کا جواب دیتے اور ایک کا جواب نہ دیتے۔ اسی طرح بعض فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ایسے  تھے جن کا قول  (لَاۤ اَدْرِیْ)   ’’یعنی میں   نہیں   جانتا ‘‘  ان کے قول  (اَدْرِیْ)  ’’یعنی میں   جانتا ہوں   ‘‘  سے  زیادہ ہوتا۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری،   حضرت سیِّدُنا مالک بن اَنس،   حضرت سیِّدُنا احمد بن حنبل،   حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض اور حضرت سیِّدُنا بشر بن حارث رَحِمَہُمُ اللہُ الْوَارِث بھی انہی فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   سے  ہیں  ۔ یہ سب اپنی مجالس میں   بیٹھا کرتے تو بعض سوالوں   کا جواب دیتے اور بعض کا نہ دیتے یعنی ہر پوچھی گئی بات کا جواب نہ دیتے۔  ([3])

            حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَعْلٰی فرماتے ہیں   کہ میں  نے مسجد ِ نبوی میں  120 صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو پایا مگر ہر ایک کی کیفیت یہ تھی کہ اگر ان سے  کوئی حدیثِ پاک یا فتویٰ پوچھا جاتا تو وہ چاہتا کہ اس کے بجائے کوئی دوسرا صحابی ہی اس کا جواب دے۔  ([4]) اور ایک روایت میں   ہے کہ ان میں   سے  کسی سے  کوئی سوال کیا جاتا  تو وہ اسے  دوسرے صحابی کے سامنے پیش کر دیتا اور وہ آگے کسی تیسرے صحابی کے سامنے پیش کر دیتا یہاں   تک کہ وہ سوال لوٹ کر واپس پہلے صحابی کے پاس آ جاتا۔  ([5])

فتویٰ کون دے؟

            رسولِ بے مثال،   محبوبِ ربِّ ذو الجلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’تین بندوں   کے علاوہ کوئی شخص فتویٰ نہ دے: یعنی  (۱) …اَمِیْر  (۲) … یا مَاْمُور  (۳) … یا مُتَکَلِّف۔ ‘‘  ([6])

حدیثِ پاک کی شرح: 

            حدیث ِ پاک کی شرح میں   ہے کہ ’’اَمِیْر ‘‘   (حکمران)   سے  مراد وہ شخص ہے جس کا تعلق علمِ فتویٰ اور علمِ احکام سے  ہوتا ہے،   کیونکہ اُمرا  (حکمرانوں  )  سے  ہی مسائل پوچھے جاتے ہیں   اور وہی شرعی راہنمائی بھی کرتے ہیں  ۔ ’’مَاْمُور ‘‘  وہ ہوتا ہے جسے  امیر  (حکمران)  ایسا کرنے کا حکم دے،   لہٰذا وہ اس کا نائب ہوتا ہے اور امیر  (حکمران)  کے رعیت کے دیگر معاملات میں   مشغول ہونے کی وجہ سے  اس معاملے میں   اس کی معاونت کرتا ہے۔ جبکہ ’’مُتَکَلِّف‘‘  سے  مراد وہ شخص ہے جو زمانہ ماضی کے قصے کہانیاں   سناتا ہے،   کیونکہ ان کی اس موجودہ زمانے میں   کوئی ضرورت نہیں   اور نہ ہی ایسے  علوم کا حصول مستحب ہے۔ بعض اوقات وہ ماضی کے واقعات میں   کمی بیشی کے علاوہ انہیں   حقیقت کے برعکس بھی بیان کر دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے  قصہ گوئی کو مکروہ کہا گیا ہے کیونکہ قصہ گو کو ’’مُتَکَلِّف ‘‘  یعنی جان بوجھ کر تکلف میں   پڑنے والا کہا جاتا ہے۔

            ایک حدیثِ پاک میں   اسی قسم کے مفہوم کی تاویل کچھ یوں   مروی ہے کہ ’’تین افراد کے علاوہ لوگوں   کے سامنے کوئی کلام نہیں   کرتا:  (۱) … امیر  (۲) … مامور اور  (۳) … مرائی۔ ‘‘  ([7])

             (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  یہاں’’اَمِیْر ‘‘  سے  مراد وہ شخص ہے  جو لوگوں   کے جھگڑوں   وغیرہ کے مسائل میں   شریعت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے جیسا کہ مذکور ہوا اور ’’مَاْمُور ‘‘  سے  مراد وہ شخص ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والا اور دنیا میں   زاہدانہ زندگی بسر کرنے والا ہو،   ایمان و یقین اور قرآنی علوم کی باتیں   کرتا ہو،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کے مطابق لوگوں   کو دینی کاموں   کی ترغیب دلاتا ہو۔ یہ اجازت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان سے  ثابت ہے:

وَ  اِذْ  اَخَذَ  اللّٰهُ  مِیْثَاقَ  الَّذِیْنَ  اُوْتُوا  الْكِتٰبَ  لَتُبَیِّنُنَّهٗ  لِلنَّاسِ   وَ  لَا  تَكْتُمُوْنَهٗ٘   (پ۴،   اٰل عمران:  ۱۸۷)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور یاد کرو جب اللہنے عہد لیا ان سے  جنہیں   کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے  لوگوں   سے  بیان کر دینا اور نہ چھپانا۔

 



[1]    ۔ جامع بیان العلم و فضلہ، باب تدافع الفتوی، الحدیث: ۱۲۲۰، ص۱۴۵۲

[2]    ۔ احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم   الخ، ج۱، ص۱۰۰

[3]    ۔ المرجع السابق

[4]    ۔ المرجع السابق    سنن الدارمی، مقدمۃ، باب من ھاب الفتیا     الخ، الحدیث: ۱۳۵، ج۱، ص۶۵

[5]    ۔ احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب السادس فی آفات العلم   الخ، ج۱، ص۱۰۰

[6]    ۔ المعجم الاوسط، الحدیث: ۴۰۶۲، ج۳، ص۱۲۳ لا یفتی بدلہ لا یقص

[7]    ۔ سنن ابن ماجہ، کتاب الادب، باب القصص، الحدیث: ۳۷۵۳، ص۲۷۰۱ لا یفتی بدلہ لا یقص

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن